Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

Counting the Cost - The China-Pakistan economic corridor

امیتابھ بچن نے بتایا ’’میری والدہ تیجی بچن فیصل آباد کی رہنے والی تھیں ،ان کا بچپن کراچی میں گذرا جبکہ اُنہوں نے پڑھائی لاہور میں کی اور میں دوسال کی عمر میں اپنی ماں کے ساتھ کراچی اور فیصل آباد آیا تھا‘‘۔ نامور کرکٹر حنیف محمد اپنے بیٹے شعیب محمد کی بیٹنگ دیکھ رہے تھے کہ اچانک شعیب نے ایک اونچا شاٹ کھیلا ، حنیف محمد بولے ’’ دیکھ کر کھیل بیٹا ایسا کرے گا تو بھوکا مرے گا‘‘۔ جن دنوں منوّں بھائی کا ڈرامہ ’’پ سے پہاڑ ‘‘پی ٹی وی پر چل رہا تھا ،انہی دنوں ایک خاتون نے انہیں ٹیلی فون کر کے کہا’’ کیا آپ وہی منوّں بھائی ہیں جنہوں نے پ سے پہاڑ لکھا ہے ‘‘ منوّ ں بھائی نے جواب دیا ’’ جی ‘‘ تو پھر’ د سے دُرفٹّے منہ‘، یہ کہہ کر خاتون نے فون بند کر دیا‘‘ ۔ افتخار عارف نے جوش ملیح آبادی سے کہا ’’مشاعرے والے دن ہم آپ کو گھر چھوڑ یں گے‘‘ جوش صاحب قہقہہ مار کر بولے’’ چھوڑ ے تو کتے جاتے ہیں‘‘۔جنرل ضیاء کے جنازے کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے عبیداللہ جذبات کی رو میں یہ بھی کہہ گئے ’’آج جنرل ضیاء الحق زندہ ہوتے تو خود دیکھتے کہ انہیں الوداع کہنے کیلئے کتنے لوگ جمع ہیں ‘‘۔ صد ر غلام اسحق خان کی وہ تقریر جس میں اُنہوں نے نواز حکومت برطرف کی تھی ، اس تقریر کی کیسٹ چھپا کر شاہد رفیع خود غائب ہوگئے۔ ضیاء الحق کا مارشل لاء لگا تو پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پرجس کپتان کی ڈیوٹی لگی، بہت جلد ہی ٹی وی کے لوگ اس کی سادگی اور خوش اخلاقی کے گرویدہ ہوگئے ۔ یہاں سے جانے کے بعد بھی یہ کپتان ایک عرصے تک ٹی وی کے لوگوں کو عید کارڈ بھیجتا رہا ۔اسکا نام تھا کیپٹن اشفاق پرویز کیانی۔مصلح الدین نے جنرل مجیب الرحمان سے کہا’’ کیمرے کیلئے لائٹ چاہیئے اور یہ کام صرف ایمان کی روشنی سے تو ہو نہیں سکتا ‘‘۔ جب فیض احمد فیض اور احمد فراز ملنے کیلئے ٹی وی سنٹر آئے تو مجھے شوکاز نوٹس مِلا کہ ’’پابندی کے باوجود یہ دونوں ٹی وی سنٹر کیوں آئے‘‘،میں نے جواب دیا ’’ فیض اور فراز کا آنا جرم نہیں، اعزاز کی بات ہے ‘‘۔ یہ کٹھی میٹھی باتیں اختر وقار عظیم کی کتاب ’’ ہم بھی وہیں موجود تھے ‘‘ سے لی گئی ہیں۔جہاں خوشی کی بات یہ کہ پروڈیوسر سے منیجنگ ڈائریکٹر تک پہنچنے والے پی ٹی وی کے عروج کے چشم دید گواہ اختر بھائی نے کتاب لکھ دی ، وہاں افسوس یہ بھی کہ ایک تو یہ کتاب مزید بہتر لکھی جا سکتی تھی اوردوسرا اُنہوں نے وہی سچ لکھا جو سب کیلئے قابلِ قبول تھا ورنہ یحییٰ خان سے جنرل مشرف تک ملک کے اکلوتے ٹیلی ویژن پر کیمروں کے آگے اور پردہ سکرین کے پیچھے کیا کچھ نہیں ہوا ہوگا ، کاش ’’پُولی پُولی ‘‘گیندیں کروانے کے ساتھ ساتھ اختربھائی ایک آدھ’’ یار کر‘‘ بھی مار دیتے یا دو چار باونسئرہی پھینک دیتے مگر شائد ان کا بھی قصور نہیں کیونکہ ایک تو خاندانی تربیت اور اوپرسے یہ خود نرم مزاج اور صلح جو اور پھر پی ٹی وی کی ملازمت ، بندہ بھلے پی ٹی وی سے نکل جائے مگر پی ٹی وی اس سے نہیں نکلتا۔ البتہ یہ کریڈٹ انہی کو جاتا ہے کہ اپنی 35سالہ ملازمت میں وہ ہر عہدے پر رہے مگر اُنہوں نے کبھی کوئی عہدہ خود پر حاوی نہیں ہونے دیا ۔ اسی کتاب میں یہ بھی موجود کہ پی ٹی وی سنٹر پر تقریر یں ریکارڈ کراتے وقت حکمرانوں کے رویئے کیسے ہوا کر تے تھے ۔جیسے اپنے لباس کا خاص خیال رکھنے والے یحییٰ خان ایک بار گھر سے بال بنا کر آئے تو میک اپ مین نے کنگھی پکڑ کرجونہی ہاتھ ان کے سر کی طرف بڑھایاتو یہ غصے سے بولے ’’میرے بالوں کو ہاتھ مت لگانا‘‘ ۔بھٹو صاحب کسی تکلف میں نہیں پڑاکرتے تھے ،اِدھر وہ ٹی وی سنٹرپہنچتے اور اُدھر تقریر شروع ہو جاتی ۔ جنرل ضیا ء الحق اپنی شیروانی کے حوالے سے اتنے حساس تھے کہ ایک بار ٹی وی پر اپنی تقریر دیکھتے ہوئے اُنہوں نے اندازہ لگالیا کہ انکی شیر وانی میں ہلکا سا جھول ہے لہذا اگلے دن ہی اُنہوں نے درزی کو بلا کر اسے خوب جھاڑا ۔ ضیا ء صاحب ایک بار ایوانِ صدر سے وہ کرسی بھی ساتھ لے کر آئے کہ جس پر بیٹھ کر اُنہوں نے تقریر ریکارڈ کروائی ۔لیموں پانی کے شوقین وزیراعظم جونیجو بڑی خاموشی سے آتے اور ریکارڈنگ کروا کر اُسی خاموشی سے چلے جاتے ۔بے نظیر بھٹو تقریر کے وقت کسی کی مداخلت پسند نہ کرتیں جبکہ نواز شریف کو سب مشورے دیتے اور وہ سب کی سنتے۔ اختر وقار عظیم کے مطابق آخری دنوں میں ضیاء الحق انتہائی محتاط ہو گئے تھے ،وہ ایوانِ صدر سے کم کم ہی نکلتے اور تو اور اُنہوں نے 14اگست کی تقریب بھی ایوانِ صدر شفٹ کروالی ۔ ’’ہم بھی وہیں موجود تھے ‘‘ میں ضیاء حکومت کے سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمن کا ذکر بھی ۔ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف اور پی پی والوں کو نکما اور نکھٹو سمجھنے والے جنرل مجیب کو اگر کوئی پسند نہ آتا یا اگر وہ سمجھتے کہ فلاں شخص حکومت مخالف ہے تو یہ اس کے بارے میں بس اتنا کہتے ’’ معصوم آدمی ہے‘‘ ۔ ایک بار پاک بھارت کرکٹ میچ میں جب وسیم راجہ نے سنچری بنائی تو وسیم راجہ کو ملنے کیلئے جنرل مجیب جب کھلاڑیوں کی پولین میں آئے تو وسیم راجہ ایک کونے میں لیٹے ہوئے تھے ،ٹیم منیجر نے تعارف کرایا تو راجہ نے بس وہیں سے ہاتھ آگے بڑھا دیا ۔ جنرل مجیب نے جب صدر ضیاء کی طرف سے مبارکباد دی تو وسیم راجہ نے لیٹے لیٹے ہی کہا ’’ ان سے میری بات ہو چکی ہے ‘‘،واپسی پر جنرل مجیب نے اپنے سٹاف آفسر سے کہا ’’ یہ کھلاڑی تو بڑا ہے مگر معصوم آدمی ہے ‘‘۔ آپ کو اسی کتاب میں یہ بھی ملے گا کہ کیسے زین ضیاء کی وجہ سے اختر وقار عظیم معطل ہوئے ، کیسے مسکراتے ہوئے ضیاء نے جونیجو حکومت گھر بھیج دی اور غلام اسحق خان کے وہ 4منٹ جن میں بے نظیر بھٹو حکومت برطرف کر دی گئی ، اسی کتاب میں آپ یہ بھی پڑھیں گے کہ راولپنڈی پولنگ اسٹیشن پر روئیداد خان نے کیا دیکھا ،فخر امام کی کرکٹ کمنٹیٹرکیسی تھی ، ڈاکٹر اے کیو خان سے ٹی وی پر معافی منگوانے والے دن اختر وقارعظیم اور شیخ رشید مظفر آباد کیوں گئے ، پڑھائی مکمل کرکے آنے والی بے نظیر بھٹو پی ٹی وی پروگرام "Encounter"کی میزبان کیسے بنیں ،بحیثیت وزیراعظم بی بی نے پی ٹی وی سنٹر پر 9بجے کا خبرنامہ خود کیوں تیار کیااور بی بی نے ویگنوں کے اڈے سے کیا منگوایااور اسی کتاب میں یہ بھی کہ جنرل مشرف کے مارشل لاء والی رات پی ٹی وی سنٹر پر کیا ہوا ، جون ایلیا نے اختر وقار عظیم کو کیوں نہ پہچا نا ، معین اختر اپنے دل کے ٹیسٹ کروانے والے دن کیوں غائب ہو گئے اور جگر مراد آبادی سے صوفی تبسم تک اختر بھائی کے گھر ادیبوں اور شاعروں کی محفلوں میں کیا کیا ہواکرتا ، یہ اور اسی طرح کا اور بہت کچھ اسی کتاب میں ۔لیکن جب سے میں نے اختر وقار عظیم کی کتاب میں بے نظیر بھٹو کے حوالے سے پڑھا تب سے سوچ رہا ہوں کہ بھٹو خاندان کی بدنصیبیاں تو اپنی جگہ مگر بی بی کے ساتھ تو وہ ہاتھ ہو اکہ خدا کی پناہ کیونکہ پاکستان کھپے (جو بعد میں پنجابی والا’’ پاکستان کھپے ‘‘نکلا ) کا نعرہ مارکر اُسی دن اُن کے خاوند زرداری صاحب نے یہ بھی کہا کہ وہ بی بی کے قاتلوں کوجانتے ہیں مگر پھر انکی 5سالہ صدارت سمیت گذشتہ 8 سالوں میں اگر کچھ ہوا تو وہ تھی سکون بھری لمبی چُپ ۔ اب اللہ جانے قاتل طاقتور تھے ، زرداری صاحب کمزور نکلے یا پھر ’’معاملہ ہی کوئی اورہے‘‘ اور پھر صورتحال یہاں آن پہنی کہ بی بی کا وارث اب بلاول بھٹووہی بلاول جنہوں نے پچھلے ماہ فرمایا کہ’’ ہم پنجاب میں (ن لیگ )کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے‘‘، اپنی 5سالہ حکومت میں مسلسل اینٹ سے اینٹ بجتی دیکھ کر بلاشبہ یہ بھی اتنے تجربہ کا ر تو ہو ہی گئے ہوں گے کہ کم ازکم (ن ) لیگ کی پنجاب میں تو اینٹ سے اینٹ بجادیں،باقی عوام کوتویہ پہلے ہی بڑی اچھی طرح بتا اور سمجھاچکے کہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے ‘‘لیکن اختر بھائی کی کتاب میں بی بی سے متعلق پڑھنے کے بعد جو بات میرے ذہن سے نکل ہی نہیں رہی وہ یہ کہ اپنے خون پسینے سے ایک ایک اینٹ لگا کر پارٹی کی بنیاد رکھنے اور پھر اپنی جانیں دے کر اس بنیاد پر اینٹ سے اینٹ جوڑ کر عمارت کھڑی کرنے والے بلاول کے بڑوں کی اپنی پارٹی اور نام کی یوں اینٹ سے اینٹ بجتی دیکھ کر کیا حالت ہوتی ہوگی ۔

’’کھوتا کڑاہی ‘‘

- Posted in Amaal Nama by with comments

خود کش بمبار خرگوش نے چڑیا گھر میں گھس کر آواز لگائی ’’ سب کے پاس ایک منٹ ہے یہاں سے نکلنے کیلئے ‘‘ یہ سن کر کچھوا بولا ’’ واہ کمینے واہ،سیدھی طرح کہہ کہ مجھے مارنے آئے ہو ‘‘۔ ایک خاتون نے ہرنی کا گوشت پکا کر اپنے بچوں سے کہا ’’آج میں نے اُس کا گوشت پکایا ہے جو اکثر تمہارے پاپا پیار سے مجھے کہتے ہیں ‘‘،یہ سنتے ہی بڑا بچہ چلاّیا ’’ اوئے نہ کھانا مامانے کھوتی پکائی ہے ‘‘۔ شیر اور مرغے کی دوستی ہوئی تو شیر نے کہا کہ ’’اگر کبھی مشکل پڑے تو اذان دے دینا ،میں پہنچ جاؤں گا ‘‘۔ چند دن بعد ہی ایک بھیڑیئے نے مرغے پر حملہ کر دیا ، مرغا زخمی ہو کر کسی نہ کسی طرح جان بچا کر درخت پر چڑھا اور اذان دے دی ۔ جونہی اذان ختم ہوئی تو درخت کے نیچے بیٹھا بھیڑیا بڑے پیار سے بولا ’’ نیچے آجاؤ،دونوں مل کر نماز پڑھتے ہیں ‘‘، مرغے نے جواب دیا ’’تھوڑی دیر رکو مولانا صاحب آرہے ہیں ،ان کی امامت میں نماز پڑھیں گے ‘‘۔ اتنے میں بھیڑیئے نے دیکھا کہ دور سے شیر بھاگتا ہواآرہا ہے ، یہ دیکھ کر جب بھیڑیا وہاں سے کھسکنے لگا تو مرغا بولا ’’ کہاں جارہے ہو ،نماز تو پڑھتے جاؤ‘‘۔ بھیڑیا بھاگنے سے پہلے بولا ’’سوری بھائی جان یہ مولاناہمارے فرقے کے نہیں‘‘۔ ایک مچھر کا بچہ پہلی دفعہ اڑ کر گھر سے باہر گیا ،واپسی پر باپ نے پوچھا ’’پہلی اڑان کیسی رہی ‘‘ مچھر کا بیٹا بولا ’’بابا بہت مزا آیا ،میں جہاں بھی جاتا لوگ تالیاں بجا بجا کر میرے پیچھے بھاگتے ‘‘۔ مکھی سےLove Marriageکرنے والے مچھر کو سہاگ رات گھر کے صحن میں پریشان گھومتے دیکھ کر جب دوست نے پوچھا ’’یہاں کیا کر رہے ہو ،بھابھی کہاں ہے ‘‘ تو مچھر غصے سے بولا ’’ اور کہاں جاؤں کمینی اندر مچھر دانی لگا کر سو رہی ہے ‘‘۔ اب حاضر ہیں پرانی کہانیاں ،نئے دور کے نتائج کے ساتھ۔ پیاسا کوّا ۔ ایک پیاسے کوّے کو جگ میں تھوڑا سا پانی اور کنکر نظرآئے، وہ جگ میں کنکرڈال کر پانی پینے کیلئے جیسے ہی نیچے اترا تو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا ۔لالچی کتا ۔ قصائی کی دکان سے گوشت کا ٹکڑا اٹھا کر کتا ابھی پانی میں اپنا عکس ہی دیکھ رہا تھا کہ اسے سیلابی ریلا بہا کر لے گیا۔ غرور کا انجام۔کچھوے اور خرگوش کی ریس جاری تھی ، آدھے راستے میں جب کچھوے نے خرگوش کو سوتے دیکھا تو وہ خرگوش کا موبائل اور گھڑی لے کر بھاگ گیا ،آخری اطلاعات تک پولیس کچھوے کو ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔ امریکی محقق برائن ٹوماسیک کے مطابق زمین پر 10ارب کے ارب (10 کوئلین ٹیلین) جانور اور حشرات پائے جاتے ہیں ۔برائن نے یہ بھی بتایا کہ کروڑوں کی تعداد میں وہ کیڑے مکوڑے اس کے علاوہ ہیں جو انتہائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے کبھی کسی گنتی یا شمارمیں نہیں آتے ۔ ایک اور تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں گوشت خوری میں آسٹریلیا پہلے ،امریکہ دوسرے اور اسرائیل تیسرے نمبر پر ۔ لیکن ہوائی یونیورسٹی امریکہ کے محققین نے تو کمال ہی کر دیا ،ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ ایک خاص نسل کے چوہے اٹھارہ ماہ میں ہزاروں بچے پیدا کریں ،کاکروچ 9دن تک سر کے بغیر بھی زندہ رہ لے ،خنزیر کی جسمانی ساخت ایسی کہ سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا، بلیاں جو سالانہ 4ارب پرندے کھا جائیں وہ اپنی زندگی کا 60فیصد حصہ سوکر گذاریں ،ایک وقت میں 106لیٹر پانی پی جانے والا اُونٹ 10دن پانی پیئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے ،چیونٹیاں سوتی ہی نہیں ،مچھر50میٹر دور سے انسانی خون کی بو سونگھ لے ،بلیو ویل مچھلی کی زبان ہاتھی جتنی ، گولڈ فش کی یادداشت 3سکینڈ کی ، زرافہ صرف 7منٹ سوئے اور وہ بھی کھڑے کھڑے ، کینچوے کے 10دل، دنیا میں انسانوں سے زیادہ مرغیاں جبکہ زمین پر جتنے انسان اتنے چوہے بھی ،کتوں کے آباؤ اجداد بھیڑیئے اور کبوتروں کا ذہن انسانی بچوں جیسا جبکہ ڈولفن کی نظر انسانوں جیسی۔ اسی طرح کی بال کی کھال اتارتی تحقیق کرنے والاایک محقق ایک بار اُس کسان کے ہتھے چڑھ گیا ، جو اِس کا بھی باپ نکلا ، اس محقق اور کسان کے درمیان ہوئی گفتگو ملاحظہ فرمائیں ۔ محقق: آپ اپنے بکروں کو کیا کھلاتے ہیں ۔ کسان : سیاہ بکر ے کو یا سفید بکرے کو ۔محقق : سفید بکرے کو۔ کسان : گھاس۔ محقق: اور سیاہ کو۔کسان، اسے بھی گھاس ۔ محقق: آپ انہیں کہاں باندھتے ہیں ۔ کسان : سیاہ بکرے کو یا سفید بکرے کو ۔ محقق: سفید کو۔کسان: اپنی بیٹھک کی ڈیوڑھی میں ، محقق اور سیاہ کو ،کسان، اسے بھی بیٹھک کی ڈیوڑھی میں ۔محقق : انہیں کتنے عرصے بعد نہلاتے ہو ۔کسان : سیاہ بکرے کو یا سفید بکرے کو ۔ محقق : سفید بکرے کو ۔ کسان : مہینے میں ایک بار نہلاتا ہوں ۔ محقق : اور سیاہ کو ،کسان، اسے بھی مہینے میں ایک دفعہ نہلاتا ہوں۔ یہاں پہنچ کر محقق نے انتہائی غصے سے کہا جب تم دونوں بکروں کے ساتھ ایک جیسا ہی سلوک کرتے ہو تو پھر یہ سیاہ اور سفید کی رٹ کیوں لگا رکھی ہے ۔ کسان بولا کیونکہ سفید بکرا میرا ہے ، محقق:اور سیاہ بکرا کس کا ہے، کسان : وہ بھی میرا ہے ۔ یہ سنتے ہی محقق بے بسی بھرے غصے میں سر پکڑ کر زمین پر بیٹھا تو کسان بولا حضور اب پتا چلا،آپ کی تحقیقی کاوشوں کو پڑھ کر ہم جیسوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے ۔ عربی سیانے کہیں کہ خدا جب چیونٹی سے ناراض ہوتا ہے تو اسے پر دیدتا ہے ،چینی محاورہ ہے کہ کتے کے منہ میں ہاتھی کے دانت نہیں اگتے ۔جاپانی کہاوت کہ اندھوں نے ہاتھی کو چھوا ، سب نے الگ الگ محسوس کیا ،جبکہ یہ محاورے تو ہم روز ہی سنتے ہیں کہ بھینس کے آگے بین بجانا، جس کی لاٹھی اسکی بھینس،اونٹ سستا مگر پٹا مہنگا،بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا،بلی پہلے دن ہی مار دینی چاہیے ،دیکھیئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ،جہاں مرغ اذان نہیں دیتا کیا وہاں صبح نہیں ہوتی ، بخشو بی بلی ، چوہا لنڈ وراہی بھلا ، زندہ ہاتھی لاکھ کا،مرا سوا لاکھ کا ، وہی مرغے کی ایک ٹانگ،خوابِ خرگوش کے مزے اور بندر بانٹ کرنا۔ اسی طرح ہماری روز مرہ زندگی میں انسانوں کو جانوروں سے تشبیہ دینا بھی معمول بن چکا ،جیسے عقلمند اور ہوشیار انسان کو سیانا کوّاکہنا ،مکار شخص کو لومڑی ، وقت پڑنے پر نظریں پھیرنے والے کو طوطا چشم ، ہر بار ہاتھ میں آکر نکل جانے والے کو Slippery Fish، کاہل اور لکیر کے فقیر کو کچھوا یا کنوئیں کا مینڈک ،دھوکے باز کو سانپ یا بچھو، عجیب وغریب حرکتیں کرنے والے کو بندر، پل پل میں بدلنے والے کو گرگٹ، بہادر اور جی دار کو چیتا یا شیر ، نقال کو طوطا، بے وقوف کو اُلوّ ، کالے یا چپکو کو چمگاڈر، کارآمد اور فائدہ مند کو گھوڑا اور بزدل یا ڈرپو ک شخص کو چوہا یا گیدڑ ۔ ویسے تو عقل سے عاری انسان کو گدھا کہا جائے مگراب بھارتی صوبے راجستھان میں گدھا مستقبل کا حال بتاتا ہے ، لیکن کتا ماضی کی طرح آج بھی وفادار ،ابھی چند دن پہلے چلی کی پولیس کو ایک ایسا لاغر بچہ ملا جسے کئی دنوں سے ایک کتیا دودھ پلا رہی تھی۔ مشرق کے تو انسانوں کی بھی کوئی ویلیو نہیں لیکن مغرب میں جانور بھی VIP ، ابھی چند ہفتے قبل ایک امریکی کروڑ پتی خاتون ا یسلی این میڈل نے نہ صرف اپنے پالتو طوطوں کیلئے 4ملین ڈالرز کا چڑیا گھر بنوایا بلکہ اپنی آدھی جائیدادبھی طوطوں کے نام کر دی اور پھر جرمنی میں جب ایک 26سالہ خاتون کو اس کے بوائے فرینڈ کی بلی نے کاٹ لیاتو خاتون نے پہلے اپنے فرینڈ کی خوب ٹھکائی کی اور جب غصہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہو ا تو اس نے بلی کی طرح اس بے چارے کو 4مرتبہ کاٹا بھی لیکن مجال ہے کہ خاتون نے بلی کو کچھ کہا ہو بلکہ جب پولیس پہنچی تو وہ بلی کو چاکلیٹ کھِلا رہی تھی ۔ ہمیں آئے روز یہ بھی سننے کو ملے کہ ’’ملک میں جنگل کا قانون ہے ‘‘ مطلب کہ قانون نامی کوئی شے نہیں حالانکہ اس سے بڑ اکوئی اور جھوٹ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اب تو جنگل ہی وہ جگہ کہ جہاں قانون بھی اور سکون بھی بلکہ جنگل ہی وہ مقام کہ جہاں نہ جھو ٹ نہ منافقت اور نہ دونمبری ،یہ جنگل ہی کہ جہاں نہ بادشاہت کے جھگڑے ، نہ کرپشن کے قصے ، نہ مذہبی تقسیم اور نہ ذات پات کی گروہ بندی، یہ جنگل ہی کہ جہاں شیر سے گیدڑتک جب کسی کا پیٹ بھر جائے تووہ خوراک باقیوں کیلئے چھوڑ دے اور یہ بھی جنگل ہی کہ جہاں ہر جانور اپنے گھراور ٹھکانے کیلئے جان لینے اور جان دینے پر تیار ۔ اب اپنی دنیا دیکھ لیں ہر جھگڑا،ہر لڑائی اور ہر برائی یہاں موجود، یہا ں کبھی کسی شیر نے کچھ چھوڑا نہیں اور کبھی کسی گیدڑ کا پیٹ بھرا نہیں ، اور یہ ہماری دنیا ہی کہ جہاں جسے جب موقع مِلا اُس نے اپنی پالنے پوسنے والی دھرتی ماں کا ہی سودا کر ڈالا ۔لہذا براہ مہربانی جنگل اور جنگل والوں کو بدنام نہ کریں کیونکہ جنگل میں حالات جتنے بھی خراب ہو جائیں مگر پھربھی وہاں کبھی یہ وقت نہیں آئے گا کہ آرڈر دیا جائے ’’مٹن کڑاہی‘‘ کا اور ملے’’ کھوتا کڑاہی‘‘۔