Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

روسی کہاوت ہے کہ بیوی،ساس اور سیاستدان کی چپ نیک شگون نہیں ۔چینی سیانے کہیں کہ دولت ،سیاست کی زبان اور یہ زبان ہمیشہ بے لگام رہے ۔ پرتگالی دانشور وں کا تجربہ کہ سیاستدان، ٹیکسی ڈرائیور اور جیب کترے ہر جگہ ایک جیسے ہی ۔جاپانیوں کا کہنا کہ شیطان اور سیاستدان کے کھاتے میں وہ کچھ بھی ڈال دیا جائے جو ابھی وہ سوچ ہی رہے ہوتے ہیں ۔ سری لنکن بڑو ں کے مطابق سٹرک پر چلتے ہوئے اگر گاڑی آجائے تو سٹرک کے کنارے کی طرف آجاؤ،گھوڑا گاڑی آئے تو 5گز اور پیچھے ہٹ جاؤ، کوئی جانور دیکھ لو تو کم ازکم فاصلہ 50گز کر لو اور اگر کوئی سیاستدان آتا دکھائی دے تو پہلی فرصت میں ہی غائب ہو جاؤ۔جیسے محبت نبھانے کیلئے تین چیزوں کا ہونا ضروری ایک وقت،دوسرا پیسہ اور تیسرا کمزور نظر،ایسے ہی کامیاب سیاست کیلئے بھی 3چیزیں ضروری ۔پتھر دل ،کمزور یادداشت اور ان پڑھ ووٹرزاور جیسے وقت نے ثابت کیا کہ رانگ نمبر کبھیBusy نہیں ملتا، ایسے ہی سیاست بتائے کہ وقت پڑنے پر کبھی سیاستدان نہیں ملتا ۔ ماوزئے تنگ کہتا ہے کہ سیاست خونریز ی کے بغیر جنگ ہے جبکہ جنگ خونریز سیاست ،ابراہم لنکن کے خیال میں اصولو ں کے بغیر سیاست گناہ اور اپنے شیخو کے مطابق خامیوں کی مفت تشہیر کا سب سے بڑا ذریعہ سیاست ۔ ہمار ی 68سالہ سیاست کا سب سے بڑا سبق جو کسی نے یاد نہ رکھا وہ یہی کہ د و کی لڑائی میں جیت ہمیشہ تیسرے کی ہوئی،ہماری سیاست نے ہی ڈارون کا نظریہ ارتقاء بھی غلط ثابت کردیامطلب پہلے ہمارے رہنما قائداعظم اور لیاقت علی خان تھے اور اب آصف زرداری اور الطاف حسین ہیں ۔ ہمارے سیاستدانوں کی ظاہری شکلیں تو الگ الگ مگر باطنی مشکلیں ایک جیسی، سب کا’’ جنرل نالج ‘‘ کمزوراور سونے کے بعد اور اٹھنے سے پہلے ان سے اچھا کوئی نہیں ،یہ خود کو عوام کا خادم کہیں لیکن کوئی دوسرا ایسا سمجھے تو برا مان جائیں اور جب تک یہ خاموش رہیں مدبرّ اور محبِ وطن لگیں۔ جان سمتھ نے کہا تھا کہ اگر آپ عجیب وغریب باتیں کر رہے ہوں اور لوگ آپ پر ہنس بھی نہ رہے ہوں تو سمجھ جاؤ یہ آپکو سیاستدان سمجھ رہے ہیں اور اپنے شیخو کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو کچھ معلوم نہیں لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں تو فوراًسیاست جوائن کرلیں ۔ ایک سروے کے مطابق 40فیصد لوگ سیاستدانوں کو اچھا نہیں سمجھتے ،25فیصد سیاستدانوں کو بالکل نہیں سمجھتے اور باقی جو 35فیصد بچتے ہیں وہ خود سیاست میں ہیں۔ کچھ سیاستدان اپنی لمبی لمبی تقریروں سے بور کریں مگرکچھ ایسے بھی جو چھوٹی چھوٹی تقریروں سے بھی بور کرد یں ۔ ایک بار ہم اپنے ایک سیاسی رہنما کی تقریر سننے گئے مگر بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ہمیں تقریر کی سمجھ ہی نہ آئی، کچھ عرصہ بعد جب انہیں دوبارہ سنا تو پھر شرمندگی ہوئی کیونکہ اس بار تقریر سمجھ آگئی تھی، ہمارے سیاستدان تو اپنے گھروں میں بھی اس طرح چاہے جائیں کہ ایک سیاسی رہنما اغواء ہوگئے ،ایک ہفتے بعد ڈاکوؤں نے انکے گھر کال کر کے کہا کہ اگر اگلے دو دنوں میں 20لاکھ نہ بجھوائے تو ہم انہیں واپس گھر چھوڑ جائیں گے ،گھر والوں نے اسی شام تاوان کی رقم بھجوا دی ۔جیسے ایک انجینئر نے کیل ٹھونکنے کا وہ طریقہ ایجاد کیا کہ کچھ بھی ہوجائے ہتھوڑی آپ کی انگلی پر نہیں لگتی ، انجینئر صاحب کے مطابق وہ طریقہ یہ کہ کیل ٹھونکتے وقت کیل کسی اور کو پکڑا دو، ا یسے ہی یہاں ہر کامیاب سیاستدان کا تجربہ یہی بتائے کہ جب کیل ٹھکنے کا وقت آئے تو اپنے کیل بھی کسی اور کی جھولی میں ڈال دو ۔ ہمارے پاس تو ایسے ایسے ماہر سیاسی ڈاکٹرجو بغیر درد کے دانت نکال لیں مطلب دانت نکال لیں،درد رہنے دیں ۔ الیکشن لڑ لڑ کر یہاں سیاستدانوں کا یہ حال کہ اب الیکشن نہ بھی ہوں تو یہ لڑ ہی رہے ہوتے ہیں اور پھر جب سے ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہوئی تو شام ڈھلتے ہی ہر چینل پر سیاسی دنگل سجے اور ایسی ایسی جعلی لڑائیاں اور نقلی بڑھکیں دیکھنے اور سننے کو ملیں کہ بے اختیار سلطان راہی اورانکی فلمیں یاد آجائیں ، جیسے دو موقعوں پر بندے کے خواب ٹوٹتے ہیں ایک جب اسکی اپنی محبت سے شادی نہیں ہوپا تی اور دوسرا جب اسکی اپنی محبت سے شا دی ہو جاتی ہے،ایسے ہی ہمارے ہاں اُس وقت دو طرح کی فلمیں بنتی تھیں ،ایک وہ جو اچھی نہیں ہوتیں تھیں اور دوسری وہ جو بری ہوتی تھیں۔ اُس زمانے میں جتنی جتنی بڑی ہیرو ئنیں ہوا کرتی تھیں اتنی بڑی تو ہماری فلم انڈسٹری بھی نہ تھی، اسی دور کی ایک قد کاٹھ والی ہیروئن تو اتنی رومانٹک تھی کہ رومانٹک سین میں ایسی گم ہوجایا کرتی کہ پھر اگلے سین کیلئے ہدایت کار کو اسے ڈھونڈکر لانا پڑتا ۔ ہماری بعض ہیروئنیں تو ایسی تھیں کہ ان اور سلطان راہی میں بمشکل مونچھ برابر فرق تھا اور جہاں تک بات تھی سلطان راہی کی تو اداکاری اس کے خون میں تھی اور خون اسکی اداکاری میں۔یہ فلم میں جب انتقام لے رہا ہوتا تو لگتا کہ دیکھنے والوں سے انتقام لے رہا ہے ۔ ایک مرتبہ شیخو سے پوچھا گیا کہ اگر ہماری فلموں سے بڑھکیں نکال دی جائیں تو باقی کیا بچے گا ،بولا ٹائم بچے گا ۔ اسی دور کی ایک فلم کے سین میں جب ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑ کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا کہ’’ کیا ہم اکیلے ہیں‘‘تو ہال میں بیٹھا اکلوتا شخص بولا’’ آج تو نہیں مگر کل آپ اکیلے ہی ہوں گے‘‘ ۔خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں ،اب تو میڈیا کازمانہ اور آج کے طاقتور میڈیا کا نتیجہ بھی فوری نکلے،جیسے ہمارے پڑوسی نے دو دن پہلے چوکیدار کیلئے اشتہار دیا اور گذشتہ رات اُس کے گھر چوری ہوگئی ، مگر ٹیلی ویژن کے اس زمانہ عروج میں بھی ہمیں توابھی بھی اخبارہی پسند کیونکہ ٹی وی جتنا بھی ترقی کر جائے اس میں تندور سے گرم روٹیاں تولپیٹ کر نہیں لائی جاسکتیں۔ اپنے ایک مشہور سیاستدان جنہوں نے ایک عرصے تک مشہور کیئے رکھا کہ وہ خود ایف ایس سی ، بیٹا بی ایس سی اور اہلیہ ایم ایس سی ہیں ، وہ تو بہت بعد میں پتا چلا کہ ایف ایس سی سے ان کی مراد فادر آف سیون چلڈرن ،بی ایس سی سے برادر آف سیون چلڈرن اور ایم ایس سی مطلب مدر آف سیون چلڈرن ہے ۔ جو اپنے ڈھیر سارے بچوں کی وجہ یہ بتائیں کہ چونکہ ان کا گھر ریلوے لائن کے قریب تھا اور رات دو بجے آنے والی ٹرین کے شور سے دونوں میاں بیوی جاگ جاتے اور پھر ۔۔!جو بچپن میں بھی ا تنے تیز کہ ایک مرتبہ سیڑھی کے اوپر والے ڈنڈے پر کھڑے تھے کہ ان کے ہاتھ سے چوّنی گر گئی اور یہ اس تیز ی سے نیچے اترے کہ جب یہ زمین پر آکر کھڑے ہوئے تو چوّنی انکے سر پرگری،جن کا کہنا ہے کہ جونیجو کی کیا جرأت تھی کہ وہ ملک میں جمہوریت لاتے یہ تو C-130جہاز کی قربانی کی وجہ سے ملک میں جمہوریت آئی اور جن کا ماننا کہ مولوی اور تھانیدار موٹے اور سیاستدان خوشحال نہ ہو ں تو سمجھو یہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں ۔ 25 سالہ سیاسی تجربہ رکھنے والے ہمارے یہی سیاستدان کہیں کہ پاکستان وہ ملک کہ جہاں مارشل لاء میں کوئی سچی بات کرتا نہیں اور جمہوریت میں کوئی سچی بات سنتا نہیں اور انہی کا فرمان کہ اگر دنیا کا حال دیکھنا ہے تو پاکستان آجائیں،مستقبل دیکھنا ہے تو شام یا عراق چلے جائیں اور اگر ماضی کی سیر کرنی ہے تو ایتھوپیا یا سوڈان سے ہوآئیں ۔ پچھلے ہفتے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے ماشاء اللہ اتنے زیادہ بچے ہیں مگر آپ کسی کو بھی سیاست میں نہیں لائے کیوں ؟ تو اُن کا جواب یہ تھا ’’ ایک پوسٹ ماسٹر جنرل کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی پارٹی جاری تھی کہ ایک جونیئر نے عقیدت بھری محبت سے اپنے ریٹائر ہونے والے باس سے کہا کہ سر آپ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمیں کوئی نصیحت یا ہدایت کرنا چاہیں گے تو پوسٹ ماسٹر جنرل بولے میری پنشن بذریعہ ڈاک نہ بھجوانا ‘‘۔ ڈاکٹر نے خاوند سے پوچھا ’’کیا آپ اور آپ کی بیوی کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے ؟‘‘ خاوند بولا ’’ ہونا تو چاہیے کیونکہ پچھلے 15سالوں سے یہ میرا ہی خون پی رہی ہے‘‘ ۔ ایک عاشق نے اپنے محبوبہ سے کہا کہ’’ مجھے اپنا ایڈریس بتاؤ میں تمہارے گھر آنا چاہتا ہوں‘‘ ، محبوبہ بولی ’’جس گھر کی چھت پر کوا بیٹھا ملے وہاں آجانا ‘‘،عاشق نے حیران ہو کر کہا کہ’’ کوا تو کسی گھر پر بھی بیٹھا مل سکتا ہے‘‘ ، محبوبہ بولی’’ تمہیں اس سے کیا تم نے تو جوتیاں ہی کھانی ہیں ،کسی گھر سے بھی کھا لینا ‘‘۔ تو صاحبو! بالکل اسی طرح سیاستدان بھی ہمارا اتنا خون پی چکے کہ اب ہماری حیثیت ان کے جسموں میں بلڈپریشر جیسی اوران کی سیاست ایسی کہ ہم جس پارٹی میں بھی گئے ’’جُتیاں‘‘ ہی پڑیں مگر پھر بھی سارا قصور ان کا نہیں کیونکہ جس معاشرے میں سب چلتا ہو،وہ معاشرہ ایسے ہی چلتا ہے اور لوگ دھوکہ تب ہی دیتے ہیں جب آپ انہیں موقع دیتے ہیں۔

روسی کہاوت ہے کہ بیوی،ساس اور سیاستدان کی چپ نیک شگون نہیں ۔چینی سیانے کہیں کہ دولت ،سیاست کی زبان اور یہ زبان ہمیشہ بے لگام رہے ۔ پرتگالی دانشور وں کا تجربہ کہ سیاستدان، ٹیکسی ڈرائیور اور جیب کترے ہر جگہ ایک جیسے ہی ۔جاپانیوں کا کہنا کہ شیطان اور سیاستدان کے کھاتے میں وہ کچھ بھی ڈال دیا جائے جو ابھی وہ سوچ ہی رہے ہوتے ہیں ۔ سری لنکن بڑو ں کے مطابق سٹرک پر چلتے ہوئے اگر گاڑی آجائے تو سٹرک کے کنارے کی طرف آجاؤ،گھوڑا گاڑی آئے تو 5گز اور پیچھے ہٹ جاؤ، کوئی جانور دیکھ لو تو کم ازکم فاصلہ 50گز کر لو اور اگر کوئی سیاستدان آتا دکھائی دے تو پہلی فرصت میں ہی غائب ہو جاؤ۔جیسے محبت نبھانے کیلئے تین چیزوں کا ہونا ضروری ایک وقت،دوسرا پیسہ اور تیسرا کمزور نظر،ایسے ہی کامیاب سیاست کیلئے بھی 3چیزیں ضروری ۔پتھر دل ،کمزور یادداشت اور ان پڑھ ووٹرزاور جیسے وقت نے ثابت کیا کہ رانگ نمبر کبھیBusy نہیں ملتا، ایسے ہی سیاست بتائے کہ وقت پڑنے پر کبھی سیاستدان نہیں ملتا ۔ ماوزئے تنگ کہتا ہے کہ سیاست خونریز ی کے بغیر جنگ ہے جبکہ جنگ خونریز سیاست ،ابراہم لنکن کے خیال میں اصولو ں کے بغیر سیاست گناہ اور اپنے شیخو کے مطابق خامیوں کی مفت تشہیر کا سب سے بڑا ذریعہ سیاست ۔ ہمار ی 68سالہ سیاست کا سب سے بڑا سبق جو کسی نے یاد نہ رکھا وہ یہی کہ د و کی لڑائی میں جیت ہمیشہ تیسرے کی ہوئی،ہماری سیاست نے ہی ڈارون کا نظریہ ارتقاء بھی غلط ثابت کردیامطلب پہلے ہمارے رہنما قائداعظم اور لیاقت علی خان تھے اور اب آصف زرداری اور الطاف حسین ہیں ۔ ہمارے سیاستدانوں کی ظاہری شکلیں تو الگ الگ مگر باطنی مشکلیں ایک جیسی، سب کا’’ جنرل نالج ‘‘ کمزوراور سونے کے بعد اور اٹھنے سے پہلے ان سے اچھا کوئی نہیں ،یہ خود کو عوام کا خادم کہیں لیکن کوئی دوسرا ایسا سمجھے تو برا مان جائیں اور جب تک یہ خاموش رہیں مدبرّ اور محبِ وطن لگیں۔ جان سمتھ نے کہا تھا کہ اگر آپ عجیب وغریب باتیں کر رہے ہوں اور لوگ آپ پر ہنس بھی نہ رہے ہوں تو سمجھ جاؤ یہ آپکو سیاستدان سمجھ رہے ہیں اور اپنے شیخو کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو کچھ معلوم نہیں لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں تو فوراًسیاست جوائن کرلیں ۔ ایک سروے کے مطابق 40فیصد لوگ سیاستدانوں کو اچھا نہیں سمجھتے ،25فیصد سیاستدانوں کو بالکل نہیں سمجھتے اور باقی جو 35فیصد بچتے ہیں وہ خود سیاست میں ہیں۔ کچھ سیاستدان اپنی لمبی لمبی تقریروں سے بور کریں مگرکچھ ایسے بھی جو چھوٹی چھوٹی تقریروں سے بھی بور کرد یں ۔ ایک بار ہم اپنے ایک سیاسی رہنما کی تقریر سننے گئے مگر بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ہمیں تقریر کی سمجھ ہی نہ آئی، کچھ عرصہ بعد جب انہیں دوبارہ سنا تو پھر شرمندگی ہوئی کیونکہ اس بار تقریر سمجھ آگئی تھی، ہمارے سیاستدان تو اپنے گھروں میں بھی اس طرح چاہے جائیں کہ ایک سیاسی رہنما اغواء ہوگئے ،ایک ہفتے بعد ڈاکوؤں نے انکے گھر کال کر کے کہا کہ اگر اگلے دو دنوں میں 20لاکھ نہ بجھوائے تو ہم انہیں واپس گھر چھوڑ جائیں گے ،گھر والوں نے اسی شام تاوان کی رقم بھجوا دی ۔جیسے ایک انجینئر نے کیل ٹھونکنے کا وہ طریقہ ایجاد کیا کہ کچھ بھی ہوجائے ہتھوڑی آپ کی انگلی پر نہیں لگتی ، انجینئر صاحب کے مطابق وہ طریقہ یہ کہ کیل ٹھونکتے وقت کیل کسی اور کو پکڑا دو، ا یسے ہی یہاں ہر کامیاب سیاستدان کا تجربہ یہی بتائے کہ جب کیل ٹھکنے کا وقت آئے تو اپنے کیل بھی کسی اور کی جھولی میں ڈال دو ۔ ہمارے پاس تو ایسے ایسے ماہر سیاسی ڈاکٹرجو بغیر درد کے دانت نکال لیں مطلب دانت نکال لیں،درد رہنے دیں ۔ الیکشن لڑ لڑ کر یہاں سیاستدانوں کا یہ حال کہ اب الیکشن نہ بھی ہوں تو یہ لڑ ہی رہے ہوتے ہیں اور پھر جب سے ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہوئی تو شام ڈھلتے ہی ہر چینل پر سیاسی دنگل سجے اور ایسی ایسی جعلی لڑائیاں اور نقلی بڑھکیں دیکھنے اور سننے کو ملیں کہ بے اختیار سلطان راہی اورانکی فلمیں یاد آجائیں ، جیسے دو موقعوں پر بندے کے خواب ٹوٹتے ہیں ایک جب اسکی اپنی محبت سے شادی نہیں ہوپا تی اور دوسرا جب اسکی اپنی محبت سے شا دی ہو جاتی ہے،ایسے ہی ہمارے ہاں اُس وقت دو طرح کی فلمیں بنتی تھیں ،ایک وہ جو اچھی نہیں ہوتیں تھیں اور دوسری وہ جو بری ہوتی تھیں۔ اُس زمانے میں جتنی جتنی بڑی ہیرو ئنیں ہوا کرتی تھیں اتنی بڑی تو ہماری فلم انڈسٹری بھی نہ تھی، اسی دور کی ایک قد کاٹھ والی ہیروئن تو اتنی رومانٹک تھی کہ رومانٹک سین میں ایسی گم ہوجایا کرتی کہ پھر اگلے سین کیلئے ہدایت کار کو اسے ڈھونڈکر لانا پڑتا ۔ ہماری بعض ہیروئنیں تو ایسی تھیں کہ ان اور سلطان راہی میں بمشکل مونچھ برابر فرق تھا اور جہاں تک بات تھی سلطان راہی کی تو اداکاری اس کے خون میں تھی اور خون اسکی اداکاری میں۔یہ فلم میں جب انتقام لے رہا ہوتا تو لگتا کہ دیکھنے والوں سے انتقام لے رہا ہے ۔ ایک مرتبہ شیخو سے پوچھا گیا کہ اگر ہماری فلموں سے بڑھکیں نکال دی جائیں تو باقی کیا بچے گا ،بولا ٹائم بچے گا ۔ اسی دور کی ایک فلم کے سین میں جب ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑ کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا کہ’’ کیا ہم اکیلے ہیں‘‘تو ہال میں بیٹھا اکلوتا شخص بولا’’ آج تو نہیں مگر کل آپ اکیلے ہی ہوں گے‘‘ ۔خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں ،اب تو میڈیا کازمانہ اور آج کے طاقتور میڈیا کا نتیجہ بھی فوری نکلے،جیسے ہمارے پڑوسی نے دو دن پہلے چوکیدار کیلئے اشتہار دیا اور گذشتہ رات اُس کے گھر چوری ہوگئی ، مگر ٹیلی ویژن کے اس زمانہ عروج میں بھی ہمیں توابھی بھی اخبارہی پسند کیونکہ ٹی وی جتنا بھی ترقی کر جائے اس میں تندور سے گرم روٹیاں تولپیٹ کر نہیں لائی جاسکتیں۔ اپنے ایک مشہور سیاستدان جنہوں نے ایک عرصے تک مشہور کیئے رکھا کہ وہ خود ایف ایس سی ، بیٹا بی ایس سی اور اہلیہ ایم ایس سی ہیں ، وہ تو بہت بعد میں پتا چلا کہ ایف ایس سی سے ان کی مراد فادر آف سیون چلڈرن ،بی ایس سی سے برادر آف سیون چلڈرن اور ایم ایس سی مطلب مدر آف سیون چلڈرن ہے ۔ جو اپنے ڈھیر سارے بچوں کی وجہ یہ بتائیں کہ چونکہ ان کا گھر ریلوے لائن کے قریب تھا اور رات دو بجے آنے والی ٹرین کے شور سے دونوں میاں بیوی جاگ جاتے اور پھر ۔۔!جو بچپن میں بھی ا تنے تیز کہ ایک مرتبہ سیڑھی کے اوپر والے ڈنڈے پر کھڑے تھے کہ ان کے ہاتھ سے چوّنی گر گئی اور یہ اس تیز ی سے نیچے اترے کہ جب یہ زمین پر آکر کھڑے ہوئے تو چوّنی انکے سر پرگری،جن کا کہنا ہے کہ جونیجو کی کیا جرأت تھی کہ وہ ملک میں جمہوریت لاتے یہ تو C-130جہاز کی قربانی کی وجہ سے ملک میں جمہوریت آئی اور جن کا ماننا کہ مولوی اور تھانیدار موٹے اور سیاستدان خوشحال نہ ہو ں تو سمجھو یہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں ۔ 25 سالہ سیاسی تجربہ رکھنے والے ہمارے یہی سیاستدان کہیں کہ پاکستان وہ ملک کہ جہاں مارشل لاء میں کوئی سچی بات کرتا نہیں اور جمہوریت میں کوئی سچی بات سنتا نہیں اور انہی کا فرمان کہ اگر دنیا کا حال دیکھنا ہے تو پاکستان آجائیں،مستقبل دیکھنا ہے تو شام یا عراق چلے جائیں اور اگر ماضی کی سیر کرنی ہے تو ایتھوپیا یا سوڈان سے ہوآئیں ۔ پچھلے ہفتے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے ماشاء اللہ اتنے زیادہ بچے ہیں مگر آپ کسی کو بھی سیاست میں نہیں لائے کیوں ؟ تو اُن کا جواب یہ تھا ’’ ایک پوسٹ ماسٹر جنرل کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی پارٹی جاری تھی کہ ایک جونیئر نے عقیدت بھری محبت سے اپنے ریٹائر ہونے والے باس سے کہا کہ سر آپ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمیں کوئی نصیحت یا ہدایت کرنا چاہیں گے تو پوسٹ ماسٹر جنرل بولے میری پنشن بذریعہ ڈاک نہ بھجوانا ‘‘۔ ڈاکٹر نے خاوند سے پوچھا ’’کیا آپ اور آپ کی بیوی کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے ؟‘‘ خاوند بولا ’’ ہونا تو چاہیے کیونکہ پچھلے 15سالوں سے یہ میرا ہی خون پی رہی ہے‘‘ ۔ ایک عاشق نے اپنے محبوبہ سے کہا کہ’’ مجھے اپنا ایڈریس بتاؤ میں تمہارے گھر آنا چاہتا ہوں‘‘ ، محبوبہ بولی ’’جس گھر کی چھت پر کوا بیٹھا ملے وہاں آجانا ‘‘،عاشق نے حیران ہو کر کہا کہ’’ کوا تو کسی گھر پر بھی بیٹھا مل سکتا ہے‘‘ ، محبوبہ بولی’’ تمہیں اس سے کیا تم نے تو جوتیاں ہی کھانی ہیں ،کسی گھر سے بھی کھا لینا ‘‘۔ تو صاحبو! بالکل اسی طرح سیاستدان بھی ہمارا اتنا خون پی چکے کہ اب ہماری حیثیت ان کے جسموں میں بلڈپریشر جیسی اوران کی سیاست ایسی کہ ہم جس پارٹی میں بھی گئے ’’جُتیاں‘‘ ہی پڑیں مگر پھر بھی سارا قصور ان کا نہیں کیونکہ جس معاشرے میں سب چلتا ہو،وہ معاشرہ ایسے ہی چلتا ہے اور لوگ دھوکہ تب ہی دیتے ہیں جب آپ انہیں موقع دیتے ہیں۔

It is not the gun!

- Posted in Amaal Nama by with comments

ٹریفک سگنل پر گاڑی رکتے ہی فقیر نے کا ر کا شیشہ کھٹکا کر پیسے مانگے تو خاتون نے اُسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا ’’ ایسا لگ رہا ہے کہ میں نے تمہیں کہیں دیکھا ہے ‘‘فقیر مسکرا کر بولا ’’میڈم آپ نے پہچانا نہیں میں فیس بک پر آپ کا فرینڈ ہوں‘‘۔ایک پٹھان نے ٹویٹ کیا کہ ’’میرے علاقے کا لائٹ فوراً بند کر دیا جائے ‘‘ کسی نے پوچھا کیوں تو پٹھان نے جواب دیا ’’وہ ہمارے دماغ میں ایک نیا گالی آیا ہے وہ ہم نے بجلی والوں کو دینا ہے ‘‘۔ پچھلے ہفتے WhatsApp پر عمران خان کیلئے یہ میسج دیکھا ’’خان صاحب اگر رونے دھونے سے کوئی وزیراعظم بن سکتا تو پھر عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی تاحیات وزیراعظم ہوتا ‘‘۔دو دن پہلے ایک اور WhatsAppآیا کہ ایک لڑکے نے بابا جی سے پوچھا ’’ بابا جی اگر بیوی خوبصورت ہو ،گوری چٹی ہو ،دراز قد ہو ،شوہر کی فرمانبردار ہو ،شوہر کے سامنے کبھی زبان نہ چلائے،شوہر اگر کہے دن تو یہ دن مانے اور اگر وہ کہے رات تو یہ رات جانے ،بابا جی ایسی بیوی کو کیا کہا جائے گا، بابا جی بولے ’’ بیٹا اسے وہم کہتے ہیں وہم ‘‘ ۔گذشتہ شام ایک دوست کے فیس بک پیج پر یہ اشعار نظر آئے :۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وایاز دوسری صف میں کھڑا ہو گیا خود کش بمبار ہو اپھر وہی جو اقبال نے فرمایا تھا نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز اس تمہید سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آج ہمارا موضوع ہے سوشل میڈیا ،وہی سوشل میڈیا جس کی لپیٹ میں پورا جہان ، جو بات کہیں بھی نہ کی جاسکے اور جو طعنہ اور الزام کسی فورم پر بھی نہ دیا جا سکے سوشل میڈیا پر یہ سب اک روٹین اور یہاں یہ سب روز ہو۔ ایک سروے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 3ارب کے قریب جبکہ فیس بک جس کے بانی مارک زیوکر برگ اورجس کا آغاز 4فروری 2004میں ہوا، اسکے ڈیڑھ ارب یوزرز، اسی طرح برائن ایکٹن اور جان کو م کے 2009میں ایجاد کر دہ WhatsAppکے استعمال کرنیوالے 800ملین ، ٹوئٹرکا آغاز 2006میں ہوا ، اس کے بانی جیک دورسی ،ایوان ویلمز ،بزسٹون اور نوح گلاس اوریہ 304ملین لوگوں کے استعمال میں اور پھر 2010میں منظرِ عام پر آنے والا انسٹا گرام جس کے بانی کیون سٹروم اور مائیک کریگراسکے استعمال کرنے والوں کی تعداد 300ملین ۔ قربِ قیامت کی نشانی دیکھیئے کہ اب تو شیخو بھی WhatsAppاستعمال کرنے لگا ۔ گذشتہ ماہ جب شیخو کا پہلا WhatsApp آیا تو سب دوستوں کی حالت ایسی تھی کہ ’’ٹک ٹک دیدم ۔دم نہ کشیدم ‘‘۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ سوشل میڈیا اتنا رُل جائے گا اور پھر بات یہیں نہیں رکی بلکہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال یہ ہوگئی کہ اب تو اتنا وقت آپا زبیدہ کا کچن میں نہیں گذرتا ہو گا کہ جتنا شیخو کا واٹس ایپ پر ، ایک ایک گھنٹے میں یہ بیسوؤں میسجز بھیجے اور گو کہ زیادہ تر میسجز تو ایسے کہ جو پڑھائے اور نہ سنائے جا سکیں ، لیکن پھر بھی ایک لمبی چھانٹی کے بعد شیخو کے چند میسجزآپ کیلئے نکالے ہیں،ملاحظہ کریں ۔ دنیا میں دو ہی نیٹ ورک فاسٹ ای میل اور فی میل ،دونوں پر ایک منٹ میں بات مشرق سے مغرب پہنچ جائے *تالاب میں بیٹھی بھینس اور شاپنگ مال میں گھسی عورت کبھی جلدی باہر نہیں آتی *جو قوم دومنٹ سگنل پرکھڑی نہیں ہو سکتی وہ اپنے قدموں پر کیا کھڑی ہوگی *اگر تم چاہتے ہو کہ مرنے کے بعد بھی یاد رکھے جاؤ تو جس جس سے ادھار لے سکتے ہو لے لو *ٹیکسوں کی یہی صورتحال رہی تو ایکدن سور وپے کا کارڈ لوڈ کرنے کے بعداسحق ڈار کی تصویر آئے گی اور نیچے لکھا ہوگا ۔۔۔ جزاک اللہ *آج کے مسلمان پڑھنا برطانیہ اور نوکری امریکہ میں کرنا چاہتے ہیں ،انہیں انگریزی بولنا پسند اوریہ چائنیز فوڈ،اٹالین پیزااور رشین سلاد کے شوقین ، چیزیں انہیں سب ’’میڈ اِن جاپان‘‘ چاہئیں ، چھٹیاں یہ یورپ میں گذارنا چاہیں ، فلمیں انگریزی اور میوزک انہیں ہندی اچھا لگے ، لیکن خواہش سب کی یہی کہ مکہ میں فوت اور مدینہ میں دفن ہو کر جائیں سیدھا جنت میں *بچپن میں ہم وہاں سوتے تھے جہاں پنکھے کی ہوا آسانی سے ہم تک پہنچ سکے مگر اب وہاں سوتے ہیں کہ جہاں وائی فائی کنکشن کے سگنل آتے ہوں اور جہاں سے چارجر کی پن آسانی سے موبائل تک پہنچ سکے *گاؤں کی سب سے حسین لڑکی جب ہماری گلی سے گذری تو ہم نے اُس کے قدموں کی خاک چوم لی ،اس پاگل نے میرے گھر جا کر میری ماں سے کہا ’’ نی ماسی تیرا منڈا مٹی کھانداے‘‘ایک پٹھان جو اخبار میں سب ایڈیٹر تھا اس نے ایک خبر کی سرخی نکالی ’’بیوی میں دھماکہ ‘‘ چیف ایڈیٹر نے پوچھا کہ خان صاحب یہ کیا تو پٹھان نے کہا بہت آسان سرخی نکالی ہے ورنہ خبر تو یہ تھی کہ ’’ میاں والی میں دھماکہ ‘‘ایک بیوی پورے 15منٹ تک اپنے خاموش بیٹھے شوہر پر گرجنے برسنے کے بعد بولی ’’ تمہاری اسی گونگی بدمعاشی کی وجہ سے گھر جہنم بنا ہوا ہے *چائے کی پتی اورپتی(خاوند ) دونوں کے نصیب میں جلنا اور ابلنا لکھا اور وہ بھی عورت کے ہاتھوں۔ *ایک بار ملکہ ترنم نور جہاں بڑے فخر سے بتا رہی تھیں کہ جب میرا پہلا بیٹا پیدا ہونے والا تھا تو میں نے فلاں گانا گایا اور وہ ہٹ ہو گیا،جب میرا دوسرا بیٹا پیدا ہونے کے قریب تھا تو فلاں گانا گایا اور وہ بھی ہٹ ہو گیا ، جب میری بیٹی پید ا ہونے والی تھی تو اس وقت میں نے فلاں ہٹ گانا گایا ، یہ سب کچھ بڑے غور سے سنتے ہوئے پاس بیٹھے اداکار منور ظریف نے اچانک کہا ’’ میڈم تسی کدی خالی پیٹ نئں گایا ‘‘۔ چنگیز خان سے کسی نے پوچھا کیا آپ کو کبھی کسی پر رحم آیا تو اس نے جواب دیا ’’ہاں ایک بار سندھ میں ایک شخص قائم علی شاہ کو میں نے بزرگ جان کر چھوڑ دیا تھا‘‘۔ * ایک کالے کلوٹے خاوند نے جب اپنی بیوی سے کہا ’’ ہما را بچہ پیارا ہونا چاہیے‘‘ تو بیوی بولی ’’ دیکھو جی چوائس آپ کی ہے پیارا چاہیئے یا ہمارا چاہیئے‘‘ پھر شیخو کاSendکیا ہوا یہ شعر :۔ یہ کہہ کر ہر شے مہنگی کر دی حکومت نے ’’تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر ‘‘ بلاشبہ سوشل میڈیا پر کردار کشی ہوتی ہے ،گالم گلوچ دی جاتی ہے ،ذاتیات پر حملے ہوتے ہیں ، افواہیں اور جھوٹ پھیلایا جاتا ہے، بے شک سوشل میڈیا پر وہ بھی دانشور بنے بیٹھے کہ جن کو اپنے گھر میں ضروری بات کرتے وقت کمرے سے نکال دیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا ان بونوں کے کنڑول میں کہ جن کو سنسنی خیزی کا ہیضہ یا پڑھی لکھی جہالت کا ڈائریا ہو چکا مگر پھر بھی سارا قصور ان کا نہیں،کیونکہ ذرا سوچیئے کہ ایسا ملک کہ جہاں شرح خواندگی 17فیصد سے بھی کم ہو، جہاں 2فیصد ایلیٹ گذشتہ 68سالوں سے 98فیصد وسائل پر قابض ہو ، جہاں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ، جہاں کی جمہوریت کے ڈاکٹر وہ مولانا فضل الرحمن جوتحریک انصاف کو گریبان سے پکڑ کر جمہوریت کو طاقت کے ٹیکے لگائیں اور ایم کیو ایم کے پاؤں پڑ کر جمہوریت کو آکسیجن فراہم کریں اور جہاں لیڈروں کے لارے لپوں کا یہ عالم کہ 1970میں بھٹو صاحب ’’روٹی ،کپڑا اور مکان ‘‘دے رہے تھے اور 2015میں بلاول بھی ’’روٹی ،کپڑا اور مکان ‘‘ ہی دے رہاہو ،ایک ایسا دیس کہ جہاں کوئی متفقہ ہیرو یا رول ماڈ ل ہی نہ ہو ،جہاں چند مرلوں کیلئے بچے ماں ،باپ ماردیں ، پیسوں کی خاطر بھائی بھائیوں کو اغوا کروادے، گھر کی جائیداد گھر میں ہی رکھنے کیلئے بہنوں،بیٹیوں کی شادیاں قرآن سے کر دی جائیں اور جہاں اگر سفارش اور پیسہ نہ ہو تو5 پانچ سال تک قیدیوں کی پہلی پیشی ہی نہ ہو پائے اور ایک ایسی دھرتی کہ جہاں کڑاہیوں اور کبابوں پرتو رش ہی رش اور خرچے ہی خرچے مگر لائبریر یاں اجڑ گئیں اور نایاب کتابیں فٹ پاتھوں پر ، جہاں منیر نیازی ،اے حمید اور حبیب جالب کو غربت ماردے ،جہاں ساغر صدیقی سڑکوں پر رُل جائے اور جہاں وہ جوش ملیح آبادی کہ جس کے استقبال کیلئے نہرو ننگے پاؤں بھاگا وہی جوش ملیح ایک تنگ وتاریک فلیٹ میں ایسے مرے کہ آخری لمحوں میں نہ علاج کیلئے پیسے اور نہ روٹی کیلئے آٹا وہاں اس ملک ،اس دیس اوراس دھرتی پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہو یا سوشل میڈیایہ سب اسی طرح مِس یوزہوتے رہیں گے کیونکہ It is not the gun,it is the man behind the gunاور جب تک man behind the gun کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور جب تک یہ مطمئن نہیں ہوگا تب تک اس کی gun سب کو ایسے ہی گھائل کرتی رہے گی ۔