Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

جب کوئی بندہ ہاتھوں اور پاؤں کا کام زبان سے لینے لگ جائے تو سمجھو وہ بوڑھا ہو گیا، بزرگی یا بڑھاپے کی ایک نشانی یہ بھی کہ جس دن آپ اپنے بزر گ کا کام کر کے آئیں وہ کام ہی بھول چکے ہوں اور جس دن آپ ان کا کام کرنا بھول جائیں انہیں وہ کام یاد ہو۔ بوڑھوں کی تین قسمیں زیادہ مشہورہیں ، ایک وہ جو خود کو بوڑھا سمجھتے ہیں،دوسرے وہ جنہیں لوگ بوڑھا سمجھتے ہیں اورتیسرے وہ جو واقعی بوڑھے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں قدرتی وسائل میں سوئی گیس ،کوئلہ اور بچے جبکہ قدرتی مسائل میں سیاستدان ،سیلاب اور بزرگ سرِفہرست ۔ عربی کہاوت ہے کہ بزرگ کا پیٹ، بچے کا منہ ،عورت کی آنکھیں اور خاوند کا دل کبھی نہیں بھرتا ۔ بچوں سے یاد آیا کہ دنیا بھر میں انیس بیس کے فرق سے بچے اور بوڑھے ایک جیسے ہی ملیں ، جیسے دونوں کے منہ میں دانت نہ سرپر بال اور دونوں کریں کچھ بھی نہ مگر ہر لمحے مصروف ۔ بچہ جب بولے تو سب خوش اور بزرگ چپ ہو تو سب خوش، بچے شادی کی بات کریں تو گھر والے ہیپی ، بزرگ یہی بات کریں تو ہمسائے ویری ہیپی ، بچے جب تک کہانی سن نہ لیں انہیں نیند نہ آئے اور بزرگ جب تک کسی کو سنانہ لیں انہیں بھی نیند نہ آئے ۔بچوں کے چہروں پہ گلاب کھلیں جبکہ بزرگوں کی آنکھوں میں موتیا۔بچوں کو توجہ نہ دیں تو وہ آدھے رہ جائیں ،بزرگوں کو توجہ نہ ملے تو آپ آدھے رہ جائیں، کوئی بچہ بزرگوں کی بات نہ سنے تو یہ پورے گھر کو پریشان کر دیں اور اگر ان کی بات سن لی جائے تو گھر کیا پورا محلہ ہی پریشان ہو جائے ،بچوں کے ساتھ مسئلہ یہ کہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہتے جبکہ بزرگوں کی پرابلم یہ کہ اگر یہ ایک بار بزرگ ہو جائیں تو پھر بزرگ ہی رہیں بلکہ کچھ تو مزید بزرگ ہو جائیں۔ شیخو کہتا ہے کہ جوانی اور بڑھاپا کسی شے کانام نہیں بلکہ یہ محض ایک اندازِفکر ہے کیونکہ جب تک انسان آنے والے وقتوں کی پلاننگ کرتا رہتا ہے وہ جوان ہے اور جب وہ گذرے زمانوں میں رہنا شروع کر دے تو وہ بوڑھا ہے ۔لیکن ہمارے ایک سیانے دوست کے مطابق جوانی بھی ہوتی ہے اور بڑھاپا بھی، اسی نے بتایا کہ لڑکی سے ملنے سے پہلے جو بال درست کرے وہ جوان اور جو نہ کرے وہ بوڑھا، حالانکہ ہمارا تجربہ یہی بتائے کہ جوانی میں بال درست تو کیئے جائیں مگر لڑکی سے ملنے کے بعد اور بڑھاپے میں بال درست کرنے کیلئے لڑکی کا ہونا اتنا ضروری نہیں کہ جتنا سر پر بالوں کا ہونا ضروری ۔ ہمارے معاشرے میں بوڑھا غریب ہوتو وہ چپ رہ کر بھی خبطی کہلائے ، بابا امیر ہو تو سارے دن کے اول فول کے بعد بھی سیانے کا سیانا۔ کہتے ہیں کہ جس نے جوانی مغرب میں نہیں گذاری اس نے اپنی جوانی ضائع کر دی اور جسکا بڑھاپا مشرق میں نہیں گذرا اُس کا بڑھاپا ضائع ہو گیا ۔ بزرگ بولنے والی وہ مشین کہ جس کے آن آف کے سوئچ ہمیشہ ڈھیلے، لہذا اگر کوئی بزرگ 5منٹ تک نصیحت نہ کرے تو اس کی زبان اور آنکھوں کا معائنہ کریں اور اگر خاموشی دس منٹ کی ہوجائے تو فوراً نبض چیک کر لیں ۔ تجربہ بتائے کہ انسان کی بڑھاپے میں جتنی عزت ہوتی ہے اتنی پوری عمر نہیں ہوپا تی اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ اس وقت اسے کوئی جاننے والا زندہ ہی نہیں ہوتا ۔ بڑھاپے میں دوائیوں کے بعد سب سے بڑا خرچہ سالگرہ کا اور پوری سالگرہ کا خرچہ ایک طرف جبکہ موم بتیاں خریدنے کا خرچہ ایک طرف، کیک پر ا تنی موم بتیاں لگیں کہ کیک انہیں اٹھاتے اٹھاتے اور بندہ انہیں بجھاتے بجھاتے دونوں بوڑھے ہو جائیں ۔جوانی میں جیسے تہمت لگے بڑھاپے میں ایسے کھانسی اور کھانسی بزرگوں کی وہ پسندیدہ ان ڈور گیم کہ جس کے ذریعے بیٹھے بیٹھے وہ ایک منٹ میں پورے جسم کی ورزش کر لیں ، بوڑھا تو اظہارِ محبت بھی یوں کر ے کہ جیسے کسی کی عیادت کر رہا ہو۔ ویسے تو جب سے امتیابھ بچن عین عالمِ بڑھاپے میں دوبارہ سپرہٹ ہوا اور جب سے اسکی فلم ’’بڈھا ہو گا تیرا باپ ‘ ‘ خواتین کی پسندیدہ فلم ٹھہری تب سے چار پائیوں سے لگے ہمارے سب بزرگ بھی نہ صرف پھر سے چلنے پھرنے لگ پڑے بلکہ کئی تو اب ’’بڈھا ہو گا تیرا باپ ‘‘کی منہ بولتی تصویریں بن چکے لیکن امیتابھ بچن کی تو خیر جوانی بھی ہٹ تھی ، ہماری دنیا میں تو کئی ایسے بھی ہیں کہ انتہائی ناکام جوانیوں کے بعد جنہیں بڑھاپا ایسا راس آیا کہ سبحان اللہ ۔ جیسے درجن بھر بیماریوں میں گھِرا پیدائشی لنگڑا شہنشاہ کلا ڈیس جسے اسکی ماں ’’انسانی ہیولا ‘‘ کہتی، یہ بادشاہ کیلیگیو کے قتل ہو نے پر 60سال کی عمر میں بادشاہ بن گیا اور پھر جب یہ بیوی کے ہاتھوں قتل ہوا تو اس کا بیٹا نیرو برسرِاقتدار آیا ۔یاد رہے کہ جب روم جل رہا تھا تو کلاڈیس کا بیٹا یہی نیرو بیٹھا بانسری بجارہا تھا ۔ہسپا نوی ادب کا بابا مگو ئل ڈی سرو ینٹیز ساٹھ سال کی عمر میں ادبی دیوتا بنا ، اس سے پہلے وہ فوج کا بھگوڑا ،ناکام شاعر اور فلاپ ڈرامہ نگار تھا اور ٹیکس کلکٹر کی نوکری کے دوران تو اسے جیل بھی ہوئی ۔ امریکہ میں فرانسیسی پکوان متعارف کروانے والی جولیا چائلڈ کو پیسہ اور شہرت55سال کی عمر کے بعد ملا ،اس بڈھی مائی پر ہالی ووڈ میں فلم بھی بن چکی ہے۔ ژاں ژاک روسو جسے اس کے دوست پاگل سمجھتے ، اس نے اپنی جوانی پورپین ممالک کی آوارہ گردی میں گذاری وہ بحیثیت استاد،سیکرٹری اور موسیقار بری طرح ناکام ہوا لیکن 55بر س کی عمر میں لکھے گئے اسکے ناول ’’ایملی ‘‘ نے اس کیلئے شہرت اور دولت کا ہر دروازہ کھول دیا۔ماڈرن آرٹ کے بانی پال سیزانے کی جوانی لوگوں کی تضحیک اور تنقید برداشت کرتے گذری، مایوسی میں ایکدن اس نے اپنے زیادہ تر فن پارے ضائع بھی کر دیئے مگر 56سال کی عمر کے بعد اسی نے ایسی مصور ی کی کہ دنیا عش عش کر اٹھی ۔جاسوسی ادب کی ملکہ اور 51زبانوں میں پڑھی جانے والی سڈنی شیلڈن 17سال کی عمر میں فاقوں اور بے روزگاری سے تنگ آکر خود کشی پر آمادہ تھی ،وہ جنگی پائلٹ بھی رہی ، اس نے ڈ رامے بھی لکھے مگر 55سال کی عمر میں وہ جاسوسی ادب کی طرف آئی اور چھاگئی ۔ اسی طرح ایف مرے ابراہم کو 35سال اداکاری کر نے کے بعد بڑھاپے میں اکیڈمی ایوارڈ ملا ، کے ایف سی برگر کے بانی ہیرلین سینڈر نے اپنی ’’فوڈ چین‘‘ پر جب کام شروع کیا تواس وقت اسکی عمر 66برس تھی اورجو زے ساراماگو کو بین الاقوامی پذیرائی بڑھاپے میں ملی جبکہ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ایوارڈ یافتہ ادبی شہ پارے ’’راکھ ‘‘ اور’’بہاؤ‘‘ پچاس سال کی عمر کے بعد لکھے ۔ یہاں کچھ تذکرہ ان بوڑھوں کا بھی کہ جو اقتدار کو ایسے چمٹے ہوئے کہ جیسے بڑھاپے کو بیماریاں، ان میں زمبابوے کا بابا رابرٹ موگا بے سرِفہرست ،یہ 92سال کا ہوچکا مگر ابھی بھی صدر ، مادام الزبتھ ملکہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ 89سال کی عمر میں کینیڈا،آسٹریلیا سمیت 15ممالک کی شہزادی بھی،تیونس کے صدر بی جی کیڈکی عمر 90سال، دو سال پہلے جب ایکواڈور کا صدر ٹیلمو وارگس فوت ہوا تو اس کی عمر 102سال تھی اور پھر اپنے سعودی عرب کا تو ہر ولی عہد ہی 70سال کا ۔اب ذکر ان بزرگوں کا کہ جن سے خود بڑھاپا بھی خوفزدہ ،جیسے 65سالہ جرمن خاتون اینگرٹ روپنک جو اگلے چند ہفتوں میں 4بچوں کو جنم دینے والی ہے، کینیا کی 90سالہ پرسیلا سیڈماتی جس نے دو ماہ پہلے پرائمری سکول میں داخلہ لیا ، روم کے 92سالہ نکولا جس نے اِسی سال آٹھویں جماعت پا س کی،101سالہ برطانوی خاتون ڈورس لونگ جو ابھی ایک ہفتہ پہلے 94میٹر بلند ٹاور سے رسی کے ذریعے نیچے اتر چکی اور 103سالہ برطانوی جارج کربے جس نے چند ماہ پہلے 91سالہ ڈورین سے شادی کر لی اور ہاں یہ بھی سنتے جائیے کہ امریکی ریاست مشی گن کی جبرالین ٹیلی 116سال کی عمر میں اس وقت دنیا بھرکی خواتین میں سب سے بڑی جبکہ 112 سالہ جاپانی یاستاروکوڈی اس وقت مردوں میں عمر رسید ہ ۔ اب ایک طرف ان بین الاقوامی بابے اور بابیوں کی شان ،جبکہ دوسری طرف اپنے ہاں چند بچے کھچے اپنے قومی بزرگوں کی مسلسل ہوتی ناقدری ،بہت بری بات ، ابھی سے بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستانی جن کے صدر ممنون کو دیکھ کر اور سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کوسُن کر ہاسے نکل جاتے ہیں ، وہ حضرات جو بلاول بھٹو کے ہاتھوں اپنے قومی ورثے قائم علی شاہ کی جواب طلبیوں پر پھولے نہیں سماتے، وہ سامعین وناضرین جو روائیددخان ، ائیر مارشل اصغر خان،حمید گل اور اسلم بیگ کی ہزارویں کہانی سننے کے موڈ میں نہیں، وہ لوگ جو شریف الدین پیرزادہ سے اب آئین کے مزید آپریشن کروانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور وہ سب جو فخرو بھائی کواگلے الیکشن کا سربراہ بنانے سے گریزاں ہیں ، یہ سب اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اپنے ان نایاب بابوں کی عزت کریں ،آج ٹھٹھے اڑانے اور مذاقیاں کرنے والو تم اُس وقت کیا کرو گے کہ جب سو سال بعد یہ نادر اور ناپید بابے اللہ کو پیارے ہو جائیں گے ( ویسے سو سال بعد ہمارے یہ بابے اللہ کو پیارے ہو جائیں گے ۔۔۔ لگتا تو نہیں)۔

جب کوئی بندہ ہاتھوں اور پاؤں کا کام زبان سے لینے لگ جائے تو سمجھو وہ بوڑھا ہو گیا، بزرگی یا بڑھاپے کی ایک نشانی یہ بھی کہ جس دن آپ اپنے بزر گ کا کام کر کے آئیں وہ کام ہی بھول چکے ہوں اور جس دن آپ ان کا کام کرنا بھول جائیں انہیں وہ کام یاد ہو۔ بوڑھوں کی تین قسمیں زیادہ مشہورہیں ، ایک وہ جو خود کو بوڑھا سمجھتے ہیں،دوسرے وہ جنہیں لوگ بوڑھا سمجھتے ہیں اورتیسرے وہ جو واقعی بوڑھے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں قدرتی وسائل میں سوئی گیس ،کوئلہ اور بچے جبکہ قدرتی مسائل میں سیاستدان ،سیلاب اور بزرگ سرِفہرست ۔ عربی کہاوت ہے کہ بزرگ کا پیٹ، بچے کا منہ ،عورت کی آنکھیں اور خاوند کا دل کبھی نہیں بھرتا ۔ بچوں سے یاد آیا کہ دنیا بھر میں انیس بیس کے فرق سے بچے اور بوڑھے ایک جیسے ہی ملیں ، جیسے دونوں کے منہ میں دانت نہ سرپر بال اور دونوں کریں کچھ بھی نہ مگر ہر لمحے مصروف ۔ بچہ جب بولے تو سب خوش اور بزرگ چپ ہو تو سب خوش، بچے شادی کی بات کریں تو گھر والے ہیپی ، بزرگ یہی بات کریں تو ہمسائے ویری ہیپی ، بچے جب تک کہانی سن نہ لیں انہیں نیند نہ آئے اور بزرگ جب تک کسی کو سنانہ لیں انہیں بھی نیند نہ آئے ۔بچوں کے چہروں پہ گلاب کھلیں جبکہ بزرگوں کی آنکھوں میں موتیا۔بچوں کو توجہ نہ دیں تو وہ آدھے رہ جائیں ،بزرگوں کو توجہ نہ ملے تو آپ آدھے رہ جائیں، کوئی بچہ بزرگوں کی بات نہ سنے تو یہ پورے گھر کو پریشان کر دیں اور اگر ان کی بات سن لی جائے تو گھر کیا پورا محلہ ہی پریشان ہو جائے ،بچوں کے ساتھ مسئلہ یہ کہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہتے جبکہ بزرگوں کی پرابلم یہ کہ اگر یہ ایک بار بزرگ ہو جائیں تو پھر بزرگ ہی رہیں بلکہ کچھ تو مزید بزرگ ہو جائیں۔ شیخو کہتا ہے کہ جوانی اور بڑھاپا کسی شے کانام نہیں بلکہ یہ محض ایک اندازِفکر ہے کیونکہ جب تک انسان آنے والے وقتوں کی پلاننگ کرتا رہتا ہے وہ جوان ہے اور جب وہ گذرے زمانوں میں رہنا شروع کر دے تو وہ بوڑھا ہے ۔لیکن ہمارے ایک سیانے دوست کے مطابق جوانی بھی ہوتی ہے اور بڑھاپا بھی، اسی نے بتایا کہ لڑکی سے ملنے سے پہلے جو بال درست کرے وہ جوان اور جو نہ کرے وہ بوڑھا، حالانکہ ہمارا تجربہ یہی بتائے کہ جوانی میں بال درست تو کیئے جائیں مگر لڑکی سے ملنے کے بعد اور بڑھاپے میں بال درست کرنے کیلئے لڑکی کا ہونا اتنا ضروری نہیں کہ جتنا سر پر بالوں کا ہونا ضروری ۔ ہمارے معاشرے میں بوڑھا غریب ہوتو وہ چپ رہ کر بھی خبطی کہلائے ، بابا امیر ہو تو سارے دن کے اول فول کے بعد بھی سیانے کا سیانا۔ کہتے ہیں کہ جس نے جوانی مغرب میں نہیں گذاری اس نے اپنی جوانی ضائع کر دی اور جسکا بڑھاپا مشرق میں نہیں گذرا اُس کا بڑھاپا ضائع ہو گیا ۔ بزرگ بولنے والی وہ مشین کہ جس کے آن آف کے سوئچ ہمیشہ ڈھیلے، لہذا اگر کوئی بزرگ 5منٹ تک نصیحت نہ کرے تو اس کی زبان اور آنکھوں کا معائنہ کریں اور اگر خاموشی دس منٹ کی ہوجائے تو فوراً نبض چیک کر لیں ۔ تجربہ بتائے کہ انسان کی بڑھاپے میں جتنی عزت ہوتی ہے اتنی پوری عمر نہیں ہوپا تی اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ اس وقت اسے کوئی جاننے والا زندہ ہی نہیں ہوتا ۔ بڑھاپے میں دوائیوں کے بعد سب سے بڑا خرچہ سالگرہ کا اور پوری سالگرہ کا خرچہ ایک طرف جبکہ موم بتیاں خریدنے کا خرچہ ایک طرف، کیک پر ا تنی موم بتیاں لگیں کہ کیک انہیں اٹھاتے اٹھاتے اور بندہ انہیں بجھاتے بجھاتے دونوں بوڑھے ہو جائیں ۔جوانی میں جیسے تہمت لگے بڑھاپے میں ایسے کھانسی اور کھانسی بزرگوں کی وہ پسندیدہ ان ڈور گیم کہ جس کے ذریعے بیٹھے بیٹھے وہ ایک منٹ میں پورے جسم کی ورزش کر لیں ، بوڑھا تو اظہارِ محبت بھی یوں کر ے کہ جیسے کسی کی عیادت کر رہا ہو۔ ویسے تو جب سے امتیابھ بچن عین عالمِ بڑھاپے میں دوبارہ سپرہٹ ہوا اور جب سے اسکی فلم ’’بڈھا ہو گا تیرا باپ ‘ ‘ خواتین کی پسندیدہ فلم ٹھہری تب سے چار پائیوں سے لگے ہمارے سب بزرگ بھی نہ صرف پھر سے چلنے پھرنے لگ پڑے بلکہ کئی تو اب ’’بڈھا ہو گا تیرا باپ ‘‘کی منہ بولتی تصویریں بن چکے لیکن امیتابھ بچن کی تو خیر جوانی بھی ہٹ تھی ، ہماری دنیا میں تو کئی ایسے بھی ہیں کہ انتہائی ناکام جوانیوں کے بعد جنہیں بڑھاپا ایسا راس آیا کہ سبحان اللہ ۔ جیسے درجن بھر بیماریوں میں گھِرا پیدائشی لنگڑا شہنشاہ کلا ڈیس جسے اسکی ماں ’’انسانی ہیولا ‘‘ کہتی، یہ بادشاہ کیلیگیو کے قتل ہو نے پر 60سال کی عمر میں بادشاہ بن گیا اور پھر جب یہ بیوی کے ہاتھوں قتل ہوا تو اس کا بیٹا نیرو برسرِاقتدار آیا ۔یاد رہے کہ جب روم جل رہا تھا تو کلاڈیس کا بیٹا یہی نیرو بیٹھا بانسری بجارہا تھا ۔ہسپا نوی ادب کا بابا مگو ئل ڈی سرو ینٹیز ساٹھ سال کی عمر میں ادبی دیوتا بنا ، اس سے پہلے وہ فوج کا بھگوڑا ،ناکام شاعر اور فلاپ ڈرامہ نگار تھا اور ٹیکس کلکٹر کی نوکری کے دوران تو اسے جیل بھی ہوئی ۔ امریکہ میں فرانسیسی پکوان متعارف کروانے والی جولیا چائلڈ کو پیسہ اور شہرت55سال کی عمر کے بعد ملا ،اس بڈھی مائی پر ہالی ووڈ میں فلم بھی بن چکی ہے۔ ژاں ژاک روسو جسے اس کے دوست پاگل سمجھتے ، اس نے اپنی جوانی پورپین ممالک کی آوارہ گردی میں گذاری وہ بحیثیت استاد،سیکرٹری اور موسیقار بری طرح ناکام ہوا لیکن 55بر س کی عمر میں لکھے گئے اسکے ناول ’’ایملی ‘‘ نے اس کیلئے شہرت اور دولت کا ہر دروازہ کھول دیا۔ماڈرن آرٹ کے بانی پال سیزانے کی جوانی لوگوں کی تضحیک اور تنقید برداشت کرتے گذری، مایوسی میں ایکدن اس نے اپنے زیادہ تر فن پارے ضائع بھی کر دیئے مگر 56سال کی عمر کے بعد اسی نے ایسی مصور ی کی کہ دنیا عش عش کر اٹھی ۔جاسوسی ادب کی ملکہ اور 51زبانوں میں پڑھی جانے والی سڈنی شیلڈن 17سال کی عمر میں فاقوں اور بے روزگاری سے تنگ آکر خود کشی پر آمادہ تھی ،وہ جنگی پائلٹ بھی رہی ، اس نے ڈ رامے بھی لکھے مگر 55سال کی عمر میں وہ جاسوسی ادب کی طرف آئی اور چھاگئی ۔ اسی طرح ایف مرے ابراہم کو 35سال اداکاری کر نے کے بعد بڑھاپے میں اکیڈمی ایوارڈ ملا ، کے ایف سی برگر کے بانی ہیرلین سینڈر نے اپنی ’’فوڈ چین‘‘ پر جب کام شروع کیا تواس وقت اسکی عمر 66برس تھی اورجو زے ساراماگو کو بین الاقوامی پذیرائی بڑھاپے میں ملی جبکہ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ایوارڈ یافتہ ادبی شہ پارے ’’راکھ ‘‘ اور’’بہاؤ‘‘ پچاس سال کی عمر کے بعد لکھے ۔ یہاں کچھ تذکرہ ان بوڑھوں کا بھی کہ جو اقتدار کو ایسے چمٹے ہوئے کہ جیسے بڑھاپے کو بیماریاں، ان میں زمبابوے کا بابا رابرٹ موگا بے سرِفہرست ،یہ 92سال کا ہوچکا مگر ابھی بھی صدر ، مادام الزبتھ ملکہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ 89سال کی عمر میں کینیڈا،آسٹریلیا سمیت 15ممالک کی شہزادی بھی،تیونس کے صدر بی جی کیڈکی عمر 90سال، دو سال پہلے جب ایکواڈور کا صدر ٹیلمو وارگس فوت ہوا تو اس کی عمر 102سال تھی اور پھر اپنے سعودی عرب کا تو ہر ولی عہد ہی 70سال کا ۔اب ذکر ان بزرگوں کا کہ جن سے خود بڑھاپا بھی خوفزدہ ،جیسے 65سالہ جرمن خاتون اینگرٹ روپنک جو اگلے چند ہفتوں میں 4بچوں کو جنم دینے والی ہے، کینیا کی 90سالہ پرسیلا سیڈماتی جس نے دو ماہ پہلے پرائمری سکول میں داخلہ لیا ، روم کے 92سالہ نکولا جس نے اِسی سال آٹھویں جماعت پا س کی،101سالہ برطانوی خاتون ڈورس لونگ جو ابھی ایک ہفتہ پہلے 94میٹر بلند ٹاور سے رسی کے ذریعے نیچے اتر چکی اور 103سالہ برطانوی جارج کربے جس نے چند ماہ پہلے 91سالہ ڈورین سے شادی کر لی اور ہاں یہ بھی سنتے جائیے کہ امریکی ریاست مشی گن کی جبرالین ٹیلی 116سال کی عمر میں اس وقت دنیا بھرکی خواتین میں سب سے بڑی جبکہ 112 سالہ جاپانی یاستاروکوڈی اس وقت مردوں میں عمر رسید ہ ۔ اب ایک طرف ان بین الاقوامی بابے اور بابیوں کی شان ،جبکہ دوسری طرف اپنے ہاں چند بچے کھچے اپنے قومی بزرگوں کی مسلسل ہوتی ناقدری ،بہت بری بات ، ابھی سے بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستانی جن کے صدر ممنون کو دیکھ کر اور سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کوسُن کر ہاسے نکل جاتے ہیں ، وہ حضرات جو بلاول بھٹو کے ہاتھوں اپنے قومی ورثے قائم علی شاہ کی جواب طلبیوں پر پھولے نہیں سماتے، وہ سامعین وناضرین جو روائیددخان ، ائیر مارشل اصغر خان،حمید گل اور اسلم بیگ کی ہزارویں کہانی سننے کے موڈ میں نہیں، وہ لوگ جو شریف الدین پیرزادہ سے اب آئین کے مزید آپریشن کروانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور وہ سب جو فخرو بھائی کواگلے الیکشن کا سربراہ بنانے سے گریزاں ہیں ، یہ سب اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اپنے ان نایاب بابوں کی عزت کریں ،آج ٹھٹھے اڑانے اور مذاقیاں کرنے والو تم اُس وقت کیا کرو گے کہ جب سو سال بعد یہ نادر اور ناپید بابے اللہ کو پیارے ہو جائیں گے ( ویسے سو سال بعد ہمارے یہ بابے اللہ کو پیارے ہو جائیں گے ۔۔۔ لگتا تو نہیں)۔

ایک شخص پوسٹ آفس جا کر کاؤنٹر کلرک سے کہنے لگا ’’میری بیوی گم ہوگئی ہے رپورٹ لکھیں‘‘۔کلرک نے کہا ’’حضور یہ پوسٹ آفس ہے پولیس اسٹیشن نہیں ‘‘، یہ سن کر وہ شخص بولا ’’اوہ اچھا ،معاف کرنا، دراصل خوشی میں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ جانا کدھر ہے‘‘۔جج نے ملزم سے کہا کہ ’’تم پر الزام ہے کہ تم نے 10سال بیوی کو ڈرا دھمکا کر اپنے کنٹرول میں رکھا ‘‘،ملزم لیکن سر ۔۔۔جج۔۔ صفائی چھوڑ طریقہ بتا ۔نامور شاعر منیر نیازی شادی کے بعد کراچی گئے تو جون ایلیا سے ملاقات ہوگئی ۔جون ایلیا نے کہا ’’منیر خان تمہارے تو آدھے بال سفید ہو گئے ‘‘۔منیر نیازی بولے ’’شادی کے بعد جو مجھ پر گذری اگر تم پر گذرتی تو تمہارا تو خون بھی سفید ہو جاتا ‘‘۔ عین رخصتی کے وقت دولہے کا موبائل بجا اور پھر نئی نویلی دلہن نے اُسے خوب مارا کیونکہ دولہے کے موبائل کی رِنگ ٹون تھی ’’دل میں چھپا کے ارمان لے چلے،ہم آج اپنی موت کا سامان لے چلے ‘‘۔ تاریخ نے آدم ؑ وحواؑ کو خوش نصیب جوڑا کہا کیونکہ ان کی زندگی ایسی خوشگوار تھی کہ بی بی حواؑ نے تو حضرت آدم ؑ کو یہ طعنہ بھی نہ مارا کہ ’’ میں ہی ہوں جو ساتھ نبھا رہی ہوں کوئی اور ہوتی تو تمہیں کب کی چھوڑ کر جا چکی ہوتی ‘‘اور نہ ہی حضرت آدم ؑ نے اماں حواؑ سے کہا کہ ’’اوہ ہو،کتنے اچھے اچھے رشتے موجود تھے پتا نہیں مجھے کیا ہوا جو تجھے پسند کر بیٹھا ‘‘۔ اس جوڑے کی خوشگوار زندگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے پاس چوائس نہیں تھی اور آج فساد کی جڑ بھی یہی کہ آج چوائس بہت ہے ۔ کہتے ہیں کہ بیوی کی خوبیاں تلاش کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے اپنی خامیاں تلاش کرنا ۔ بیوی نئی ہو تو کہیں دل نہیں لگتا،پرانی ہو جائے تو پھر تو واقعی دل نہیں لگتا،بیگم خوبصورت ہو تو نظر نہیں ہٹتی، خوبصورت نہ ہوتو نظر نہیں لگتی، باپردہ بیوی وہ جو شوہر کو ہر عورت سے پردہ کرا دے ، خوبصورت بیوی وہ جسکی شوہر ہر بات سنتا ہو، خوب سیرت بیوی وہ جو شوہر کی ہر بات سنتی ہواور دنیا کی سب سے اچھی ہستی ماں بشرطیکہ وہ آپ کی ہو آپکے بچوں کی نہیں ۔ تحقیق بتائے کہ جو مرد اپنے باپ کی بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھائیں، ان کی عمریں دراز ہوتی ہیں اور جنہیں اپنے بچوں کی ماں کا پکا ہو ا کھانا پڑے انہیں اپنی عمریں دراز لگنے لگ جاتی ہیں ۔ ایک مرتبہ آلوؤں کے پراٹھے کھاتے ہوئے شوہربولا ’’یہ آلوؤں کے کیسے پراٹھے ہیں کہ جن میں آلو نظر ہی نہیں آرہے،بیگم نے کچن سے ہی جواب دیا ’’چپ کر کے کھاؤ، مجھے بھی تمہاری ماں کے کشمیری پلاؤ میں کبھی کشمیر نظر نہیں آیا‘‘۔ وہ عورت جسے آپ ساری زندگی متاثر نہیں کر سکتے ،وہ بیوی ہے اور وہ عورت جسے آپ چند منٹوں میں متاثر کرسکتے ہیں وہ بھی بیوی مگر دوسرے کی ۔ وہ بیویاں جو اپنے خاوندوں کو یہ طعنہ دیں کہ نکھٹوؤ شاہ جہاں کو دیکھو کہ جس نے اپنی بیوی ممتاز کی محبت میں تاج محل بنادیا، ان تمام بیویوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ شاہ جہاں نے سات شادیاں کیں اور ممتاز اُس کی چوتھی بیوی تھی ۔شاہ جہاں نے ممتاز کے پہلے خاوند علی قلی خان کو قتل کروا کر اس سے شادی کی ۔ ممتاز 14واں بچہ پیدا کرتے ہوئے مری اور ممتاز کے مرنے کے بعد شاہ جہاں نے اسکی چھوٹی بہن سے شادی کر لی ۔اب بتاؤ ابھی بھی چاہیے تاج محل ۔ ہر بیوی کی نظر میں دنیا کا سب سے بہترین اور مکمل آدمی اس کا باپ،دنیا کا سب سے دکھی خاوند اس کا اپنا بھائی ، دنیا کا سب سے خوبصورت مرد اس کا بیٹا ،دنیا کا سب سے خوش نصیب آدمی ا سکی بہن کا شوہر اور دنیا کا سب سے کنجوس ،خود غرض اور بیکار شخص اس کا اپنا شوہر ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب روسی صدر گورباچو ف کی بیگم رئیسہ کے بڑے چرچے تھے لیکن پھر روس ٹوٹ گیا ۔ امریکی خواتین اول میں کچھ تو کمال کی بیویاں نکلیں ، جیسے صدر جارج واشنگٹن کو اپنی 5فٹ سے بھی کم قدوالی امیر بیوی مارتھا کی دولت نہ ملتی تووہ کبھی صدر نہ بن پاتے ،یہی مارتھا اپنے وائٹ ہاؤس میں رہنے کو ’’سرکاری قید ‘‘کہا کرتی۔ ایبی گائل وہ پہلی خاتون کہ جس کا خاوند او ر بیٹا دونوں امریکی صدر بنے ۔صدر جیمز میڈیسن کی بیوی ڈولی نسوار سونگھنے کے نشے میں مبتلا تھی ( اس پٹھان کا تو پتا نہیں چلا جو یہ نسوار پہنچاتا رہا مگر پٹھانوں کی پہنچ دیکھیں ) ،صدر جیمز پولک کی بیوی ساراچلڈ ریس نے وائٹ ہاؤس میں شراب نوشی ،رقص اور تاش کھیلنے پر پابندی لگائے رکھی ،صدر فرینکلن کی بیوی جین پیرس اپنے 3بیٹوں کی اوپر تلے اموات کے بعد نیم پاگل ہو گئی ، صدر کینڈی کے قتل کے بعد ان کی بیگم جیکو لین کینڈی کو امریکہ سے ایسی نفرت ہوئی کہ ا س نے یونان جا کر ایک ارب پتی سے شادی کر لی، مردوں پر ہمیشہ شک کرنے والی جیکو لین کینڈی غصے کی بہت تیز تھی ، ایک مرتبہ ایک صحافی نے پوچھا ’’آپ کا کتا کیا کھانا پسند کر تاہے‘‘ تو جیکو لین بولی ’’پریس رپورٹرز‘‘۔ امریکی صدر ریگن کی بیوی نیسنی اتنی باتونی تھی کہ اس کی سن سن کر بالآخر ریگن کے کان جواب دے گئے اور زندگی کے آخری سال ریگن نے بہرے پن میں گذارے ۔ کلنٹن اور ہیلری کو مونیکا لیونسکی ایسی بری نظر بن کر لگی کہ ایک عرصے تک دونوں کے تعلقات ایسے ہی رہے کہ جیسے آجکل صدر اوبامہ اور انکی اہلیہ مشل کے ہیں ۔ ایک آدمی ایک بزرگ کے پاس گیا اور کہا ’’میں جب بھی کوئی کام کرتا ہوں ،میری بیوی آگے آجاتی ہے ،کوئی حل بتائیں ،بزرگ بوے ’’توں ٹرک چلا کے ویکھ ،اللہ مہربانی کرے گا ‘‘۔ آئے روز بیویاں اور گاڑیاں بدلتے عربیوں کے دیس سعودی عرب میں ابھی پچھلے ماہ ایک سعودی شخص نے دوسری شادی کی تو سہاگ رات والی رات ہی غصے سے بھری پہلی بیوی اپنے شوہر کی گاڑی لے کر نکلی اور ٹریفک قوانین کی اتنی خلاف ورزیاں کیں کہ شوہر کو 3لاکھ ریال جرمانہ بھرنا پڑا۔ اپنے ملک کی بات کریں تو یہاں تو خیبر سے کراچی تک زرداری صاحب سے زیادہ خوش نصیب خاوند اور کوئی نظر ہی نہیں آتا ۔ وہ بیوی کی وجہ سے زمین سے آسمان پر پہنچے اور جب بی بی آسمان پر پہنچیں تو وہ نیچے آکر بادشاہ بن بیٹھے اور اب خود تو زمین پر ہی رہنے کیلئے کوشاں مگر بی بی کی پارٹی بی بی کے پاس پہنچانے کے خواہشمند ۔ ویسے پاکستان ہے بڑا عجیب ملک کہ جہا ں گھر گھر تو ’’بیوی راج ‘‘ مگر حکومت’’ میاں‘‘ کی ۔ یہاں ذرا کیمرون کاحال بھی سن لیں ، اس افریقی ملک میں جب بادشاہ مرتا ہے تو ولی عہد کو وراثت میں بادشاہت کے ساتھ مرحوم بادشاہ کی بیویاں بھی مل جاتی ہیں۔ اسی ورثے کی بدولت کیمرون کے موجود ہ بادشاہ سلامت 70بیویوں کے اکلوتے خاوند ہیں ۔ ایک مرغااپنے بیمار مالک کے سامنے دیوار پر بیٹھا تھا کہ بیگم صاحبہ آئیں اور اپنے خاوند کی نبض چیک کر کے بولیں ’’ کمزوری جائے گی تو آپ کا بخار اترے گا، میں آج آپ کیلئے چکن سوپ بنا تی ہوں ‘‘ یہ کہہ کر بیگم نے جب مرغے کی طرف دیکھا تو مرغا گھبرا کر بولا ’’ باجی جی اِک و اری دودھ دے نال Panadol دے کے ویکھ لو ‘‘۔ پٹھان سے کسی نے پوچھا کہ بیوی ،بیگم اور وائف میں کیا فرق ہے، پٹھان بولا ’’کوئی فرق نہیں یہ بھی بھارت، ہندوستان اور انڈیا کی طرح ایک ہی دشمن کے 3نام ہیں ۔ ایک پہلوان کا شاگرد شادی کی صبح سہرا باندھے گھوڑے پر سوار اکھاڑے میں آیا اور پہلوان کے گھٹنے چھو کربولا ’’استاد جی کوئی نصیحت ‘‘ اک پہلوانی جھپی کے بعد پہلوان نے کہا ’’ بچے تمہارے پاس گھوڑا بھی ہے اور وقت بھی ، بھاگ جا ‘‘۔ ہمارے ہاں میرج لائف ایسے ہی ہوتی ہے کہ جیسے پارک میں واک کرنا ،بس مسئلہ اتنا سا کہ یہ پارک۔۔۔ جراسک پارک ہوتا ہے ۔ یہاں شادی اور درویشی اختیار کرنے کا End Result ایک ہی نکلے کیونکہ ترکِ دنیاکرنے پر ایک کو اللہ مل جائے اور دوسرے کو وہ بیوی جو بالآخر اُسے اللہ تک پہنچا کر ہی دم لے ۔ہمارے معاشرے میں شوہر سر اور بیوی وہ گردن جو سر کو جب اور جس طرف چاہے موڑ لے ۔ ہمارے ہاں Wife لگے تبھی Cuteجب ہو وہ Muteاور شوہر ہو تبھی Honeyجب دے روزانہ Money۔ جاتے جاتے بیویوں سے ایک گذارش کہ اس سے بڑی بیوقوف بیوی کوئی ہو ہی نہیں سکتی کہ جو خاوند کو غلام بنا کر پھر عمربھر خود بھی غلام کی بیوی کہلائے اور اُس سے عقلمند بیوی بھلا کون ہو گئی جو شوہر کو بادشاہ بناکر خود ساری زندگی ملکہ بنی ر ہے اوریہاں شوہروں سے بھی ایک درخواست کہ قبلہ ’’تانکا جھانکی پروگرام ‘‘اور چوائس پر نہیں اپنی بیگموں پرفو کس کریں اور چوری چھپے دعائیں مانگنے اور صدقے دینا بند کر دیں کیونکہ دعاؤں اور صدقے سے ہر بلا ٹل سکتی ہے مگر وہ نہیں کہ جس سے آپ کا نکا ح ہو چکا ہو۔