Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

وہ ساتویں مرتبہ سگار سلگا کر کوئی 20ویں مرتبہ کھانسا۔ 3وزرا ء ا عظم اور 4صدور کے ساتھ کام کر چکے اس بوڑھے بیوروکریٹ کی گذشتہ دوگھنٹوں سے سگار ، کھانسی اور زبان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔حقہ سٹائل میں سگار کا کش مار کر اس نے سامنے پڑی فائل کھول کر اسے پھر سے پڑھنا شروع کر دیا ۔2014" کو ہی لے لو ،سوا چار ارب روپے سالانہ بجٹ والی قومی اسمبلی گذشتہ سال صرف 10قوانین ہی بنا پائی اور اسکے 60فیصد اراکین 365دنوں میں ایک لفظ تک نہیں بولے۔ قانون وانصاف کی عملی صورتحال یہ کہ ہماری عدالتوں میں 17لاکھ93 ہزار مقدمات زیر سماعت جبکہ 2014میں سوا چھ لاکھ اور مقدمے درج ہوگئے ،صرف پنجاب کی 32جیلوں میں 50ہزار قیدی جن میں ڈیڑھ ہزار نابالغ بچے ۔گذرے سال دہشت گردی کے 1206 حملوں میں 1723افراد جاں بحق اور 3142زخمی ہوئے، 12ڈاکٹروں،13وکیلوں اور 14صحافیوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ مختلف اداروں کی حراست میں 63لوگ جان گنوا بیٹھے ۔ سندھ میں 925،خیبرپختونخواہ میں 26اور پنجاب میں 276مشتبہ افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے ۔ ملک بھر میں 144فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے ، 547خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں ،828عورتوں پر جنسی تشدد ہوا ، 36حوا کی بیٹیوں کو ننگا پھرایا گیا ، 923خواتین جبکہ 82نابالغ بچیوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا اور 92خواتین جبکہ 13معصوم بچیوں کو تیزاب کی آگ میں جلا دیا گیا ۔ نائجیریا کے بعد تعلیمی بدحالی کے حوالے سے ہم دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ،اڑھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم جبکہ گذشتہ سال بھی 55لاکھ بچے سکول نہیں جا پائے ۔کیا کیا بتاؤں اور اپنی اس جہنم بنی جنت کے کس کس دکھ کی بات کروں ‘‘، اُس کی آواز اور آنکھوں میں اب نمی آچکی تھی ،وہ بولتے بولتے رکا،عینک اتاری اورپھر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اس نے اپنی آنکھوں کو اس صفائی سے رگڑا کہ اُس کے آنسو اُسکی آنکھوں کے پیٹ میں ہی دم توڑ گئے ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس نے دوبارہ عینک پہنی اور اپنی دودھیا رنگ کی مونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد سگار سلگا کر بولا ’’ مجھے دنیا کے تمام رہنماؤں سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔دنیا بھر کے حکمرانوں اور حکومتوں کوانتہائی قریب سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صاف نیت ، مقصد سے سچی لگن اور ویژن یہی 3عوامل دنیابھر میں ترقی کی وجہ ہیں اور یہی 3چیزیں ہمارے ہاں نہیں ۔ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا ۔ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں تو راولپنڈی جنرل ہسپتال کانام شہید بے نظیر بھٹو ہسپتال رکھا گیاپھر اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام بھی تبدیل کر کے بے نظیر بھٹو انٹر نیشنل ائیر پورٹ رکھ دیا گیا، اس کے بعد 5 سال پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور 5سال ہی بے نظیر بھٹو کے خاوند صدر رہے مگر سوائے ان دوعمارتوں کے ناموں کے بورڈ بدلنے کے ایک دیوار تک کی سفیدی نہ ہو سکی اور 5سال یہ عمارتیں کچرے کا ڈھیر بنی رہیں جبکہ نام بدلنے کے بعد پرانے شہر نواب شاہ اور آج کے شہید بے نظیر آباد کا حال بھی سب کے سامنے ہے حالانکہ سندھ میں گذشتہ 8سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے‘‘ ۔یہ ہیں ہماری نیتیں اور اپنے مقصد سے لگن کا حال ۔اس نے بجھے سگار کو دوبارہ سلگا کر اور اپنے ملازم کو کافی کا آرڈر دے کر پھر سے بولنا شروع کیا ۔’’ اب اپنے ویژن کا حال بھی دیکھ لو ۔مشرف دور میں یورپی ماہرین کا ایک وفد پاکستان آیا۔دو ماہ شہر شہر ،قصبہ قصبہ گھوم کر ان لوگوں نے پاکستان پرایک 100نکاتی رپورٹ تیار کی ۔ مجھے اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے آج بھی اتنی ہی شرم آتی ہے جتنی پہلی بار اِسے پڑھتے وقت ندامت ہوئی تھی ۔ نااہلیوں ،بے وقوفیوں اورذاتی فائدوں کی خاطر ملک وقوم تک کو داؤ پر لگا دینے کی ہماری داستانوں بھری اس رپورٹ میں یورپی ماہرین لکھتے ہیں کہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کے پالیسی سازوں کی سمجھ میں یہ حقیقت بھی نہ آ سکی کہ پاکستان جس کی ریڑھ کی ہڈی اسکی زراعت ہے اس ملک میں فیصل آباد ،شیخوپورہ ،لاہور ، گجرات،گوجرانوالہ ،وزیرآباد اور سیالکوٹ جیسے انتہائی زرخیز علاقوں میں فیکٹریاں لگا دی گئیں ،یہاں انڈسٹریل ایریا ز بنا دیئے گئے ۔ان علاقوں میں جہاں ایک تو بارش کم ہوتی ہے اور دوسرا ہوا بھی کم چلتی ہے لہذا فیکٹریوں کی بدبو اور فضائی آلودگی یہاں ہر وقت اور ہر جگہ موجود اور پھر اس خطے میں زیر زمین پانی 25سے 50فٹ پر ہے لہذا فیکٹریوں کا آلودہ پانی چند گھنٹوں میں ہی زیر زمین صاف پانی کو بھی زہریلا بنا دیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ جہاں زمین کی زرخیزی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے جہاں فضائی آلودگی اور زہریلے پانی کے استعمال سے فصلیں،سبزیاں اور فروٹ زہریلے ہوتے جا رہے ہیں وہاں 90فیصد آبادی معدے ،جگر اور ہیپاٹائٹس کی مریض بن چکی ۔ ان ماہرین کے مطابق اگر یہی فیکٹریاں جہلم سے اٹک کے درمیان لگ جاتیں تو یہاں مسلسل چلتی ہوا اور آئے روز برستی بارشوں کی وجہ سے فضائی آلودگی بھی نہ ہوتی اورپھر زیرِزمین پانی 2سو فٹ سے 3سوفٹ پر ہونے کی وجہ سے انڈسٹریل ایریا کا آلودہ پانی جب تک اس پانی تک پہنچتا تو زمین کی کئی تہوں اور دھاتوں سے گذر کر یہ صاف ہو چکا ہوتا اور سب سے بڑی بات کہ نسبتاً اس بنجر اور غیر آباد علاقے میں انڈسٹریل زون بننے سے پنجاب کی زرخیز زمینیں بچ جاتیں ۔ ویسے تو اس رپورٹ کا ایک ایک لفظ ہی باعثِ شرمندگی ہے مگر اس کے عنوان کو دیکھ کر یہ شرمندگی ڈبل ہو جاتی ہے ، اس رپورٹ کا عنوان ہے’’ باتھ روم میں کچن ‘‘کیونکہ اس10رکنی ٹیم کا خیال ہے کہ پاکستان وہ گھر کہ جس کا کچن اسکے باتھ روم میں بنا دیا گیا ہے‘‘۔ یہ سدا بہار بیوروکریٹ جونہی خاموش ہوااور اس سے پہلے کہ وہ کوئی نیا موضوع چھیڑ دیتا میں نے اجازت لیکر وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ مجھ میں اب مزید اپنی بے وقوفیاں سننے کا حوصلہ نہ تھا۔ 3گھنٹے کی اس بیٹھک کے بعد واپس جاتے ہوئے میرا ذہن رپورٹ کے عنوان ’’باتھ روم میں کچن ‘‘ میں ہی اٹکا ہوا تھا ۔ اور پھر جب اسے سامنے رکھ کر سوچنا شروع کیا تو نہ صرف اپنے ملک کے ہر شعبے اور ہرا دارے کا کچن اس کے باتھ روم میں ہی نظر آیا بلکہ زیادہ دکھ تو اس بات کا ہو ا کہ ہم اس صورتحال پر مطمئن بھی ہیں اور خوش بھی ، کسی کو کوئی فکر نہیں۔ روز نیا ایشو اور روز نئی بحثیں ۔ حال یہ ہے کہ آج "Axact" اور ’’بول ‘‘ پر بول بول کرنہ تھکنے والی عوام کے دیس میں ابھی چند دن پہلے جب این اے 125کا فیصلہ آیا تو جھوٹ اور سچ کچھ اس طرح بغلگیر ہوئے کہ چند گھنٹوں بعد ہی الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ بھی صحیح،سعد رفیق بھی سچے اور عمران خان بھی ٹھیک یہی نہیں بلکہ یہاں پھانسی چڑ ھ جانے والا صولت مرزا بھی درست اور ایم کیو ایم کا مؤقف بھی حقیقت پر مبنی،یہاں ذوالفقار مرزا کے الزامات بھی ٹھیک اور آصف زرداری کے جوابات بھی ٹھیک ، اور تو اور یہاْْْْْْْْْْْْں کے قاتل بھی جنتی اور مقتول بھی شہید ۔۔ اور پھر اسی شام یہی کچھ سوچتے سوچتے اچانک مجھے ایک حدیثِ نبوی ؐ یاد آگئی اور اس حدیث کے ذہن میں آتے ہی جعلی زم زم بیچنے سے تربوزوں میں سرخ رنگ کے ٹیکے لگاتی دو نمبر یوں میں نمبر ون اپنی قوم کی ہر بے کسی ، ہر بے بسی اور ہر مجبوری کی وجہ سمجھ آگئی ۔ آپ بھی جب اپنے حا لا ت ، واقعات اور مصائب کے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے ابن ماجہ جلد سوئم کی 1332ویں یہ حدیث پڑھیں گے تو آپ پر بھی بہت کچھ واضح ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ ’’ جب کسی معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو وہاں ایسی وبائیں اور روگ پھوٹتے ہیں کہ جن کا انکی پہلی نسلوں میں گذر تک نہیں ہوتا ۔جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگتے ہیں تو انہیں حکمران طبقے کا ظلم سہنا پڑتا ہے ،ان کو خشک سالی سے دوچار کر دیا جاتا ہے اور مہنگائی اور اشیاء کی عدم دستیابی عام ہوجاتی ہے ۔جب لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے تو ان کو آسمان سے پانی ملنا بند ہو جاتا ہے او راگر جانور نہ ہوں تو ان کو بارش بھی نہ ملے۔جب لوگ اللہ اور سول ؐ کا عہد توڑ تے ہیں تو اللہ ان پر باہر سے ایسا دشمن مسلط کر دیتا ہے جو بزورِبازو ان سے بھتہ لیتا ہے اور جب حکمران کتاب اللہ کی رو سے فیصلے اور احکام الہی نافذ نہیں کرتے تو اللہ ان کو ایکدوسرے سے لڑا دیتا ہے ‘‘۔

وہ ساتویں مرتبہ سگار سلگا کر کوئی 20ویں مرتبہ کھانسا۔ 3وزرا ء ا عظم اور 4صدور کے ساتھ کام کر چکے اس بوڑھے بیوروکریٹ کی گذشتہ دوگھنٹوں سے سگار ، کھانسی اور زبان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔حقہ سٹائل میں سگار کا کش مار کر اس نے سامنے پڑی فائل کھول کر اسے پھر سے پڑھنا شروع کر دیا ۔2014" کو ہی لے لو ،سوا چار ارب روپے سالانہ بجٹ والی قومی اسمبلی گذشتہ سال صرف 10قوانین ہی بنا پائی اور اسکے 60فیصد اراکین 365دنوں میں ایک لفظ تک نہیں بولے۔ قانون وانصاف کی عملی صورتحال یہ کہ ہماری عدالتوں میں 17لاکھ93 ہزار مقدمات زیر سماعت جبکہ 2014میں سوا چھ لاکھ اور مقدمے درج ہوگئے ،صرف پنجاب کی 32جیلوں میں 50ہزار قیدی جن میں ڈیڑھ ہزار نابالغ بچے ۔گذرے سال دہشت گردی کے 1206 حملوں میں 1723افراد جاں بحق اور 3142زخمی ہوئے، 12ڈاکٹروں،13وکیلوں اور 14صحافیوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ مختلف اداروں کی حراست میں 63لوگ جان گنوا بیٹھے ۔ سندھ میں 925،خیبرپختونخواہ میں 26اور پنجاب میں 276مشتبہ افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے ۔ ملک بھر میں 144فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوئے ، 547خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں ،828عورتوں پر جنسی تشدد ہوا ، 36حوا کی بیٹیوں کو ننگا پھرایا گیا ، 923خواتین جبکہ 82نابالغ بچیوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا اور 92خواتین جبکہ 13معصوم بچیوں کو تیزاب کی آگ میں جلا دیا گیا ۔ نائجیریا کے بعد تعلیمی بدحالی کے حوالے سے ہم دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ،اڑھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم جبکہ گذشتہ سال بھی 55لاکھ بچے سکول نہیں جا پائے ۔کیا کیا بتاؤں اور اپنی اس جہنم بنی جنت کے کس کس دکھ کی بات کروں ‘‘، اُس کی آواز اور آنکھوں میں اب نمی آچکی تھی ،وہ بولتے بولتے رکا،عینک اتاری اورپھر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اس نے اپنی آنکھوں کو اس صفائی سے رگڑا کہ اُس کے آنسو اُسکی آنکھوں کے پیٹ میں ہی دم توڑ گئے ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس نے دوبارہ عینک پہنی اور اپنی دودھیا رنگ کی مونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد سگار سلگا کر بولا ’’ مجھے دنیا کے تمام رہنماؤں سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔دنیا بھر کے حکمرانوں اور حکومتوں کوانتہائی قریب سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ صاف نیت ، مقصد سے سچی لگن اور ویژن یہی 3عوامل دنیابھر میں ترقی کی وجہ ہیں اور یہی 3چیزیں ہمارے ہاں نہیں ۔ایک چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا ۔ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں تو راولپنڈی جنرل ہسپتال کانام شہید بے نظیر بھٹو ہسپتال رکھا گیاپھر اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام بھی تبدیل کر کے بے نظیر بھٹو انٹر نیشنل ائیر پورٹ رکھ دیا گیا، اس کے بعد 5 سال پیپلز پارٹی کی حکومت رہی اور 5سال ہی بے نظیر بھٹو کے خاوند صدر رہے مگر سوائے ان دوعمارتوں کے ناموں کے بورڈ بدلنے کے ایک دیوار تک کی سفیدی نہ ہو سکی اور 5سال یہ عمارتیں کچرے کا ڈھیر بنی رہیں جبکہ نام بدلنے کے بعد پرانے شہر نواب شاہ اور آج کے شہید بے نظیر آباد کا حال بھی سب کے سامنے ہے حالانکہ سندھ میں گذشتہ 8سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے‘‘ ۔یہ ہیں ہماری نیتیں اور اپنے مقصد سے لگن کا حال ۔اس نے بجھے سگار کو دوبارہ سلگا کر اور اپنے ملازم کو کافی کا آرڈر دے کر پھر سے بولنا شروع کیا ۔’’ اب اپنے ویژن کا حال بھی دیکھ لو ۔مشرف دور میں یورپی ماہرین کا ایک وفد پاکستان آیا۔دو ماہ شہر شہر ،قصبہ قصبہ گھوم کر ان لوگوں نے پاکستان پرایک 100نکاتی رپورٹ تیار کی ۔ مجھے اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے آج بھی اتنی ہی شرم آتی ہے جتنی پہلی بار اِسے پڑھتے وقت ندامت ہوئی تھی ۔ نااہلیوں ،بے وقوفیوں اورذاتی فائدوں کی خاطر ملک وقوم تک کو داؤ پر لگا دینے کی ہماری داستانوں بھری اس رپورٹ میں یورپی ماہرین لکھتے ہیں کہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کے پالیسی سازوں کی سمجھ میں یہ حقیقت بھی نہ آ سکی کہ پاکستان جس کی ریڑھ کی ہڈی اسکی زراعت ہے اس ملک میں فیصل آباد ،شیخوپورہ ،لاہور ، گجرات،گوجرانوالہ ،وزیرآباد اور سیالکوٹ جیسے انتہائی زرخیز علاقوں میں فیکٹریاں لگا دی گئیں ،یہاں انڈسٹریل ایریا ز بنا دیئے گئے ۔ان علاقوں میں جہاں ایک تو بارش کم ہوتی ہے اور دوسرا ہوا بھی کم چلتی ہے لہذا فیکٹریوں کی بدبو اور فضائی آلودگی یہاں ہر وقت اور ہر جگہ موجود اور پھر اس خطے میں زیر زمین پانی 25سے 50فٹ پر ہے لہذا فیکٹریوں کا آلودہ پانی چند گھنٹوں میں ہی زیر زمین صاف پانی کو بھی زہریلا بنا دیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ جہاں زمین کی زرخیزی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے جہاں فضائی آلودگی اور زہریلے پانی کے استعمال سے فصلیں،سبزیاں اور فروٹ زہریلے ہوتے جا رہے ہیں وہاں 90فیصد آبادی معدے ،جگر اور ہیپاٹائٹس کی مریض بن چکی ۔ ان ماہرین کے مطابق اگر یہی فیکٹریاں جہلم سے اٹک کے درمیان لگ جاتیں تو یہاں مسلسل چلتی ہوا اور آئے روز برستی بارشوں کی وجہ سے فضائی آلودگی بھی نہ ہوتی اورپھر زیرِزمین پانی 2سو فٹ سے 3سوفٹ پر ہونے کی وجہ سے انڈسٹریل ایریا کا آلودہ پانی جب تک اس پانی تک پہنچتا تو زمین کی کئی تہوں اور دھاتوں سے گذر کر یہ صاف ہو چکا ہوتا اور سب سے بڑی بات کہ نسبتاً اس بنجر اور غیر آباد علاقے میں انڈسٹریل زون بننے سے پنجاب کی زرخیز زمینیں بچ جاتیں ۔ ویسے تو اس رپورٹ کا ایک ایک لفظ ہی باعثِ شرمندگی ہے مگر اس کے عنوان کو دیکھ کر یہ شرمندگی ڈبل ہو جاتی ہے ، اس رپورٹ کا عنوان ہے’’ باتھ روم میں کچن ‘‘کیونکہ اس10رکنی ٹیم کا خیال ہے کہ پاکستان وہ گھر کہ جس کا کچن اسکے باتھ روم میں بنا دیا گیا ہے‘‘۔ یہ سدا بہار بیوروکریٹ جونہی خاموش ہوااور اس سے پہلے کہ وہ کوئی نیا موضوع چھیڑ دیتا میں نے اجازت لیکر وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ مجھ میں اب مزید اپنی بے وقوفیاں سننے کا حوصلہ نہ تھا۔ 3گھنٹے کی اس بیٹھک کے بعد واپس جاتے ہوئے میرا ذہن رپورٹ کے عنوان ’’باتھ روم میں کچن ‘‘ میں ہی اٹکا ہوا تھا ۔ اور پھر جب اسے سامنے رکھ کر سوچنا شروع کیا تو نہ صرف اپنے ملک کے ہر شعبے اور ہرا دارے کا کچن اس کے باتھ روم میں ہی نظر آیا بلکہ زیادہ دکھ تو اس بات کا ہو ا کہ ہم اس صورتحال پر مطمئن بھی ہیں اور خوش بھی ، کسی کو کوئی فکر نہیں۔ روز نیا ایشو اور روز نئی بحثیں ۔ حال یہ ہے کہ آج "Axact" اور ’’بول ‘‘ پر بول بول کرنہ تھکنے والی عوام کے دیس میں ابھی چند دن پہلے جب این اے 125کا فیصلہ آیا تو جھوٹ اور سچ کچھ اس طرح بغلگیر ہوئے کہ چند گھنٹوں بعد ہی الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ بھی صحیح،سعد رفیق بھی سچے اور عمران خان بھی ٹھیک یہی نہیں بلکہ یہاں پھانسی چڑ ھ جانے والا صولت مرزا بھی درست اور ایم کیو ایم کا مؤقف بھی حقیقت پر مبنی،یہاں ذوالفقار مرزا کے الزامات بھی ٹھیک اور آصف زرداری کے جوابات بھی ٹھیک ، اور تو اور یہاْْْْْْْْْْْْں کے قاتل بھی جنتی اور مقتول بھی شہید ۔۔ اور پھر اسی شام یہی کچھ سوچتے سوچتے اچانک مجھے ایک حدیثِ نبوی ؐ یاد آگئی اور اس حدیث کے ذہن میں آتے ہی جعلی زم زم بیچنے سے تربوزوں میں سرخ رنگ کے ٹیکے لگاتی دو نمبر یوں میں نمبر ون اپنی قوم کی ہر بے کسی ، ہر بے بسی اور ہر مجبوری کی وجہ سمجھ آگئی ۔ آپ بھی جب اپنے حا لا ت ، واقعات اور مصائب کے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے ابن ماجہ جلد سوئم کی 1332ویں یہ حدیث پڑھیں گے تو آپ پر بھی بہت کچھ واضح ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ ’’ جب کسی معاشرے میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو وہاں ایسی وبائیں اور روگ پھوٹتے ہیں کہ جن کا انکی پہلی نسلوں میں گذر تک نہیں ہوتا ۔جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگتے ہیں تو انہیں حکمران طبقے کا ظلم سہنا پڑتا ہے ،ان کو خشک سالی سے دوچار کر دیا جاتا ہے اور مہنگائی اور اشیاء کی عدم دستیابی عام ہوجاتی ہے ۔جب لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے تو ان کو آسمان سے پانی ملنا بند ہو جاتا ہے او راگر جانور نہ ہوں تو ان کو بارش بھی نہ ملے۔جب لوگ اللہ اور سول ؐ کا عہد توڑ تے ہیں تو اللہ ان پر باہر سے ایسا دشمن مسلط کر دیتا ہے جو بزورِبازو ان سے بھتہ لیتا ہے اور جب حکمران کتاب اللہ کی رو سے فیصلے اور احکام الہی نافذ نہیں کرتے تو اللہ ان کو ایکدوسرے سے لڑا دیتا ہے ‘‘۔

حسد

- Posted in Amaal Nama by with comments

آسمان پر پہلے گناہ کی بنیاد ابلیس کا آدم ؑ سے حسداور قابیل کے ہاتھوں ہابیل کے زمین پر پہلے قتل کی وجہ حسد مطلب حسد تب سے ہے جب ہم بھی نہ تھے اور یقیناًحسد تب بھی ہوگا جب ہم نہیں ہوں گے مگر نجانے کیوں اپنے ہاں گھر گھر موجودحاسدوں اور گلی گلی ہوتے حسد کو دیکھ اور بھگت کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے حسد کے بانی بھی ہم تھے اور اسکی بقاء کی ذمہ داری بھی ہماری ۔اپنے پاس تو ایسے ایسے حاسدہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔میرا ایک دوست جس کا نام احسان اور تخلص فراموش ، جس کے دانتوں اور نیت کو کب کا کیڑالگ چکا جو کالا ایسا کہ بندہ سو بار منہ کالا کر کے بھی اتنا کالا نہ ہوپائے یعنی چلتا پھرتا کسی تباہ شدہ جہاز کا بلیک باکس ۔قد اتنا کہ شروع ہوتے ہی ختم ہو جائے اور وزن اتناکہ پہلی کوشش میں خود بھی خود کو نہ اٹھا سکے ،سر سے زیادہ بال ناک اور کانوں پر ،نظر اتنی کمزور کہ عینک پہن کر سوئے جبکہ حس اتنی تیز کہ جگہ سونگھ کر بتا دے کہ یہاں کس قماش کی عورت کب آئی تھی ۔حافظہ ایسا کہ دوسروں کی ہر غلطی اور ہر برائی یاد۔مونچھیں اتنی بڑی کہ ایسا لگے کہ چہرے پر مونچھیں نہیں ،مونچھوں پرچہرہ اگا ہوا۔کنجوس ایسا کہ ویٹر کو ٹپ دیتے ہوئے بھی بارگین کرے ۔ کبھی یہ شادیوں کی فلمیں بنایا کرتا اور جس جس کی فلم بنائی اُس اُس کی شادی نہ چلی اور پھر ایک شادی پر خاتون کا کلوز لیتے لیتے اتنا کلوز ہو گیا کہ مجبوراً خاتون کو اس سے شادی کرنا پڑی۔ اب خوبصورت بیوی کو اپنے بھدے پن کا یہ جواز دے ’’ مجھے دیکھ کر غم نہ کیا کرو کیونکہ بدصورتی ہی عورت کی اصل محافظ ہوتی ہے ‘‘۔ اس کا خاندان ایسا کہ دادا نے چھ قتل کیئے اور چھ حج کیئے پھر دادا نے یہ کہہ کر قتل سے توبہ کر لی کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اب مجھ سے بار بار حج نہیں ہوتا ۔ والدِ محترم فخر سے بتایا کرتے کہ 65ء کی جنگ میں اُدھر پہلی گولی چلی اِدھر احسان پیدا ہوا ۔شیخو کہتا ہے کہ کاش پہلی گولی ہی نہ چلتی ۔ میرے اس دوست میں حسد اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ اس سے حسد نکال دیں تو باقی کپڑے ہی بچتے ہیں مگر وہ بھی حسد سے بھرے ہوئے ،یہ جب بھی ملا کسی نہ کسی سے حسد کرتے ہی ملا۔ یقین مانیں ایکدن تو خود سے ہی حسد کرتے پایا گیا۔ابھی چند دن پہلے جب ہم سب بیٹھے اپنے ملک کی تعریفیں کر رہے تھے تو حسد کی بُکل مارے کافی دیر سے چپ بیٹھا یہ بالآخر پھٹ پڑا ۔یہ بھی کوئی ملک ہے کہ جہاں نائیوں کے اپنے بال بڑھے ہوئے ہیں ، موچی جوتوں بغیر اور درزی ننگے جسم ملیں اور تو اور یہاں تو ڈاکٹر خود طبی سہولتوں سے محروم ۔ ہماری حکومتیں ایسی چلتی ہیں کہ جیسی ہماری ٹریفک اوراپوزیشن کی سیاست ایسی کہ جیسے چوکوں میں پھنسی یہی ٹریفک۔90فیصد رہنما ایسے کہ جب وہ چپ ہوں تو شبہ ہوتا ہے کہ انہیں حکومت اور سیاست کا کچھ پتا نہیں ،بول پڑیں تو یہ شبہ دور ہو جاتا ہے ۔ باقی 10فیصد اپنے قائم علی شاہ جیسے کہ جن کی انگریزی سمجھنے کیلئے سندھی کا آنا ضروری ہے ۔سیاسی جماعتوں کا یہ حال کہ وقتاً فوقتاً نکاح پر نکاح کھڑکاتی اور اپنی بقاء کیلئے اپنے بچے تک کھا جانے والی مسلم لیگ جبکہ کل تک بڑی تابعداری سے زیڈ اے پر مر مٹنے والی آج بڑی فرمانبرداری سے اے زیڈ کیلئے جانیں دیتی پیپلز پارٹی ۔ ڈکٹیٹروں نے دیا کچھ نہیں جبکہ سیاستدانوں نے چھوڑا کچھ نہیں۔ ایوب ایک گالی سے ڈر کر بھاگ گیا جبکہ ضیاء الحق اتنا سست نکلا کہ 90دن کا کام 9سالوں میں بھی نہ کر سکا۔ یہاں کا نظام ایسا کہ بندہ تھانے ، کچہری یا ہسپتال میں ہو تو گھر والے مصلوں پر ہوتے ہیں،با ئی روڈ سفر انگریزی والا Suffer، ریل ڈی ریل ہو چکی جبکہ جو اونٹ پر نہیں بیٹھا اور بیٹھنا چاہتا ہے وہ اپنی ائیر لائن پر سفر کر لے ۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ ائیر ہوسٹس زیادہ پرانی ہے یا جہاز اور جہاز کے اندر کا ماحول ایسا کہ 5منٹ میں ہی بندے کو اپنی بیوی پیاری لگنے لگ جائے ۔اوپر سے اپنا موسم دیکھو جیکب آباد اور سبی میں اتنی گرمی کہ بھینسیں خشک دودھ دیں جبکہ سکردو اور نتھیا گلی میں اتنی سردی کہ شادی کیئے بغیر اترتی ہی نہیں اور لاہور میں دھوتی اس لیئے پہنی جائے کہ یہ ائیر کنڈیشنڈ ہوتی ہے جبکہ کراچی کی ائیر ایسی کہ کسی کنڈیشن میں کوئی دھوتی پہننے کا سوچ بھی نہ سکے ۔ جب میرا یہ دوست اپنا جلاپا اور ساڑا نکال چکا تو میں نے کہا کہ’’ حکومتوں اور حکمرانوں کو چھوڑ و اپنی قوم کو دیکھو ، پوری مسلم امہ میں ایسے جذبوں اور ولولوں والی کوئی اور قوم ہے توبتاؤ ،ایک بھیانک سا قہقہہ مار کر بولا’’کہیڑ ی قوم تے کہیڑ ی مسلم امہ‘‘ ۔ لیبیا سے یمن تک مسلم امہ کا جو حال ہے، لگتا نہیں کہ اب اگلی کئی نسلوں کا کوئی مستقبل ہو گا جبکہ اپنی قوم کی مسلمانی دیکھ لو یہاں 80فیصد مسجدوں کی زمین متنازعہ،عید سے اذان تک جھگڑے ہی جھگڑے ، خود کو سوٹ کرتا ہر ایک کا اپنا اپنا دین ، مکہ ہوٹل پر باسی کھانے ملیں اور مدینہ بیکری کی ہر شے میں ملاوٹ ، ماشاء اللہ ٹریول ایجنسی پر انسانی سمگلنگ اور بسم اللہ پراپرٹی والوں پر یتیموں کے پلاٹ کھا جانے کے مقدمے ، اللہ ہو کلینک پرنقلی ڈاکٹر جعلی دوائیاں بیچے اور مسجدوں کے پنکھے ،ٹوٹیاں اور جوتوں کی چوری یہاں معمول ہو جائے ، یہاں جنازوں میں جیبیں کٹ جائیں اور یہاں مُردوں کے کفن اور قبروں کے کتبے تک کوئی نہ چھوڑے ۔ اس سے پہلے کہ ہم سب اس’’ حسد ی سیلاب‘‘ میں ڈوب جاتے میں نے ایک بار پھر موضوع بدلا ’’ ہر وقت حسد اور ہر وقت مایوسی۔ چھوڑو مسلم امہ کو دیکھو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی۔ برطانوی سائنسدانوں نے بڑھاپے کو روکنے اور ہزار سال تک زندہ رہنے کا نسخہ ڈھونڈلیا۔ روس میں ایک انسان کا سر دوسرے انسان کے دھڑ پر لگانے کی تیاریاں ہوچکیں۔ دبئی میں 2008ء میں ذیبح شدہ اونٹنی کے جرثومے سے پید ا ہونے والی اونٹنی اب خود ماں بننے والی ہے،آسٹریلوی ماہرین نے ڈینگی پر قابو پا لیاہے،کاکروچ کے دماغ کے بیکٹریوں سے انسانی بیماریوں کا علاج شروع ہوگیا ہے،سمندروں میں زرعی فارم بنانے ،کمپیوٹر اور دماغ کے میلاپ،سوچ کی لہروں سے رابطے اور نومولود بچوں کے رونے کو گفتگو میں ڈھالنے پر ماہرین کامیابی کے قریب ۔ ابھی میری بات جاری تھی کہ یہ حاسد ایک بار پھر بول پڑا ’’ جب تمہیں پتا ہے کہ ایک سگریٹ میں نیل پالش ریموراور چوہے مارنے جیسے چار ہزار زہریلے کمیکلز ہوتے ہیں تو پھرتم سگریٹ کیوں پیتے ہو‘‘۔چند لمحے اپنے جملے اور میری بے عزتی انجوائے کرنے کے بعداس ’’ جل ککڑے ‘‘ نے کہا ’’جس ملک میں فیس بک افواہوں اورکردار کشی کیلئے استعمال ہو ،جہاں ٹوئیٹر طعنوں اور گالیوں کیلئے رہ جائے،جہاں ویٹس اپ فحش ویڈیوز کا ذریعہ بن جائے اورجہاں ٹیلی فون کا استعمال الطاف حسین کے علاوہ اور کوئی نہ جانتا ہو وہاں ٹیکنالوجی اور تحقیق کسی کا کیا بگاڑلے گی ‘‘۔ ادھر میرا یہ حاسد دوست بولے جارہا تھا جبکہ اُدھر مجھے موریطاینہ کی50سالہ وہ خاتون یاد آرہی تھی کہ جو 55 شادیاں کر چکی ہے اور جس کی 12شادیاں صرف دو دو دن ہی چل پائیں ۔ اس خاتون سے اتنی ڈھیر ساری شادیوں کی ناکامی کی وجہ پوچھی گئی تو معصومیت سے بولی میرے خاوندوں کا مجھ سے حسد ۔ میرے حاسد کی باتوں نے میرا یہ حال کر دیا تھا کہ اس وقت مجھے اس خاتون کا یہ چٹا جھوٹ بھی سچ لگ رہا تھا ۔ حضور اکرم ؐ نے فرمایا ’’ حسد سے بچو یہ نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے کہ جیسے آگ لکڑی کو ‘‘ ۔ آپ ؐ کا ہی فرمان ہے کہ ’’ہر صاحبِ نعمت حسد کیا جاتا ہے ‘‘۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ جس پر اللہ تعالیٰ کرم فرماتا ہے وہ حرص ،ہوس اور حسد سے بچ جاتا ہے ۔حضرت علیؓ کا کہنا ہے کہ حاسد کو کوئی خوش نہیں کر سکتا ۔ کہا جاتا ہے کہ حاسد کیلئے بد دعا نہ کرو کیونکہ وہ تو پہلے ہی حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے اور پھر حاسد کیلئے یہ سز ا کیا کم ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو وہ غمگین ہو جاتا ہے ۔ایک بار حضور ؐ سے پوچھا گیا کہ حسد سے کیسے بچا جائے تو آپ ؐ نے فرمایا ’’تقویٰ اختیار کرو،صدقہ خیرات دو اور اپنی نعمتوں اور خوشیوں کو چھپاؤ ،حسد سے بچ جاؤگے‘‘ ۔حضور ؐ کی بتائی ہوئی ان باتوں پر عمل کر کے یقیناًآپ بھی حسد سے بچ سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ خود حاسد نہ ہوں ۔