Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

’’16دسمبر کا سبق ‘‘

- Posted in Amaal Nama by with comments

’’بڑا پرندہ پنجرے میں ہے ۔دوسرے اپنے گھونسلوں میں موجود نہیں ۔اوور‘‘جونہی 25مارچ 1971ء کو رات دو بجے جنرل ٹکا خان کے ہیڈ کوارٹر میں کھڑی جیپ کے وائر لیس سیٹ پر 57بریگیڈ کے میجر جعفر کی آواز گونجی تو ’’آپریشن سرچ لائٹ ‘‘کرنے والے کمانڈوز آزاد بنگلہ دیش کا اعلان کرچکے ،شیخ مجیب الرحمن کو ان کے بیڈ روم سے حراست میں لے کر فوجی چھاؤنی کی طرف روانہ ہو چکے تھے ۔ مگرا ب دیر ہو چکی تھی ۔کیونکہ مغربی پاکستان کا مجرم مجیب الرحمن اب مشرقی پاکستان کا ہیروتھا ۔دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ قائدِاعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اُس وقت جب ایکدوسرے سے ہزار میل دور مشرقی اور مغربی پاکستان میں مضبوط اور سب کو قابلِ قبول حکمران کی ضرورت تھی، اُس وقت پورا ملک مفلوج اور معذور گورنر جنرل غلام محمد کے رحم وکرم پرتھا ۔اور ان کی حالت یہ تھی کہ بقول قدرت اللہ شہاب’’ پاگل پن کے قریب پہنچے غلام محمد صبح سویرے سوٹ پہن کر وہیل چیئر پر کینٹ روم میں آجاتے۔اپنے سٹاف کو جمع کرتے ۔ان کو وزارتیں دیتے ،ان سے حلف اٹھواتے ،ان میں پورٹ فولیوز تقسیم کرتے ، اور پھر گھنٹوں اس کابینہ کے اجلاس سے خطاب فرماتے مگر فالج زدہ زبان کی وجہ سے کسی کے پلے کچھ نہ پڑتا‘‘۔ دیر اس لیئے بھی ہوچکی تھی کہ جب سیاسی استحکام کی ضرورت تھی، اُس وقت 10سالوں میں 7وزراء اعظم اور 3گورنر جنرلز اور صدور بھگتانے کے بعد ملک ایوب خان کے مارشل لاء کی نذر ہوگیااور وہ ایوب خان جو سرِعام بنگالیوں کو ناقابل اعتبار مخلوق کہتے اور جن کی 10سالہ دورِ ترقی میں ڈھاکہ کو کچھ نہ ملااوروہ ایکدن سب کچھ یحییٰ خان کو سونپ کر چلتے بنے ۔دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ ملکی قیادت کی باہمی لڑائیوں، سازشوں اور ایکدوسرے پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ بقول شہاب صاحب ’’ایکدن صدر سکندر مرزا نے مجھے قرآن پاک کا ایک نسخہ دیا۔ جس کے سرورق کی پشت والے خالی صفحے پر تمام بڑے سیاستدانوں نے اللہ کو حاضر ناظر جان اور قرآن پاک کو گواہ بنا کر آپس میں تعاون کرنے کا عہد نامہ کرکے دستخط کیئے ہوئے تھے۔مگر3ماہ بعد ہی یہ عہد نا مہ ٹوٹ گیا اور سب پھر سے سازشوں میں لگ گئے‘‘ ۔آئین پاکستان کی کیا حیثیت رہ گئی تھی شہاب صاحب ہی بتاتے ہیں کہ ایک روز صدر سکندر مرز آئے۔ اُنہوں نے میرے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہاتھ میں پکڑے دستورِ پاکستان کے کتابچے کو ہوا میں لہراکر بلند آواز میں کہا ’’شہاب صاحب یہ کیا Trash (بے کار،ردی) ہے‘‘۔ دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ ہمارے سیاسی تدبر کا یہ حال ہو چکا تھا کہ جس رات سینکڑوں بنگالی قتل اور بنگلہ دیش کی تمام قیادت گرفتار ہوتی ہے ۔ اُس سے اگلے دن کراچی میں بھٹو بیان دیتے ہیں کہ ’’شکر ہے پاکستان بچ گیا ہے ‘‘۔ دوسری طرف مجیب الرحمن بولے ’’بھٹو قاتل ہے‘‘۔ جواباً بھٹونے کہا ۔’’ مجیب غدار ہے اسے سزا ملنی چاہیے‘‘۔ پھر کہا ’’جو ڈھاکہ جائے گا اُس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور میں گندے انڈوں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا‘‘، اور پھر کہہ دیا ’’اِدھر ہم اُدھر تم ‘‘۔ دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ زمینی حقائق یہ تھے کہ ایک طرف ڈھاکہ ائیر پورٹ پر جب میجر صدیق سالک (وہی صدیق سالک جو بعد میں بریگیڈئیربنے اور ضیا ء الحق کے ساتھ جہاز میں جہاں بحق ہوئے ) نے سامان اٹھانے والے بنگالی لڑکے کو ٹپ دینا چاہی تو پاس کھڑا حوالدار غصے سے بولا ’’سر ان حرام زادوں کی عادت نہ بگاڑیئے‘‘۔ جبکہ دوسری طرف پورے بنگلہ دیش میں صرف اور صرف فوجی یونٹوں پر ہی پاکستانی جھنڈا لہرا رہا تھااور دیر اس لیے بھی ہو چکی تھی کہ بھارتی کمانڈر انچیف مانک شاہ کہتے ہیں کہ’’ اندراگاندھی نے سقوطِ ڈھاکہ سے دو سال پہلے ہی ہمیں کہہ دیا تھا کہ اپنی تیاری مکمل کر لیں‘‘ جبکہ دوسری طرف جنرل ٹکا خان ایکدن ائیر مارشل اے رحیم خاں کو ٹیلی فون پر شدید غصے اور بیزاری میں بتاتے ہیں کہ ’’جی ایچ کیو سے آرڈر آتا ہے ٹینک ٹرین میں لوڈکر و‘‘،جب لوڈ کرتے ہیں تو آرڈر آجاتا ہے’’ اتار لو ،ابھی موو نہیں کرنا ،ہمارے ساتھ تو روزانہ یہی ہو رہا ہے‘‘ ۔ دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ جب پاک فوج مشرقی پاکستان میں ایک مشکل ترین لڑائی لڑ رہی تھی،جب بھارت دنیا بھر میں پاکستانی قیادت اور فوج کوبدنام کرنے میں لگا ہوا تھا۔جب بھارتی انٹیلی ایجنسیاں 24گھنٹے کام کررہی تھیں ،اُس وقت اپنے فوجی کمانڈروں کی درخواستوں اوراپنے مشرقی پاکستان کے گورنر کے پیغاموں کے باوجود یحییٰ خان ڈھاکہ آنے کو تیار ہی نہیں تھے اور پھر یحییٰ خان نے جب اپنی سیاسی و فوجی قیادت کو فیصلے کا اختیار دیا تو اُس وقت کچھ بھی ان کے دائرہ اختیارمیں نہیں تھا ۔ یہ اسی دیر کا نتیجہ تھا کہ ایک ماہ بعد ہی مجیب رہا ہوگیا ،پورا مشرقی پاکستان باہر نکلا ،ایک ایک کر کے ہم ہر محاذ پر ہارتے گئے اور پھر وہ وقت آیا کہ دوسری جنگ عظیم میں ملٹری کراس اور 1965ء کی جنگ میں ہلال جرأت لینے والے ٹائیگر کے نام سے مشہور جنرل امیر عبداللہ نیازی سقوطِ ڈھاکہ سے آٹھ دن پہلے گورنر اے ایم مالک کے سامنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر بچوں کی طرح رونے کے بعد اُسی شام میجر صدیق سالک کو کہتے ہیں کہ ’’ سالک شکرکرو تم آج جرنیل نہیں ہو‘‘اور ان کی ذہنی سطح ملاحظہ ہو کہ ہتھیار ڈالنے کے بعد جنرل اروڑا سے پوچھتے ہیں کہ ’’میں کیسا لڑا ‘‘۔ دوستو! بلاشبہ بھارت کی اکھنڈ بھارت کی کوششیں ، کرنل ایم اے جے عثمانی کی مکتی باہنی کی کاروائیاں ،اپنے دوستوں کا منہ پھیر لینا، ون یونٹ کا ٹوٹنا ، مغربی اور مشرقی پاکستان کے متفقہ 56کے آئین کا خاتمہ ، مجیب کے 6نکات، بنگالی رہنماؤں کی وعدہ خلافیاں ،چالاکیاں اور یو ٹرن ،اگر تلہ سازش کیس،بنگالی خواتین کی عصمت دری ،آئے روز ہوتی ہلاکتیں، سارجنٹ ظہور الحق کی موت، فوج میں بنگالی یونٹوں کے قیام کا معاملہ،3مارچ 1971کو اسمبلی اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ اور باقی جو کچھ ہوا اس نے جلتی پر تیل ہی ڈالا مگر اصل بات تو یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے بویا ،وہی ہم نے کاٹ لیا۔اور قصور وار کوئی ایک نہیں ،سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ۔ مگر دکھ کی بات یہ ہے پاکستان بننے کے 24سال بعدآئے 16 دسمبر سے آج 43سال گذرنے کے بعد بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا ،اگر اُس وقت’’ اگرتلہ ساز ش ‘‘کی باتیں تھیں تو آج لندن پلان کی کہانیاں ہیں ۔ اگر اُس وقت قائداعظم کے پتلے نذرِآتش ہوتے اور پرچم جلا ئے جاتے تھے تو آج بلوچستان میں قومی پرچم کے ساتھ یہی کچھ ہو چکا اور زیارت ریڈنسی تک محفوظ نہیں رہی ۔ اگر اُس وقت ڈھاکہ کہتا تھا کہ ہمارے وسائل کوئی اور کھا جاتا ہے تو آج پشاور اور کوئٹہ یہی باتیں کر رہا ہے ۔ اگر اُس وقت مجیب الرحمن غدار تھا تو آج حکومتی ترجمانوں نے عمران خان کو عمران نیازی کہنا شروع کر دیا ہے ۔ اگر اُس وقت ڈھاکہ ،سلہٹ ،جسور اور چٹا گانگ میں لوگ مر رہے تھے تو آج کراچی،کوئٹہ کے ساتھ ساتھ لاہور،اسلام آباد اور فیصل آباد میں یہی کھیل جاری ہے ۔اگر اُس وقت حکومت نے اپنے مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگا رکھا تھا تو آج دوسال گذر گئے مگر حکومت 4حلقے کھولنے پر تیار نہیں ۔اگر اُس وقت جلاؤ گھیراؤ اور پہیہ جام کی باتیں ہور ہی تھیں تو آج بھی یہی کچھ کہا اور کیا جا رہا ہے ، اور اگر اُس وقت حکمران مشرقی پاکستان جانا گوارہ نہیں کرتے تھے تو آج دو سالوں میں وزیراعظم پاکستان کے لاہور کے دوروں کو دیکھ لیں اور پھرکوئٹہ اور پشاور کے دورے گن لیں ۔ اور اگر اُس وقت خوشحالی اور ترقی صرف مغربی پاکستان کا مقدر تھی تو آج بھی سب منصوبے لاہور اور اسلام آباد کیلئے ہی ہیں ۔ یہ سوچنے کی باتیں ہیں،سب کرنے کے کام ہیں اور ہمیں اب دیر نہیں کرنی چاہیے ۔ مگر 16دسمبر کاسب سے بڑا سبق جو یاد رکھنا ہوگا وہ یہ ہے کہ جو حکمران اپنی قوم کی نہیں سنتے،اپنے سیاسی مخالفین کی نہیں مانتے اور اپنوں کی عزت نہیں کرتے ،ان کی باہر کوئی عزت نہیں ہوتی ، انہیں غیروں کے آگے جھکنا پڑتا ہے اور انہیں بالآخر دشمنوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑتے ہیں۔

’’16دسمبر کا سبق ‘‘

- Posted in Amaal Nama by with comments

’’بڑا پرندہ پنجرے میں ہے ۔دوسرے اپنے گھونسلوں میں موجود نہیں ۔اوور‘‘جونہی 25مارچ 1971ء کو رات دو بجے جنرل ٹکا خان کے ہیڈ کوارٹر میں کھڑی جیپ کے وائر لیس سیٹ پر 57بریگیڈ کے میجر جعفر کی آواز گونجی تو ’’آپریشن سرچ لائٹ ‘‘کرنے والے کمانڈوز آزاد بنگلہ دیش کا اعلان کرچکے ،شیخ مجیب الرحمن کو ان کے بیڈ روم سے حراست میں لے کر فوجی چھاؤنی کی طرف روانہ ہو چکے تھے ۔ مگرا ب دیر ہو چکی تھی ۔کیونکہ مغربی پاکستان کا مجرم مجیب الرحمن اب مشرقی پاکستان کا ہیروتھا ۔دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ قائدِاعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اُس وقت جب ایکدوسرے سے ہزار میل دور مشرقی اور مغربی پاکستان میں مضبوط اور سب کو قابلِ قبول حکمران کی ضرورت تھی، اُس وقت پورا ملک مفلوج اور معذور گورنر جنرل غلام محمد کے رحم وکرم پرتھا ۔اور ان کی حالت یہ تھی کہ بقول قدرت اللہ شہاب’’ پاگل پن کے قریب پہنچے غلام محمد صبح سویرے سوٹ پہن کر وہیل چیئر پر کینٹ روم میں آجاتے۔اپنے سٹاف کو جمع کرتے ۔ان کو وزارتیں دیتے ،ان سے حلف اٹھواتے ،ان میں پورٹ فولیوز تقسیم کرتے ، اور پھر گھنٹوں اس کابینہ کے اجلاس سے خطاب فرماتے مگر فالج زدہ زبان کی وجہ سے کسی کے پلے کچھ نہ پڑتا‘‘۔ دیر اس لیئے بھی ہوچکی تھی کہ جب سیاسی استحکام کی ضرورت تھی، اُس وقت 10سالوں میں 7وزراء اعظم اور 3گورنر جنرلز اور صدور بھگتانے کے بعد ملک ایوب خان کے مارشل لاء کی نذر ہوگیااور وہ ایوب خان جو سرِعام بنگالیوں کو ناقابل اعتبار مخلوق کہتے اور جن کی 10سالہ دورِ ترقی میں ڈھاکہ کو کچھ نہ ملااوروہ ایکدن سب کچھ یحییٰ خان کو سونپ کر چلتے بنے ۔دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ ملکی قیادت کی باہمی لڑائیوں، سازشوں اور ایکدوسرے پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ بقول شہاب صاحب ’’ایکدن صدر سکندر مرزا نے مجھے قرآن پاک کا ایک نسخہ دیا۔ جس کے سرورق کی پشت والے خالی صفحے پر تمام بڑے سیاستدانوں نے اللہ کو حاضر ناظر جان اور قرآن پاک کو گواہ بنا کر آپس میں تعاون کرنے کا عہد نامہ کرکے دستخط کیئے ہوئے تھے۔مگر3ماہ بعد ہی یہ عہد نا مہ ٹوٹ گیا اور سب پھر سے سازشوں میں لگ گئے‘‘ ۔آئین پاکستان کی کیا حیثیت رہ گئی تھی شہاب صاحب ہی بتاتے ہیں کہ ایک روز صدر سکندر مرز آئے۔ اُنہوں نے میرے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہاتھ میں پکڑے دستورِ پاکستان کے کتابچے کو ہوا میں لہراکر بلند آواز میں کہا ’’شہاب صاحب یہ کیا Trash (بے کار،ردی) ہے‘‘۔ دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ ہمارے سیاسی تدبر کا یہ حال ہو چکا تھا کہ جس رات سینکڑوں بنگالی قتل اور بنگلہ دیش کی تمام قیادت گرفتار ہوتی ہے ۔ اُس سے اگلے دن کراچی میں بھٹو بیان دیتے ہیں کہ ’’شکر ہے پاکستان بچ گیا ہے ‘‘۔ دوسری طرف مجیب الرحمن بولے ’’بھٹو قاتل ہے‘‘۔ جواباً بھٹونے کہا ۔’’ مجیب غدار ہے اسے سزا ملنی چاہیے‘‘۔ پھر کہا ’’جو ڈھاکہ جائے گا اُس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور میں گندے انڈوں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا‘‘، اور پھر کہہ دیا ’’اِدھر ہم اُدھر تم ‘‘۔ دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ زمینی حقائق یہ تھے کہ ایک طرف ڈھاکہ ائیر پورٹ پر جب میجر صدیق سالک (وہی صدیق سالک جو بعد میں بریگیڈئیربنے اور ضیا ء الحق کے ساتھ جہاز میں جہاں بحق ہوئے ) نے سامان اٹھانے والے بنگالی لڑکے کو ٹپ دینا چاہی تو پاس کھڑا حوالدار غصے سے بولا ’’سر ان حرام زادوں کی عادت نہ بگاڑیئے‘‘۔ جبکہ دوسری طرف پورے بنگلہ دیش میں صرف اور صرف فوجی یونٹوں پر ہی پاکستانی جھنڈا لہرا رہا تھااور دیر اس لیے بھی ہو چکی تھی کہ بھارتی کمانڈر انچیف مانک شاہ کہتے ہیں کہ’’ اندراگاندھی نے سقوطِ ڈھاکہ سے دو سال پہلے ہی ہمیں کہہ دیا تھا کہ اپنی تیاری مکمل کر لیں‘‘ جبکہ دوسری طرف جنرل ٹکا خان ایکدن ائیر مارشل اے رحیم خاں کو ٹیلی فون پر شدید غصے اور بیزاری میں بتاتے ہیں کہ ’’جی ایچ کیو سے آرڈر آتا ہے ٹینک ٹرین میں لوڈکر و‘‘،جب لوڈ کرتے ہیں تو آرڈر آجاتا ہے’’ اتار لو ،ابھی موو نہیں کرنا ،ہمارے ساتھ تو روزانہ یہی ہو رہا ہے‘‘ ۔ دیر اس لیئے بھی ہو چکی تھی کہ جب پاک فوج مشرقی پاکستان میں ایک مشکل ترین لڑائی لڑ رہی تھی،جب بھارت دنیا بھر میں پاکستانی قیادت اور فوج کوبدنام کرنے میں لگا ہوا تھا۔جب بھارتی انٹیلی ایجنسیاں 24گھنٹے کام کررہی تھیں ،اُس وقت اپنے فوجی کمانڈروں کی درخواستوں اوراپنے مشرقی پاکستان کے گورنر کے پیغاموں کے باوجود یحییٰ خان ڈھاکہ آنے کو تیار ہی نہیں تھے اور پھر یحییٰ خان نے جب اپنی سیاسی و فوجی قیادت کو فیصلے کا اختیار دیا تو اُس وقت کچھ بھی ان کے دائرہ اختیارمیں نہیں تھا ۔ یہ اسی دیر کا نتیجہ تھا کہ ایک ماہ بعد ہی مجیب رہا ہوگیا ،پورا مشرقی پاکستان باہر نکلا ،ایک ایک کر کے ہم ہر محاذ پر ہارتے گئے اور پھر وہ وقت آیا کہ دوسری جنگ عظیم میں ملٹری کراس اور 1965ء کی جنگ میں ہلال جرأت لینے والے ٹائیگر کے نام سے مشہور جنرل امیر عبداللہ نیازی سقوطِ ڈھاکہ سے آٹھ دن پہلے گورنر اے ایم مالک کے سامنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر بچوں کی طرح رونے کے بعد اُسی شام میجر صدیق سالک کو کہتے ہیں کہ ’’ سالک شکرکرو تم آج جرنیل نہیں ہو‘‘اور ان کی ذہنی سطح ملاحظہ ہو کہ ہتھیار ڈالنے کے بعد جنرل اروڑا سے پوچھتے ہیں کہ ’’میں کیسا لڑا ‘‘۔ دوستو! بلاشبہ بھارت کی اکھنڈ بھارت کی کوششیں ، کرنل ایم اے جے عثمانی کی مکتی باہنی کی کاروائیاں ،اپنے دوستوں کا منہ پھیر لینا، ون یونٹ کا ٹوٹنا ، مغربی اور مشرقی پاکستان کے متفقہ 56کے آئین کا خاتمہ ، مجیب کے 6نکات، بنگالی رہنماؤں کی وعدہ خلافیاں ،چالاکیاں اور یو ٹرن ،اگر تلہ سازش کیس،بنگالی خواتین کی عصمت دری ،آئے روز ہوتی ہلاکتیں، سارجنٹ ظہور الحق کی موت، فوج میں بنگالی یونٹوں کے قیام کا معاملہ،3مارچ 1971کو اسمبلی اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ اور باقی جو کچھ ہوا اس نے جلتی پر تیل ہی ڈالا مگر اصل بات تو یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے بویا ،وہی ہم نے کاٹ لیا۔اور قصور وار کوئی ایک نہیں ،سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ۔ مگر دکھ کی بات یہ ہے پاکستان بننے کے 24سال بعدآئے 16 دسمبر سے آج 43سال گذرنے کے بعد بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا ،اگر اُس وقت’’ اگرتلہ ساز ش ‘‘کی باتیں تھیں تو آج لندن پلان کی کہانیاں ہیں ۔ اگر اُس وقت قائداعظم کے پتلے نذرِآتش ہوتے اور پرچم جلا ئے جاتے تھے تو آج بلوچستان میں قومی پرچم کے ساتھ یہی کچھ ہو چکا اور زیارت ریڈنسی تک محفوظ نہیں رہی ۔ اگر اُس وقت ڈھاکہ کہتا تھا کہ ہمارے وسائل کوئی اور کھا جاتا ہے تو آج پشاور اور کوئٹہ یہی باتیں کر رہا ہے ۔ اگر اُس وقت مجیب الرحمن غدار تھا تو آج حکومتی ترجمانوں نے عمران خان کو عمران نیازی کہنا شروع کر دیا ہے ۔ اگر اُس وقت ڈھاکہ ،سلہٹ ،جسور اور چٹا گانگ میں لوگ مر رہے تھے تو آج کراچی،کوئٹہ کے ساتھ ساتھ لاہور،اسلام آباد اور فیصل آباد میں یہی کھیل جاری ہے ۔اگر اُس وقت حکومت نے اپنے مخالفین کو دیوار کے ساتھ لگا رکھا تھا تو آج دوسال گذر گئے مگر حکومت 4حلقے کھولنے پر تیار نہیں ۔اگر اُس وقت جلاؤ گھیراؤ اور پہیہ جام کی باتیں ہور ہی تھیں تو آج بھی یہی کچھ کہا اور کیا جا رہا ہے ، اور اگر اُس وقت حکمران مشرقی پاکستان جانا گوارہ نہیں کرتے تھے تو آج دو سالوں میں وزیراعظم پاکستان کے لاہور کے دوروں کو دیکھ لیں اور پھرکوئٹہ اور پشاور کے دورے گن لیں ۔ اور اگر اُس وقت خوشحالی اور ترقی صرف مغربی پاکستان کا مقدر تھی تو آج بھی سب منصوبے لاہور اور اسلام آباد کیلئے ہی ہیں ۔ یہ سوچنے کی باتیں ہیں،سب کرنے کے کام ہیں اور ہمیں اب دیر نہیں کرنی چاہیے ۔ مگر 16دسمبر کاسب سے بڑا سبق جو یاد رکھنا ہوگا وہ یہ ہے کہ جو حکمران اپنی قوم کی نہیں سنتے،اپنے سیاسی مخالفین کی نہیں مانتے اور اپنوں کی عزت نہیں کرتے ،ان کی باہر کوئی عزت نہیں ہوتی ، انہیں غیروں کے آگے جھکنا پڑتا ہے اور انہیں بالآخر دشمنوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑتے ہیں۔

’’بیمار حکمران ‘‘

- Posted in Amaal Nama by with comments

قدرت اللہ شہاب ’’شہبا ب نامہ ‘‘میں لکھتے ہیں کہ فالج کے مریض گورنر جنرل غلام محمد کا بلڈ پریشر مستقل ہائی رہتا ۔چند قدم چلنے سے بھی معذور وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر گورنر جنر ل ہاؤس کا گشت کیا کرتے۔ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے دستخطوں کے علاوہ کچھ لکھنے کے قابل نہ تھے ۔ فالج کی وجہ سے ان کی زبان کچھ اس طرح متاثر ہوئی کہ جب گفتگو کرتے تو غوں غوں ،غاں غاں اور خر خر کے علاوہ کچھ نہ نکلتا اور بات چیت کے دوران رالیں بہتی رہتیں جو مسلسل صاف کی جاتیں۔کھاتے پیتے ہوئے کھانے کا کچھ حصہ منہ کے دونوں طرف سے باہر گرتا رہتا۔غصے میں منہ سے جھاگ نکلنے لگتی اور جب وہ چیخ چیخ کر خود ہی نڈھال ہو جاتے تو اسی انتظار میں موجود ڈاکٹر آجاتاجو انہیں اگلے غصے کیلئے تیار کرتا ۔ ان کی گفتگو صرف ان کی امریکن سیکرٹری مس روتھ بورل ہی سمجھ پاتیں اور وہی آگے بتا تیں کہ اس وقت گورنر جنرل صاحب کیا فرما رہے ہیں ۔ایک بار مصر کے صدر جما ل عبدا لناصر کہیں اور جاتے ہوئے ایک رات کیلئے کراچی رکے ۔ گورنر جنرل ہاؤس میں ڈنر سے پہلے دونوں رہنماؤں کے درمیان انگریزی میں کچھ اس طرح بات چیت شروع ہوئی ۔غلام محمد :۔پچھلے سال میں بڑا بیمار ہو گیا تھا ۔صدر ناصر :۔ (جن کے پلے کچھ نہ پڑا بولے )یس ایکسلینسی ۔گڈ۔ویری گڈ ۔غلام محمد :۔ میں اتنا سخت بیمار ہوگیا تھا کہ مرنے کے قریب تھا ۔صدر ناصر:۔یس ایکسلینسی۔گڈ۔ویری گڈ ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور جاتا مس روتھ بورل نے آگے بڑھ کر ترجمانی کے فرائض سنبھال لیئے ۔ قائداعظم کی قبل ازوقت رحلت اور قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد معذور غلام محمد ہماری وہ بنیاد بنے کہ جس پر کروڑوں عوام والے ملک کی عمارت کھڑی ہوئی ۔اور پھر ایک آدھ کو چھوڑ کر ہر غلام محمد نے اس عمارت کا لالچ کے سیمنٹ ،مفادات کے سریئے اور سازشوں کی اینٹوں سے حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج7 6 سال گذرنے کے بعد بھی ملک ،قوم اور نظام کی صحت غلام محمد جتنی ہی قابلِ رشک ہے۔اپنے ’’غلام محمدوں ‘‘کے سدا بہار ویژن مطلب ذہنی صحت کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔ آج بات ہوگی ان کی جسمانی صحت کی اور بات شروع کرتے ہیں قائداعظم محمد علی جناح سے۔ ملک وقوم کیلئے مسلسل تگ دو اور انتھک کام کرتے کمزور صحت والے قائداعظم کو پہلے ٹی بی اور پھر تپ دق ہوئی مگر وہ ڈاکٹروں کے مشوروں کو تب تک نظر انداز کرتے رہے جب تک پاکستان بن نہ گیا اور انکی یہ بیماریاں لاعلاج نہ ہو گئیں۔ اور پھر ایک روز وہ زیارت سے واپسی پر کراچی کی ایک سڑک پر اُس خراب ایمبولینس میں زندگی کی بازی ہار گئے کہ جس میں نہ آکسیجن کٹ تھی اور نہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی ادویات ۔انتہائی شاہانہ زندگی گذارنے والے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر سکندر مرزا کو جب ایوب خان نے لندن جلا وطن کیا تو وہاں ایک صنعتکار کے فلیٹ میں مقیم وہ اور انکی بیگم ناہید مرزا مسلسل مالی پریشانیوں میں گھرے رہے۔کثرتِ شراب نوشی سے ان کے پھپھڑے جواب دے گئے ۔کانوں میں انفکشن کیوجہ سے اونچا سننے لگے ۔ کولیسڑول ہائی ہوا اور آخری دنوں میں علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے سکندر مرزا نے ایک طویل علالت کے بعد وفات پائی ۔ اردن کے شاہ حسین کو عشائیہ دے کر ایوان صدرپہنچتے ہی فیلڈ مارشل ایو ب خان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور ہفتہ بھر موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد بہت زیادہ سکون کی دوائیوں کے استعمال سے وہ ایک عرصے تک سستی اورغنودگی کی کیفیت میں رہے۔شراب اورشباب میں غرق جنرل یحییٰ خان قید وبند کی صعوبتوں کے دوران بلڈ پریشر کے مریض ہوئے ۔بعد میں پھپھڑوں نے جواب دیدیا اور پھر فالج ہونے کے بعد سی ایم ایچ راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو کبھی کبھاربلڈ پریشر کی شکایت ہوجاتی۔وہ عمر بھر بے خوابی میں مبتلا رہے۔چاہنے کے باوجود زیادہ سو نہیں سکتے تھے ۔اُنہوں نے اپنے اس وہم کو بھی اپنی بیماری بنا لیا تھا کہ چونکہ ان کے دونوں بھائی امداد اور سکندر 39برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔لہذا وہ بھی جوانی میں ہی فوت ہو جائیں گے ۔صدر فضل الہی چوہدری بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا رہے ۔مارشل لاء لگانے کے بعد جنرل ضیا ء الحق جو بہت زیادہ سگریٹ پیا کرتے تھے اپنی بیٹی زین کے کہنے پر نہ صرف خود سگریٹ چھوڑ دی بلکہ ایوان صدر میں بھی سگریٹ پینے پر پابندی لگا دی ۔ ایک گلاس دودھ اور ایک سلائس سے ناشتہ کرنے اور آلو گوشت کے شوقین جنرل ضیا ء الحق کو کبھی کبھار السر کی شکایت ہوجاتی۔انہیں ’’فٹ راٹ ‘‘بھی تھا جس کی وجہ سے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان جلد گل جاتی تھی ۔لہذا وہ سہ پہر کے بعد ربڑکی چپل پہنتے اور اگر کوئی اہم ملاقات ہوتی تو کوہاٹی چپل پہن لیتے ۔کم کھانے اور کم سونے والے صد غلام اسحق خان ویسے تو ملٹی وٹامنز کی گولیاں باقاعدگی سے لیتے تھے۔مگر نواز شریف کے ساتھ اقتدار کی رسہ کشی کے دوران ایک وہ وقت بھی آیا کہ جب ان کو ’’شیوزوفیرنیا‘‘(منہ سے جھاگ نکلنے کی بیماری) ہوگیا ۔17اپریل 1993ء کو نواز حکومت کو برطرف کرنے والی تقریر میں اسی بیماری کی وجہ سے وہ رومال سے مسلسل منہ صاف کرتے رہے ۔قابلِ رشک صحت والے فاروق لغاری کو جب دل کی تکلیف ہوئی تو وہ انجیو پلاسٹی کروانے امریکہ گئے ۔مگر انجیو پلاسٹی کے اگلے دن ہی انہیں دوبارہ سینے میں شدید درد ہوا۔دوبارہ ہسپتال سے رابطہ کیاگیا تو ڈاکٹروں نے اسے معمول کا درد قرار دیا ۔لیکن ایک گھنٹے بعد مسلسل بڑھتے درد کے ساتھ جب انہیں پسینے بھی آنا شروع ہوگئے تو فوری طور پرانہیں دوسرے امریکی ہسپتال منتقل کیاگیا۔جہاں جا کر پتا چلا کہ نہ صرف ان کے دل کی بڑی شریان بند ہے بلکہ صرف 20فیصد دل کام کر رہا ہے۔ہنگامی طور پر بائی پاس ہوا مگر صورتحال سنبھل نہ سکی۔ بعد میں بات کرتے ہوئے بھی ان کی سانس پھول جاتی ۔آخری دنوں میں سی ایم ایچ راولپنڈی میں زیرعلاج مرحوم صدر کو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیلئے جرمنی لے جایا جانا تھا مگر زندگی نے مہلت ہی نہ دی ۔کمانڈ وصدر پرویز مشرف کی عدالت میں پیش کی گئی 9بیماریوں والی میڈیکل رپورٹ کے برعکس انہیں ایک آدھ مہرے میں ہلکا درد ،کبھی کبھار بلڈ پریشر اورمعمولی سی دل کی تکلیف ہے ۔ آصف علی زرداری انجیوپلاسٹی کرواچکے ہیں۔انہیں شوگر کے ساتھ ساتھ 11سال قیدوبند کی وجہ سے ’’نروس سسٹم ‘‘کی پچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔ سابق صدر رفیق تارڑ کی بھی انجیوپلاسٹی ہو چکی ہے ۔قائدملت لیاقت علی خان کو بلڈ پریشر اور کمر درد رہتا تھا ۔خواجہ ناظم الدین کو کھانے پر بالکل کنٹرول نہیں تھا ۔اکثر زیادہ کھا لیتے اور پھر ہاضمے کی گولیاں کھاتے رہتے۔وزیراعظم محمد علی بوگرہ کے بازؤں اور ٹانگوں میں اکثر درد رہتا۔ 2ماہ وزیراعظم رہنے والے چوہدری محمد علی مختلف قسم کی بیماریوں میں گھرے رہے ۔سکندر مرزا کے پرزور اصرار پر 20ہزار قرضہ لے کر وہ بیرون ملک علاج کیلئے بھی گئے اور پھر ایک لمبی علالت کے بعد وفات پائی ۔ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہرودری دل کے پرانے مریض تھے اور ایک شدید ہارٹ اٹیک ہونے پر بیروت میں وفات پائی ۔وزیراعظم ابراہیم اسماعیل چند ریگر کو مثانے کی تکلیف تھی ۔ تقریباً 9ماہ وزیراعظم رہنے والے فیروز خان نون کواکثر آشوپ چشم ہوجاتا اور انکے پاؤں اکثر سوجے رہتے ۔وزیراعظم محمد خان جونیجو کو کولیسٹرول اور لو بلڈ پریشر کی شکایت رہی اور ایک موذی مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی ۔چین سموکر ملک معراج خالد کو اکثر پھپھڑوں کی تکلیف رہتی ۔انہیں وقفے وقفے سے سردرد بھی ہوتا رہتا ۔بلڈ پریشر اور کمر درد کے مریض وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کو گھٹنوں کی شدید تکلیف تھی ۔وہ روزانہ فزیو تھراپی کرواتے ۔بعد میں دل کی تکلیف ہوئی تو اُنہوں نے انجیوپلاسٹی کروائی ۔چوہدری شجاعت حسین رعشے اور شوگر کے مریض ہیں۔وزیراعظم شوکت عزیز کبھی کبھی اعصابی تناؤ سے بچنے کی ادویات لیتے تھے ۔خوش لباس،خوش خوراک اور باقاعدگی سے چہرے کا فیشل کروانے والے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اکثر بلڈ پریشر ہو جاتا ہے۔ وہ طبی معائنوں سے اس لیئے دور بھاگتے ہیں کہ کوئی بیماری ہی نہ نکل آئے ۔ و زیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کی انجیوپلاسٹی ہو چکی ہے ۔شہباز شریف ایک بڑی بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں کم خوابی کی بھی شکایت رہتی ہے ۔بے نظیر بھٹو اکثر ملٹی وٹامنز کی گولیاں استعمال کرتیں ۔اور آخر میں ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کرنے ،خاوند اور پھر یکے بعد دیگرے اولاد کی اموات کے صدمے سہنے والی بیگم نصرت بھٹو کا تذکرہ ۔انہیں گلے کا کینسر ہوا جو پھیل گیا ۔پھر بھولنے کی بیماری لگی اور آخر میں فالج ہونے پر قومے میں چلی گئیں اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا ۔