Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

Infotainment

Find here post regarding Infotainment

Banana Peel Uses

- Posted in Infotainment by with comments

Banana Peel Uses Benefits include…

reducing cholesterol and preventing cardiovascular disease and strokes; the peel contains more fiber than the banana itself! boost your mood, as the peel contains amino acids to trigger your serotonin reduce the risk of cataracts and macular degeneration thanks to the banana peel’s lutein, a powerful antioxidant that protects your eyes You can also apply the banana peel to different parts of your body for some amazing benefits:

whiten your teeth by rubbing the inner part of the banana peel on your teeth on a daily basis reduce wrinkles by rubbing the banana peel on your face, leaving the residue on for about half an hour before washing it off eliminate warts by securing a piece of banana peel on the affected area with a bandage and leaving it overnight; repeat until the wart falls off sooth the itch and pain of bug bites by massaging the peel on the affected area Watch the video below for more details about the amazing health benefits of banana peels and don’t forget to share this with your family and friends!

enter image description here

چین کے ماہرین کاماننا ہے کہ پاؤں کی انگلیاں آپ کی پوری شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ آپ کسی بھی شخص کے پاؤں کی انگلیوں کے ذریعے اس شخص کی صحت ، بیماری، شخصیت غرض ہر ایک چیز کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پاؤں کی انگلیاں آپ کی شخصیت کے حوالے سے کیا کہتی ہیں؟ آیئے جانتے ہیں۔

٭ اگر آپ کی پاؤں کا انگوٹھا دیگر انگلیوں کے مقابلے میں بڑااور موٹا سا ہے۔ اس کا مطلب آپ بہت ذہین اور تخلیفی انسان ہیں اور آپ اپنے ارد گرد میں ہونے والی چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتے ہیں۔

٭ اگر آپ کا انگوٹھا دیگر انگلیوں کے مقابلے میں چھوٹا سا ہے تو اس کا مطلب آپ دوسروں سے بہت جلدی متاثر ہوجاتے ہیں اور آپ اپنی دنیا میں مگن رہنے والے انسان ہیں۔

٭ اگر آپ کی دوسری انگلی تمام انگلیوں سے بڑی ہے۔ اس کا مطلب آپ کا رویہ لیڈروں والا ہےاور ایسے لوگوں میں حکم چلانے کی عادت بہت زیادہ موجود ہوتی ہے۔

٭جن افراد کی دوسری انگلی چھوٹی ہے۔ وہ افراد بس اپنی من مانی کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ ان کی کوئی ہم آہنگی نہیں ہوتی۔

٭جن افراد کی تیسری انگلی دیگر انگلیوں سے بڑی ہوتی ہے۔ ایسے افراد جس چیز کی ٹھان لیتے ہیں۔ اس کام کو سرانجام کرکے ہی دم لیتے ہیں اور ایسے افراد ہر چیز میں کمال مہارت رکھتے اور چاہتے ہیں ہر چیز پرفیکٹ ہو۔

٭ اس کے برعکس وہ افراد جن کی تیسری انگلی چھوٹی ہوتی ہے۔ ایسے افراد اپنی زندگی کو بھرپور انجوئے کرتے ہیں۔ ایسے افراد اپنی زندگی کے ہر پہلو پر کام کرتے ہیں۔

٭جن فراد کی چوتھی انگلی دیگر انگلیوں سے بڑی ہوتی ہے۔ ایسے افراد کےلیے ان کی فمیلی سب کچھ ہوتی ہے۔ اگر چوتھی انگلی میں ذرا سا خم موجود ہے اس کا مطلب ایسے افراد کو رشتوں میں محبت کی کمی کا سامنا ہے۔لیکن یہ افراد بہت اچھے سننے والے ہوتے ہیں۔لوگ ان سے جو بھی بات کریں ،یہ افراد خاموشی سے ساری بات کو سنتے ہیں۔

٭جن افراد کی چوتھی انگلی چھوٹی ہوتی ہے۔ ایسے افراد کو نہ فیملی کی فکرہوتی ہے اور نہ ہی اپنے دوستوں کی۔ یہ افراد اپنی زندگی میں مست ہوتے ہیں۔

٭ جن افراد کی پاؤں کی آخری انگلی چھوٹی ہوتی ہے۔ ان افراد کا رویہ بچوں جیسا ہوتا ہے۔ یہ افراد کوئی بھی ذمہ داری نہیں لیتے اور ہر وقت ہنسی مذاق کرتے رہتے ہیں اور یہ لوگ چیزوں سے بہت جلدی بور بھی ہوجاتے ہیں۔

٭وہ افراد جو اپنے پاؤں کی آخری انگلی کو باآسانی حرکت دے سکتے ہیں۔ایسے افراد بہت بہادر اور موج مستی کرنے والے ہوتے ہیں

enter image description here برطانیہ میں حال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ لڑکوں کا دماغ یا لڑکیوں کا دماغ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی‘ بلکہ دونوں کے دماغ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جی ہاں‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساخت کے اعتبار سے دونوں کا دماغ ایک جیسا ہوتا ہے لیکن دونوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ معاشرے میں جنس کی بنیاد پر ان کیلئے طے کردار ہیں۔ یعنی لڑکے اور لڑکیوں کے دماغ کو الگ الگ بتانے کی کوئی سائنسی بنیاد ہی نہیں ہے۔ برطانیہ کے برمنگھم میں واقع ایشٹن یونیورسٹی میں پروفیسر اور عصبی سائنس کی ماہر شماررپن نے کہا ”مرد مریخ سے آئے ہیں اور خواتین سیارے سے‘ اس سوچ کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ ہمارے دماغ ان کے کردار کی وجہ سے مختلف ہیں‘ جسے نبھانے کیلئے معاشرہ ہم پر دباﺅ ڈالتا ہے اور جس کا تعین جنس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔“ رپن کے مطابق‘ اس طرح کی قدامت پسند سوچ کہ خواتین نقشہ نہیں پڑھ سکتیں اور مرد مختلف طرح کے کام نہیں کر سکتے‘ اس کا سائنس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ خواتین اور مرد صرف اس لئے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں وہاں جنس کی بنیاد پر کردار مسلط کر دیئے جاتے ہیں۔ سائنسی اعتبار سے ہم کسی دماغ کا انتخاب اس طرح نہیں کر سکتے کہ یہ لڑکیوں کا دماغ ہے اور یہ لڑکوں کا بلکہ وہ ایک طرح کے نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کو ان کی جنس کی بنیاد پر بچپن میں ہی کھلونے بھی مختلف طرح کے دیئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر لڑکیوں کو کھیلنے کیلئے باربی گڑیا دی جاتی ہے تو لڑکوں کو سپر ہیروز۔ یوں شروع ہی سے ان کی سوچ کو الگ الگ راستوں پر ڈال دیا جاتا ہے