Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

چند کلو فروٹ ،گوشت یا سبزی خریدنی ہو ،کپڑوں کا ایک جوڑا یا جوتے لینے ہوں ہم نہ صرف خود بازار جاتے ہیں بلکہ ہر چیز ٹھوک بجا کر اور مکمل بھاؤ تاؤ کر کے لیتے ہیں۔ہمیں واپڈا ،انکم ٹیکس یا سوئی گیس کا کوئی نوٹس آجائے تو پہلے گھر میں صلاح مشورہ پھر دوستوں سے مدد اور اگرضرورت پڑے تو وکیل بھی حاضر ۔ ہمیں بچوں کے سکول سے بلاوا ہو یا ہماری دفتر میں کوئی میٹنگ یا بریفنگ توہم مکمل تیاری کے ساتھ جائیں ، پھر ہمیں پوری دنیا کی سیاست ،تجارت اور معاشرت اَز بر ،ہمیں ہالی ووڈ سے بالی ووڈ تک کے اداکاروں کا ہر آفیئر یا د اورہمیں کرکٹروں سے فٹبالروں تک سب کھلاڑیوں کی سب باتوں کا پتا، مطلب معاملہ اگر دنیا کا ہو تو ہمارے پاس وقت بھی اور ہماری دلچسپی بھی ۔ مگر دوسری طرف پیدائش سے جنازے تک اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے یا رسول ؐ نے ہمیں کیا سمجھایا ، ہمیں نہ تو اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ اس حوالے سے کچھ معلوم، 15سو سال پہلے نازل ہوئے قرآن میں ہمارے لیئے کیا کچھ ہے ہمیں نہ تو اس سے کوئی غرض ہے اور نہ کچھ پتا ۔ قرآن سمجھ کر پڑھنا تو دور کی بات ہمیں تویہ بھی پتا نہیں کہ نماز میں جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں ان آیتوں کا مفہوم کیا ہے یعنی معاملہ دین کا ہو تو نہ تو ہمیں کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہمارے پاس اس کیلئے کوئی وقت ۔یہی وجہ ہے کہ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ اللہ نے جوبتایا اور نبی ؐ نے جو سمجھایا ہماری عملی زندگیاں اس کے بالکل الٹ ۔ جیسے نبی ؐکا فرمان کہ ’’دین کی بنیاد خوفِ خدا پر ہے ‘‘ مگر ہماری زندگیوں میں ہر خوف موجود سوائے خوفِ خدا کے ۔ اللہ کاکہنا کہ ’’ کافروں کو اپنا سرپرست اور یہود ونصاری کو اپنا دوست مت بناؤ‘‘ مگر ہمارے نہ صرف دوست کافر بلکہ یہود ونصاری ہمارے وہ سرپرست کہ جن کے پاس ہماری اولادیں بھی اور جائیدادیں بھی ۔ قرآن کہے ’’ سود اللہ اور رسولؐ سے جنگ ‘‘ مگر ہمارے ہر کاروبار کی بنیاد سود اور ہمارے پورے نظام کی عمارت سود پر، مطلب پوری قوم اللہ اور رسول ؐکیخلاف میدانِ جنگ میں ۔ حضور ؐ نے کہا’’ رشوت گناہ کبیرہ،رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی‘‘۔لیکن ہم دن دیہاڑے بڑے دھڑلے سے رشوت لیں بھی اور رشوت دیں بھی ۔اللہ کہے کہ ’’غیبت کرنے کا مطلب مردہ بھائی کا گوشت کھانا‘‘ جبکہ رسول ؐ بتائے کہ ’’غیبت کرنیو الے کو اللہ تعالیٰ گھر بیٹھے ذلیل کر دے ‘‘۔ مگر ہماری حالت یہ کہ گھروں سے مسجدوں تک غیبت ہی غیبت اور محسو س ایسا ہو کہ آج ہمارا قومی کھیل ہاکی نہیں غیبت ہے ۔حضور ؐ کا کہنا کہ’’ جھوٹ کا انجام جہنم‘‘ جبکہ ہم ایسے عادی جھوٹے کہ اب ضرورتاً نہیں عا دتاً بھی جھوٹ بولیں،پھر آپ ؐ نے ہی فرمایا ’’خدا اور قیامت پر یقین رکھنے والا اپنے پڑوسی کو دکھ نہ دے ،منافق کو سردار نہ بنائے ،بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرے،قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنائے ،حیاء کا دامن نہ چھوڑے،دنیا میں ایسے رہے کہ جیسے مسافر ‘‘اور آپ ؐ نے ہی بتایا کہ نفس کی بیماریوں کا علاج موت کی یاد ، جہل سے بڑ ھ کر کوئی غریبی نہیں،عقل سے بڑھکر کوئی دولت نہیں اور وحشت سے بڑھکر کوئی تکبر نہیں ، ہر اُمت کا ایک فتنہ جبکہ میری اُمت کا فتنہ مال اور جنت دوقدموں کے فاصلے پر ،پہلا قدم اپنے نفس پر رکھو گے تو دوسرا قدم جنت میں ہوگا‘‘ ۔ بدقسمتی تو یہ بھی کم نہیں کہ ہم قرآن اور سنت بھلا بیٹھے لیکن اس سے بھی بڑی بدنصیبی یہ کہ سب کچھ بھلا کر بھی ہم میں نہ تو احساسِ زیا ں ہے اور نہ پلٹنے اور واپسی کی کوئی خواہش ۔ کبھی کیا وقت تھا اور آج کیا وقت آگیا ۔کبھی مسجدیں کچی اور نمازی پکے تھے ،اب مسجدیں پکی اور نمازی کچے ہیں ۔ آج آدھا گھنٹہ مسجد میں بیٹھنا پڑ جائے تو قیامت لیکن فلم دیکھتے ہوئے ہمیں 3گھنٹوں کا پتا ہی نہیں چلتا ، ہم دن بھر کرکٹ میچ کی کمنٹری سنیں ، ہم موسیقی کیلئے رات بھر جاگیں،لیکن جمعے کا خطبہ تھوڑا سا لمبا ہو جائے تو ہماری پریشانی دیکھنے کے قابل ۔اگر مسجد میں دینا ہو تو ہمیں 100کا نوٹ بہت بڑالگے لیکن شاپنگ کرنی ہو تو ہمیں یہی نوٹ بہت چھوٹا لگے ۔ حالت یہ کہ آج ہمیں فرصت نہیں گھر سے مسجد تک آنے کی مگر خواہش ہے قبر سے سیدھا جنت جانے کی یعنی زندگی فرعون کی اور عاقبت موسیٰ کی ۔ کبھی کیا وقت تھا اور آج کیا وقت آگیا ، کبھی ایک عیسائی عورت کی پکار پر محمد بن قاسم راجہ داہر سے ٹکرا گیا ، لیکن آج 1947ء کے مشکل دنوں میں ہمیں 4750ٹن چاول بھجوانے والے برماکے 5ہزار مسلمان قتل ہوگئے،4ہزارکلمہ گو خواتین کی عزتیں لٹیں،10ہزار مسلمانوں کو گھروں سے نکا ل دیا گیا ،3سو مسجدوں کو تالے لگ گئے اور برمامیں قرآن پڑھنا اور قرآن سننا جرم ٹھہرا مگر نہ تو ایکدوسرے کی جڑیں کاٹتے ہمارے حکمرانوں نے توجہ دی اور نہ شعیب شیخ کی جعلی ڈگریوں، ایان علی کی منی لانڈرنگ اور قبلہ زرداری صاحب کی بیان بازیوں میں الجھی قوم ٹس سے مس ہوئی ۔ غیروں سے کیا گلہ ،ہمارے لیئے تو ہمارے اپنے ہی کافی ہیں ۔ ایک بار سونے نے لوہے سے کہا کہ ہم دونوں ایک ہی ہتھوڑی سے پٹتے ہیں مگر تم اتنا چلاتے کیوں ہو ؟لوہا بولا’’ جب اپنا ہی اپنے کو مارتا ہے تو بہت درد ہوتا ہے ‘‘۔ لیکن یہ وقت ایسے ہی نہیں آگیا ، بے عمل عقیدتوں اورمطلبی محبتوں کے غلافوں میں لپٹے اب صرف قرآن خوانیوں کیلئے رہ گئے اپنے قرآن کو ہی پڑھ لیں تو پتا چل جائے گا کہ اس شرمندگی ،اس رسوائی اور اس جگ ہنسائی کا سبب کیا ہے ۔ اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں کہ’’ قرآن مجید میں اللہ نے 20مرتبہ کہا کہ مجھ پر توکل کرو، 24مرتبہ اپنی اور رسول ؐ کی اطاعت اور 16مرتبہ عدل کی تلقین کی ، 38مرتبہ توبہ اور استغفار کا کہا ،42مرتبہ زکوٰۃ اور خیرات کا حکم دیا ،17مرتبہ بخل کی مذمت ،3مرتبہ فضول خرچی کی ممانعت اور 8مرتبہ ناپ تول کے معیار بتائے۔اپنی اس کتاب میں اللہ نے 5مرتبہ سود سے باز رہنے کی ہدایت کی ، 9مرتبہ امانت اور خیانت کے حوالے سے سمجھایا ،20دفعہ تہذیب،اخلاق اور پرہیزگاری،30مرتبہ صبر اور درگذر اور 14مرتبہ شکرپر بات کی ، اللہ تعالیٰ نے 11جگہوں پر حصول معاش کے طریقے بتائے،20مرتبہ منافقین کا تذکرہ کیا،5دفعہ پردے کا حکم ،5دفعہ کفار اور منافقین سے دو ری اختیار کرنے کا کہا اور 5بار یہ کہہ کر کہ خدا کا کوئی ایک کام بھی بے فائدہ نہیں ہوتا،16مرتبہ یہ بھی کہا کہ بندے اپنے کاموں میں خود مختار ہیں خدا کسی کو مجبور نہیں کرتا‘‘۔ اب ایک طرف وہ اللہ کہ جس نے سب کچھ واضح کر دیا اور وہ رسول ؐ کہ جس نے سب کچھ سمجھایا اور کر کے دکھایا اور دوسری طرف ہم لوگ ۔ مگرٹھہرئیے ابھی مایوسی نہیں، وقت ابھی بھی ہے اور مہلت ابھی بھی باقی اور پھر اس اللہ کے ہوتے ہوئے مایوسی کہ جس نے کبھی مایوس نہیں کیا ۔ مجھے اس وقت سورۃ الذمر کی وہ آیت یاد آرہی ہے کہ جس کے مکہ مکرمہ میں نازل ہونے پر حضوراکرم ؐ نے فرمایا’’مجھے ساری دنیا اور اسکی ہر چیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس آیت کے نازل ہونے پر ہوئی‘‘ ۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ رسول ؐ سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ ’’ کہہ دو میرے بندوں سے جو زیادتی کر بیٹھے اپنی جانوں پر ،اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بیشک اللہ ان کے سارے گناہوں کو معاف کر دے گا،بے شک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔تو دوستو ! ایک طرف رمضان المبارک کی وہ گھڑیا ں کہ جب شیطان قید ، دوزخ کے دروازے بند اور جب پوری کائنات رحمتوں کے گھیرے میں اوردوسری طرف بخشنے اور معاف کرنے کیلئے تیار بیٹھا رب ، تو سوچ کیا رہے ہو ،ایک سچی تو بہ تو بنتی ہے باس ۔

چند کلو فروٹ ،گوشت یا سبزی خریدنی ہو ،کپڑوں کا ایک جوڑا یا جوتے لینے ہوں ہم نہ صرف خود بازار جاتے ہیں بلکہ ہر چیز ٹھوک بجا کر اور مکمل بھاؤ تاؤ کر کے لیتے ہیں۔ہمیں واپڈا ،انکم ٹیکس یا سوئی گیس کا کوئی نوٹس آجائے تو پہلے گھر میں صلاح مشورہ پھر دوستوں سے مدد اور اگرضرورت پڑے تو وکیل بھی حاضر ۔ ہمیں بچوں کے سکول سے بلاوا ہو یا ہماری دفتر میں کوئی میٹنگ یا بریفنگ توہم مکمل تیاری کے ساتھ جائیں ، پھر ہمیں پوری دنیا کی سیاست ،تجارت اور معاشرت اَز بر ،ہمیں ہالی ووڈ سے بالی ووڈ تک کے اداکاروں کا ہر آفیئر یا د اورہمیں کرکٹروں سے فٹبالروں تک سب کھلاڑیوں کی سب باتوں کا پتا، مطلب معاملہ اگر دنیا کا ہو تو ہمارے پاس وقت بھی اور ہماری دلچسپی بھی ۔ مگر دوسری طرف پیدائش سے جنازے تک اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے یا رسول ؐ نے ہمیں کیا سمجھایا ، ہمیں نہ تو اس سے کوئی سروکار ہے اور نہ اس حوالے سے کچھ معلوم، 15سو سال پہلے نازل ہوئے قرآن میں ہمارے لیئے کیا کچھ ہے ہمیں نہ تو اس سے کوئی غرض ہے اور نہ کچھ پتا ۔ قرآن سمجھ کر پڑھنا تو دور کی بات ہمیں تویہ بھی پتا نہیں کہ نماز میں جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں ان آیتوں کا مفہوم کیا ہے یعنی معاملہ دین کا ہو تو نہ تو ہمیں کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہمارے پاس اس کیلئے کوئی وقت ۔یہی وجہ ہے کہ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ اللہ نے جوبتایا اور نبی ؐ نے جو سمجھایا ہماری عملی زندگیاں اس کے بالکل الٹ ۔ جیسے نبی ؐکا فرمان کہ ’’دین کی بنیاد خوفِ خدا پر ہے ‘‘ مگر ہماری زندگیوں میں ہر خوف موجود سوائے خوفِ خدا کے ۔ اللہ کاکہنا کہ ’’ کافروں کو اپنا سرپرست اور یہود ونصاری کو اپنا دوست مت بناؤ‘‘ مگر ہمارے نہ صرف دوست کافر بلکہ یہود ونصاری ہمارے وہ سرپرست کہ جن کے پاس ہماری اولادیں بھی اور جائیدادیں بھی ۔ قرآن کہے ’’ سود اللہ اور رسولؐ سے جنگ ‘‘ مگر ہمارے ہر کاروبار کی بنیاد سود اور ہمارے پورے نظام کی عمارت سود پر، مطلب پوری قوم اللہ اور رسول ؐکیخلاف میدانِ جنگ میں ۔ حضور ؐ نے کہا’’ رشوت گناہ کبیرہ،رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی‘‘۔لیکن ہم دن دیہاڑے بڑے دھڑلے سے رشوت لیں بھی اور رشوت دیں بھی ۔اللہ کہے کہ ’’غیبت کرنے کا مطلب مردہ بھائی کا گوشت کھانا‘‘ جبکہ رسول ؐ بتائے کہ ’’غیبت کرنیو الے کو اللہ تعالیٰ گھر بیٹھے ذلیل کر دے ‘‘۔ مگر ہماری حالت یہ کہ گھروں سے مسجدوں تک غیبت ہی غیبت اور محسو س ایسا ہو کہ آج ہمارا قومی کھیل ہاکی نہیں غیبت ہے ۔حضور ؐ کا کہنا کہ’’ جھوٹ کا انجام جہنم‘‘ جبکہ ہم ایسے عادی جھوٹے کہ اب ضرورتاً نہیں عا دتاً بھی جھوٹ بولیں،پھر آپ ؐ نے ہی فرمایا ’’خدا اور قیامت پر یقین رکھنے والا اپنے پڑوسی کو دکھ نہ دے ،منافق کو سردار نہ بنائے ،بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرے،قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنائے ،حیاء کا دامن نہ چھوڑے،دنیا میں ایسے رہے کہ جیسے مسافر ‘‘اور آپ ؐ نے ہی بتایا کہ نفس کی بیماریوں کا علاج موت کی یاد ، جہل سے بڑ ھ کر کوئی غریبی نہیں،عقل سے بڑھکر کوئی دولت نہیں اور وحشت سے بڑھکر کوئی تکبر نہیں ، ہر اُمت کا ایک فتنہ جبکہ میری اُمت کا فتنہ مال اور جنت دوقدموں کے فاصلے پر ،پہلا قدم اپنے نفس پر رکھو گے تو دوسرا قدم جنت میں ہوگا‘‘ ۔ بدقسمتی تو یہ بھی کم نہیں کہ ہم قرآن اور سنت بھلا بیٹھے لیکن اس سے بھی بڑی بدنصیبی یہ کہ سب کچھ بھلا کر بھی ہم میں نہ تو احساسِ زیا ں ہے اور نہ پلٹنے اور واپسی کی کوئی خواہش ۔ کبھی کیا وقت تھا اور آج کیا وقت آگیا ۔کبھی مسجدیں کچی اور نمازی پکے تھے ،اب مسجدیں پکی اور نمازی کچے ہیں ۔ آج آدھا گھنٹہ مسجد میں بیٹھنا پڑ جائے تو قیامت لیکن فلم دیکھتے ہوئے ہمیں 3گھنٹوں کا پتا ہی نہیں چلتا ، ہم دن بھر کرکٹ میچ کی کمنٹری سنیں ، ہم موسیقی کیلئے رات بھر جاگیں،لیکن جمعے کا خطبہ تھوڑا سا لمبا ہو جائے تو ہماری پریشانی دیکھنے کے قابل ۔اگر مسجد میں دینا ہو تو ہمیں 100کا نوٹ بہت بڑالگے لیکن شاپنگ کرنی ہو تو ہمیں یہی نوٹ بہت چھوٹا لگے ۔ حالت یہ کہ آج ہمیں فرصت نہیں گھر سے مسجد تک آنے کی مگر خواہش ہے قبر سے سیدھا جنت جانے کی یعنی زندگی فرعون کی اور عاقبت موسیٰ کی ۔ کبھی کیا وقت تھا اور آج کیا وقت آگیا ، کبھی ایک عیسائی عورت کی پکار پر محمد بن قاسم راجہ داہر سے ٹکرا گیا ، لیکن آج 1947ء کے مشکل دنوں میں ہمیں 4750ٹن چاول بھجوانے والے برماکے 5ہزار مسلمان قتل ہوگئے،4ہزارکلمہ گو خواتین کی عزتیں لٹیں،10ہزار مسلمانوں کو گھروں سے نکا ل دیا گیا ،3سو مسجدوں کو تالے لگ گئے اور برمامیں قرآن پڑھنا اور قرآن سننا جرم ٹھہرا مگر نہ تو ایکدوسرے کی جڑیں کاٹتے ہمارے حکمرانوں نے توجہ دی اور نہ شعیب شیخ کی جعلی ڈگریوں، ایان علی کی منی لانڈرنگ اور قبلہ زرداری صاحب کی بیان بازیوں میں الجھی قوم ٹس سے مس ہوئی ۔ غیروں سے کیا گلہ ،ہمارے لیئے تو ہمارے اپنے ہی کافی ہیں ۔ ایک بار سونے نے لوہے سے کہا کہ ہم دونوں ایک ہی ہتھوڑی سے پٹتے ہیں مگر تم اتنا چلاتے کیوں ہو ؟لوہا بولا’’ جب اپنا ہی اپنے کو مارتا ہے تو بہت درد ہوتا ہے ‘‘۔ لیکن یہ وقت ایسے ہی نہیں آگیا ، بے عمل عقیدتوں اورمطلبی محبتوں کے غلافوں میں لپٹے اب صرف قرآن خوانیوں کیلئے رہ گئے اپنے قرآن کو ہی پڑھ لیں تو پتا چل جائے گا کہ اس شرمندگی ،اس رسوائی اور اس جگ ہنسائی کا سبب کیا ہے ۔ اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں کہ’’ قرآن مجید میں اللہ نے 20مرتبہ کہا کہ مجھ پر توکل کرو، 24مرتبہ اپنی اور رسول ؐ کی اطاعت اور 16مرتبہ عدل کی تلقین کی ، 38مرتبہ توبہ اور استغفار کا کہا ،42مرتبہ زکوٰۃ اور خیرات کا حکم دیا ،17مرتبہ بخل کی مذمت ،3مرتبہ فضول خرچی کی ممانعت اور 8مرتبہ ناپ تول کے معیار بتائے۔اپنی اس کتاب میں اللہ نے 5مرتبہ سود سے باز رہنے کی ہدایت کی ، 9مرتبہ امانت اور خیانت کے حوالے سے سمجھایا ،20دفعہ تہذیب،اخلاق اور پرہیزگاری،30مرتبہ صبر اور درگذر اور 14مرتبہ شکرپر بات کی ، اللہ تعالیٰ نے 11جگہوں پر حصول معاش کے طریقے بتائے،20مرتبہ منافقین کا تذکرہ کیا،5دفعہ پردے کا حکم ،5دفعہ کفار اور منافقین سے دو ری اختیار کرنے کا کہا اور 5بار یہ کہہ کر کہ خدا کا کوئی ایک کام بھی بے فائدہ نہیں ہوتا،16مرتبہ یہ بھی کہا کہ بندے اپنے کاموں میں خود مختار ہیں خدا کسی کو مجبور نہیں کرتا‘‘۔ اب ایک طرف وہ اللہ کہ جس نے سب کچھ واضح کر دیا اور وہ رسول ؐ کہ جس نے سب کچھ سمجھایا اور کر کے دکھایا اور دوسری طرف ہم لوگ ۔ مگرٹھہرئیے ابھی مایوسی نہیں، وقت ابھی بھی ہے اور مہلت ابھی بھی باقی اور پھر اس اللہ کے ہوتے ہوئے مایوسی کہ جس نے کبھی مایوس نہیں کیا ۔ مجھے اس وقت سورۃ الذمر کی وہ آیت یاد آرہی ہے کہ جس کے مکہ مکرمہ میں نازل ہونے پر حضوراکرم ؐ نے فرمایا’’مجھے ساری دنیا اور اسکی ہر چیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس آیت کے نازل ہونے پر ہوئی‘‘ ۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ رسول ؐ سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ ’’ کہہ دو میرے بندوں سے جو زیادتی کر بیٹھے اپنی جانوں پر ،اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بیشک اللہ ان کے سارے گناہوں کو معاف کر دے گا،بے شک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔تو دوستو ! ایک طرف رمضان المبارک کی وہ گھڑیا ں کہ جب شیطان قید ، دوزخ کے دروازے بند اور جب پوری کائنات رحمتوں کے گھیرے میں اوردوسری طرف بخشنے اور معاف کرنے کیلئے تیار بیٹھا رب ، تو سوچ کیا رہے ہو ،ایک سچی تو بہ تو بنتی ہے باس ۔

امام غزالی ؒ کہتے ہیں کہ خود پرست کا انجام ناکامی،نامرادی اور رسوائی ۔ امام ماوردی ؒ کا کہنا ہے کہ جب بندہ اپنی محبت میں گرفتار ہو تا ہے تو پھر وہ خرابیوں اور برائیوں کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔ امام مطرف ؒ کہتے ہیں کہ رات بھر ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر عبادت سے کہیں بہتر وہ دونفل ہوتے ہیں کہ جن میں خود نمائی نہ ہو ۔ جان ووڈ کہتا ہے کہ خود پسندی کو خود پر حاوی نہ ہونے دینا ورنہ کسی کام کے نہیں رہو گے ۔ انتھونی ڈی سینٹ کے مطابق خود پرست اپنی تعریف کے علاوہ کچھ سن ہی نہیں سکتا اور نارمن ویسنٹ کا تجربہ ہے کہ انسان اتنا تنقید سے راہِ راست پر نہیں آتا جتنا خود پرستی میں بھٹک جاتا ہے ۔قدیم یونان کے ہیرو نارسس کو انسانی تاریخ کا پہلا خود پرست کہا جاتا ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ مردانہ وجاہت کا یہ پیکر اپنی تعریفیں سن سن کر پہلے ہی دنیا سے بیگانہ ہو چکا تھالیکن ایکدن پانی پینے کیلئے تالاب میں جھکتے ہوئے جب اُس نے صاف اور ٹھہرے ہوئے پانی میں اپنا عکس دیکھا تو اگلے ہی لمحے خود پر عاشق ہو گیا ، بس پھر کیا تھا ،یہی تالاب کنارا اُس کا گھر بنا ، کھانا پینا بھولا ،ہوش وحواس جاتے رہے اور وہ خود پرستی کے جنگل میں ایسا گم ہوا کہ جب وہ بھوکا ،پیاسا زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا تو اُس وقت بھی وہ پانی میں اپنا عکس ہی دیکھ رہا تھا۔یونانی آج بھی پانی میں اگنے والے پھولوں کو نارسس سے منسوب کر کے اُسے یاد کر تے ہیں ۔مشہور برطانوی ادیب برناڈشا کی خود پسندی بھی بہت مشہور تھی ۔ وہ اکثر کہا کرتا ’’میرے ایک لفظ کی قیمت ایک پونڈ ہے‘‘۔ ایک بار جب ایک مزاحیہ اداکار نے اسے ایک پونڈ دے کر کہا کہ اپنا ایک لفظ عنائیت فرمائیں تو ایک پونڈ جیب میں ڈال کر برناڈشا بولا ’’شکریہ ‘‘۔اپنے دورکے سپر سٹار گلوکارایلوس پریسلے کو بھی خود سے بڑی محبت تھی ۔ وہ اپنے دوستوں سے کہا کرتا ’’کوئی مجھ سا ہے تو سامنے لاؤ‘‘ یہی اپنے پرستاروں سے کہتا ’’ اے خوش نصیبو مجھ سے ہاتھ ملا لو کیونکہ مجھ سے ہاتھ ملانے والوں کے ہاتھ بھی قیمتی ہو جاتے ہیں ‘‘۔ آج سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر احمد فراز مرحوم میں بھی خود پسندی بدرجہ اتم موجود تھی ، اکثر کہتے ’’تم خوش نصیب ہو کہ فراز سے ملتے ہو ، فراز روز روز پیدا نہیں ہوتے ‘‘۔ چندماہ پہلے اپنے ایک سرکاری افسر جن کا دعو ٰی کہ ’’ہر دوسری خاتون ان پر مرتی ہے‘‘ یہ سر پر بال لگوانے کے بعد ملے تو میں نے کہا کہ ’’ اس عمر میں بال لگوانا تو ایسے ہی ہے کہ جیسے بڑھاپے میں عورت کو ماں بننا پڑ جائے،یہ تکلیف کیوں اٹھائی۔فوراً بولے ملک کی خاطر ، ملک کی خاطر ،حیران ہو کر میں نے وضاحت چاہی توکہنے لگے ’’بھائی اتنی سادہ سی بات نہیں سمجھتے کہ میں بہتر دکھائی دوں گا تو میرے ملک کا امیج بھی بہتر ہوگا ‘‘( یاد رہے کہ ملک کے امیج کا اس قدر خیال رکھنے والے اس صاحب کی تمام فیملی اور ساری جائیداد امریکہ میں ہے)۔قبل مسیح سے قبل مسیح جیسی صحا فت کرتے اور اپنی عمر کے زور پر سینئر ہوچکے ہمارے ایک صحافی جو خود کو عاجز اور خاکسار کہتے اور لکھتے تھکتے نہیں ، جو اس گاؤں میں پلے بڑھے کہ جہاں 2008میں بجلی آئی اورجہاں ٹیلی فون اور گیس کی سہولت ابھی بھی میسر نہیں اور جن کا بچپن کچی گلیوں کی دھول چاٹتے اورلڑکپن کرایہ بچانے کی خاطر بسوں کی چھتوں پر گذرا۔ آج خود نمائی کے اس مقام پر ہیں کہ اب پیرس اس لیئے نہیں جاتے کہ انہیں وہاں کے پرفیومز سے ا لرجی ہے ،وینس کے پانیوں اور پھولوں سے انہیں سر درد ہو جاتاہے اور اسلام آباد میں 9 مہینے اس لیئے نہیں رہتے کہ یہاں موسمی بیماریاں بہت ہیں ۔ ہمارے وہ سابق بیوروکریٹ جو مشرف دور میں ملکہ ترنم نور جہاں کے گانے ’’سانوں نہر والے پل تے بُلا کے ‘‘ پرشاہی محفلوں میں’’ کبڈی نما ڈانس‘‘ کیا کرتے تھے ، یہ ابھی تک بقائمی ہوش وہواس بڑی سنجیدگی سے سب کو بتاتے ہیں کہ ان کے فلموں میں نہ جانے کی وجہ سے وحید مراد کی لاٹری نکل آئی اگر یہ چلے جاتے تو پھروحید مراد کو کس نے گھا س ڈالنا تھی ۔ میرا ایک خود ساختہ دانشور دوست جسے بقول شیخو خود نمائی کا نمونیہ بچپن سے ہی ہو گیا تھا اور جو دانشور ایسا کہ اپنے باتھ روم کی اندرونی دیوار پرلکھوایا ہوا کہ ’’ کموڈ پر بیٹھ کر زور لگانے والے اگر تم اتنا ہی زور اپنی عملی زندگی میں لگا لیتے تو اس وقت کسی اچھی سیٹ پر بیٹھے ہوتے ‘‘،جبکہ دفتر میں لگی فل سائز بوٹ کی تصویر کے نیچے یہ لکھوا رکھا کہ ’’ جو کرنا ہے کر لو مگر کچھ معاملات اس کے بغیرحل نہیں ہوں گے ‘‘ جس کا کہنا کہ ’’ پاکستان میں آج قائداعظم کی تصویروں والے نوٹ جن کے پاس ہیں ان سے نہ تو قائداعظم آنکھ ملانا چاہتے ہیں اور نہ یہ قائداعظم سے آنکھیں ملا سکتے ہیں‘‘،جو یہ کہے کہ’’اگر جہاز تباہ ہونے کے بعد بھی بلیک باکس محفوظ رہتا ہے تو پھر پورا جہاز بلیک باکس کے میٹریل سے ہی کیوں نہیں بنایا جاتا ‘‘ اور جو سوئمنگ کو اس لیئے رد کرے کہ ’’اگر تیراکی سے بندہ پتلا ہو سکتا تو پھر وہیل اور شارک مچھلیاں موٹی کیوں ہوتیں‘‘۔خود پسندی اور خود نمائی سے لبالب بھرا ہمارا یہ دوست سب کو ایک ہی مشورہ دے کہ ’’بندے کو خود سے ہی محبت کرنی چاہیے کیونکہ خود سے محبت کرنے والوں کا کوئی رقیب نہیں ہوتا ‘‘۔چند دن پہلے ملاقات ہوئی تو گھنٹہ بھر ان کی تعریفیں ان کے منہ سے ہی سننے کے بعد جونہی بولنے کا موقع ملا تو میں نے فوراً پوچھ لیا’’اسحق ڈار صاحب کی بجٹ تقریر سنی ‘‘ تو تقریباً 5منٹ پھر سے اپنی خود نمائی پر خود گویائی کے بعد بولا ’’ بجٹ تقریریں سننے اور بیوی کو سنانے سے پرہیز کرو،ورنہ تمہارا حال بھی پاگل خانے پہنچے اُس شخص جیسا ہو جائے گا کہ جس سے پاگل خانے کے دورے پر آئے ہوئے ڈاکٹر نے جب کہا کہ ’’مجھے تو تم ہوشمند اور ٹھیک لگتے ہو تم یہاں کیسے‘‘؟ تو اس نے ہو بہو محترم اسحق ڈار کی بجٹ تقریرجیسی کہانی سناتے ہوئے اپنی رشتہ داریوں کے اعدادوشمار کچھ یوں پیش کیئے ’’ڈاکٹر صاحب میں بالکل ٹھیک ہوں مگر کوئی مانتا ہی نہیں ، دراصل میں نے ایک عورت سے شادی کی جس کی ایک اٹھارہ سال کی جوان بیٹی تھی،یہ لڑکی بھی اپنی ماں کے ساتھ میرے گھر ہی رہنے لگ گئی ، اتفاق سے وہ لڑکی میرے باپ کو پسند آگئی اور میرے والد نے اُس سے شادی کر لی،اُس دن سے میری بیوی میرے باپ کی ساس بن گئی ۔ ایک سال بعد میری بیوی کی بیٹی جو میرے باپ کی بیوی تھی اُ س کے ہاں لڑکا پیدا ہوا،یہ بچہ رشتے کے اعتبار سے میرا بھائی ہوا کیونکہ یہ میرے باپ کا بیٹا تھا مگر دوسری طرف یہ میری بیوی کا نواسہ بھی تھا تو گویا میں اپنے بھائی کا نانا بن گیا،چند ماہ بعد میرے اور میری بیوی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔اُس دن میرے باپ کی بیوی اس بچے کی سوتیلی بہن ہوگئی مگر دوسری طرف وہ اسکی دادی بھی ہوگئی کیونکہ وہ اس کے شوہر یعنی میرے باپ کا پوتا تھا ۔ یوں میرا بچہ اپنی دادی کا بھائی بھی بن گیا ۔اب ذرا سوچیئ ڈاکٹر صاحب کہ میری سوتیلی ماں یعنی میری بیوی کی بیٹی میرے بیٹے کی بہن بھی ہوگئی تو میرا بیٹا میرا ماموں بن گیا اورمیں اُس کا بھانجا جبکہ میں خود اُ س کا نانا بھی ہوں جبکہ میرے باپ کا لڑکا جو میری بیوی کی بیٹی کا بیٹا ہے وہ میرا بھائی بھی ہے ،میرا نواسہ بھی ہے ،ابھی یہ شخص یہیں پہنچا تھا کہ ڈاکٹر اپنا سر پکڑ کرچلااُٹھا ’’ خدا کیلئے چپ ہو جاؤ ورنہ میں بھی پاگل ہو جاؤں گا ‘‘۔ بلاشبہ خود پسندی ،خود نمائی ،خود پرستی یا نرگیست ایسی محبت کہ جس کا دامن خلوص اوروفا سے خالی ،جس کا من لالچ اور غرو ر سے بھرا ہوا اور جس کے اثرات ایڈز اور سرطان سے بھی زیادہ خطرناک ۔یہ محبت انسان کو تکبر اور حسد کے جنگلوں میں بھٹکا بھٹکا کر پاگل کر دے ،یہ محبت بندے کو مایوسیوں کی دلدلوں میں ڈبو ڈبو کر ماردے۔ یہ ایسی محبت کہ جس نے کبھی کسی کو کچھ نہ دیا اور جو اس محبت سے محبت مطلب خود سے محبت کر بیٹھا اُس کا پھر کچھ باقی نہ رہا ۔حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ انسان برا کب بنتا ہے ،فرمایا ’’جب وہ خود کو اچھا سمجھنے لگے ‘‘۔ آپؓ کا ہی قول ہے کہ ’’ اے انسان جب تجھے پیدا دوسرے نے کیا ، نام دوسرے نے دیا ، تعلیم دوسرے نے دی ، کام دوسرے نے سکھایا ، تیری نسل دوسرے کے تعاون سے چلی اور آخر تجھے قبرستان دوسرے لے کرجائیں گئے تو پھر یہ مَیں مَیں کیوں ‘‘لیکن ’’میں ہوں مقدر کا سکندر ،میں ہوں راجہ اِندر‘‘ کے گیت گاتے نر گیست کے مریضوں کو بھلا یہ کون بتائے کہ ’’قلندر ہووے یا سکندر ،سب مٹی دے اندر ‘‘اور ’’ایہہ دنیا تیری نہ میری ، ایہہ دنیا مٹی دی ڈھیری ‘‘۔