Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

!کپتان کے ناراض دوست

- Posted in Amaal Nama by with comments

گزشتہ ہفتہ کی صبح بہت عرصے کے بعد جب میں آج کے صوفی ،درویش اور استادوں کے استاد پروفیسر احمد رفیق اختر سے ملنے کیلئے گھر سے نکلا تو ملاقات کے علاوہ مقصد ایک ہی تھا کہ معلوم کروں کہ 7سالوں سے عمران خان کی سیاسی ،اخلاقی اور روحانی تربیت کرنے والے پروفیسر صاحب اپنے لاڈلے کپتان سے اچانک ناراض کیوں ہوگئے ہیں ۔دوماہ پہلے تک تو سب کچھ ٹھیک تھا کیونکہ 13اور 14اگست کی درمیانی رات کو جب آزادی مارچ کے زمان پارک سے نکلنے سے چند گھنٹے پہلے یہ اطلاعات آنے لگیں کہ پنجاب حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ، کچھ گڑ بڑ ہو سکتی ہے یا کوئی بڑی شرارت ہو سکتی ہے ۔تو یہ پروفیسر احمد رفیق اختر اور ان کے ایک سنیئر صحافی دوست ہی تھے کہ جنہوں نے سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو مدد کیلئے کہا۔جنرل کیانی نے شہباز شریف سے بات کی اور یوں 14اگست کو آزادی مارچ پر امن طریقے سے لاہور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ۔پھر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب چند ہفتے قبل آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء آبپارہ کے اردگرد دھرنا دیئے بیٹھے تھے ۔عمران خان روزانہ نواز شریف سے استعفٰے کا مطالبہ کیئے جار ہے تھے اور حکومت پر دن بدن بڑھتے دباؤ کی وجہ سے بہت سوں کا خیال تھا کہ شاید وزیراعظم مستعفی ہو ہی جائیں۔انہی دنوں کی ایک دوپہر کو میں نے پروفیسر احمد رفیق اختر سے ٹیلی فون پر پوچھا کہ کیا میاں نواز شریف استعفٰی دیدیں گے ؟ تب پہلی بار مجھے معلوم پڑا کہ پروفیسر صاحب اور کپتان میں سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔کیونکہ اُس دن کپتان کے اس مطالبے کو احمقانہ اور بچگانہ قراد دے کر پروفیسر صاحب نے یہ قصہ سنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’گرمیوں کی ایک شام خلیل ملک مرحوم اٹک جیل میں قید میاں نواز شریف کا پیغام لے کر میرے پاس آئے ۔میاں صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ مجھے کھانے میں زہر دے کر مار دیا جائے گا ۔لہذا میرے لیئے دعا کریں اور مجھے پڑھنے کیلئے کچھ دیں ۔میں نے میاں صاحب کوپڑھنے کیلئے کچھ تسبیحات بجھوا دیں ۔کچھ عرصہ بعد جلا وطن ہوجانے والے میاں نواز شریف کا جدہ سے فون آیا کہنے لگے ’’پروفیسر صاحب اللہ کے فضل وکرم کے بعد میں آپ کے دیئے ہوئے ذکر کی وجہ سے بچ گیا ‘‘۔ یہ واقعہ سنا کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اور نواز شریف سے متعلق جتنا میر اعلم ہے بلاشبہ میاں صاحب کی ٹیم ہمیشہ نالائق ترین لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔و ہ ہر فیصلہ کرنے میں دیر لگا دیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں وہ واقعی کمزور ہیں مگر استعفٰی نہ دینے کے حوالے سے وہ بہت دلیر ہیں ۔وہ کبھی استعفٰی نہیں دیں گے۔ پھر ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے پروفیسر صاحب کے یہ خیالات بھی میرے لیئے کسی انکشاف سے کم نہ تھے کہ ’’ہر اگلے لمحے اپنی پچھلی بات سے مکرنے ،ہر اندازے سے زیادہ چالاک اور خود کو پاکستان کے امام خمینی سمجھنے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے سب لوگ ایک سحر میں جکڑے ہوئے برین واشڈ ہیں اور ان کی ایک عرصے سے برین واشنگ ہو رہی تھی ۔ان کے مارچ اور دھرنے کا مقصد پاکستانی اداروں کو آپس میں لڑا کر یہاں عراق،شام اور لیبیا جیسی صورتحال پیدا کرنا تھی ۔ مگر یہ ناکام ہوئے کیونکہ ہماری فوج مضبوط ہے اور جہاں فوج مضبو ط ہوتی ہے وہاں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔مگر بقول پروفیسر صاحب اس سازش میں یہود ،ہنود ،ایک مذہبی جماعت سمیت عالمی ایجنسیاں براہ راست ملوث تھیں ۔‘‘ میرا دماغ نجانے ابھی اور کہاں کہاں بھٹکتا اگر گھنٹہ بھر کی ڈرائیوکے بعد میں پروفیسر صاحب کی رہائش گاہ پر نہ پہنچ چکا ہوتا ۔سامان اور انسان کے بغیر خالی پڑے گراؤنڈ فلور کی سیڑھیاں چڑھ کر جب میں پروفیسر صاحب کے بیڈ روم ،ڈرائنگ روم اور سٹڈی روم (تھری ان ون) کمرے میں پہنچا تو باہر دن کے 11بجے جس زدہ صبح ایک گرم دوپہر میں ڈھل رہی تھی جبکہ کمرے کے اندر ٹھنڈک ایسی تھی کہ سردیوں کا گمان ہو رہا تھا ۔تازہ تازہ ائیر کنڈیشنر بند کر کے آدھے لحاف کے اندر اور آدھے باہر پروفیسر صاحب لیٹے لیٹے مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میں ان کے سامنے پڑی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گیا ۔کپتان سے کیا غلطی ہوگئی کہ آپ نہ صرف ناراض ہیں بلکہ اب آپ اُنہیں مِل ہی نہیں رہے؟علیک سلیک ،حال احوال اور چند رسمی جملوں کے بعد میں نے اپنا اصل موضوع چھیڑا ۔پروفیسر صاحب پہلے مسکرائے ،سگریٹ سلگایا اور پھر بولے:ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک انسان جلد باز ہے ‘‘امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’آخری چیز جو انسان سے نکلتی ہے وہ حبّ جاہ ہے‘‘عمران بھولا ہے ۔اتنا بھولا کہ اپنے بیٹوں کو ملتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ اگلی مرتبہ تم اپنے والد وزیراعظم عمران خان سے مِلو گے۔آزادی مارچ سے چند گھنٹے پہلے تک مجھ سے پوچھتا رہاکہ کیا 40ہزار لوگ لاہور سے نکل آئیں گے ۔میں ہر بار کہتا پورا لاہور نکلے گا وہ راتوں کو اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔کہتا ہے 63سال کا ہوگیا ہوں کہیں کچھ کرنے سے پہلے مر ہی نہ جاؤں ۔مگر وہ جتنا سیدھا ہے اُس سے زیادہ جلد باز ہے اور حبّ جاہ میں جکڑا ہوا۔اپنی جلد بازی کی وجہ سے وہ آج بندگلی میں ہے ۔7سال پہلے جب وہ پہلی بار میرے پاس آیا تو رات 8بجے سے صبح 4بجے تک بیٹھا سوال کرتا رہا ،جواب سنتا رہا۔میں خوش تھا کہ اچھا شاگرد مل گیا اسے تیار کروں گا تو ملک کا بھلا ہوگا ۔مگر میں غلطی پر تھا،لگتا ہے کہ میری محنت رائیگاں چلی گئی ہے ۔ کپتان اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ چائے کے ساتھ سگریٹ پیتے پروفیسر صاحب سے میں نے اگلا سوال کیا تو نیا سگریٹ سلگا کر بولے! عمران خان بہت خود پسند ہے اور خود پسندی وہاں ہوتی ہے جہاں عقل کم ہو ۔اس نے اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھا ۔وہ اپنی باتوں سے مگر گیا ہے اور وہ اپنے مشن سے پھر گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج اُس کے دوست ،خیرخواہ اور ضمانتی سب شرمندہ ہیں ۔ ہاں اگر آج بھی اسے عقل آجائے اور وہ دل بڑا کرکے اپنی غلطیاں تسلیم کر لے تو اُس کا مستقبل ہے ۔یہ تو الیکڑانک میڈیا کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے دھرنے اتنے عرصے تک چل گئے ورنہ تو بہت پہلے کے ختم ہو چکے ہوتے ۔اور پھر مجھے کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ عمران کیسا لیڈر ہے جو کہتا ہے کہ عوامی پریشر کی وجہ سے میں یہ سب کچھ کر بیٹھاہوں ،فلاں پریشر کی وجہ سے وہ کر رہا ہوں یا فلاں پریشر کی وجہ سے مجھے وہ کرنا پڑا۔بھائی لیڈر شپ کے فیصلے ہر پریشر سے بالاہوتے ہیں ۔بہت پہلے میں نے عمران خان کو قائداعظم ؒ کا یہ واقعہ سنایا تھا۔ آج تمہیں سنا رہاہوں ،خود فیصلہ کرو کہ لیڈر شپ کو کیسا ہونا چاہیے ۔’’تقسیم ہندوستان سے پہلے کی بات ہے ۔ جلسہ ہو رہا ہوتا ہے ۔قائداعظم محمد علی جناح مہمان خصوصی ہیں ۔ قائد اعظم تقریرکرنے آتے ہیں ۔ایک بہت بڑا ہجوم نعرہ زن۔قائداعظم زندہ بار کے نعرے۔ قائداعظم کہتے ہیں خاموش ہو جائیے مگر لوگ مسلسل نعرہ زن ہیں ۔چند لمحوں بعد قائد دوبارہ کہتے ہیں خاموش ہو جائیے ،لیکن پھر بھی جب نعرے نہیں رکتے تو قائداعظم اسٹیج سے اتر کر گاڑی میں بیٹھ کر واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں‘‘ ۔نواز حکومت کے مستقبل کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے ؟جونہی پروفیسر صاحب خاموش ہوئے تومیں نے اگلا سوال کر دیا ۔یکم مئی 2013کو موجودہ انتخابات سے 10دن پہلے ایوان اقبال لاہور والا میرا لیکچر سن لیں ۔(پروفیسر صاحب نے بولنا شروع کیا ) یہ لیکچر شائع بھی ہوا اور یوٹیو ب پر موجود بھی ہے ۔میں نے انتخابات سے پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’موجودہ انتخابات میں عمران خان نہیں مسلم لیگ (ن) جیت کر حکومت بنائے گی۔حکومت کو پہلے دن سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور کچھ عرصہ کے بعد اسے سخت مظاہروں اور احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔مگر حکومت ان تمام مشکل مراحل سے تو نکل جائے گی ۔لیکن اگر حکمرانوں نے ڈلیور نہ کیا تو پھر دو اڑھائی سال کے بعد سب کو گھر جانا پڑے گا اور (عمران خان نہیں ) نئے لوگ آئیں گے جو حقیقی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ نظام بھی بدل دیں گے ۔ دوستو ! یہ پانچ فیصدہے اُس سب کا جو پروفیسر صاحب نے بتایا اور جو کچھ انہوں نے سنایا ۔خواہش تھی کہ سب کچھ لکھ پاتا مگر مجبوری یہ ہے کہ پروفیسر صاحب پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کے قصے تو سناتے رہے ،وہ ہو چکی اور ہونے والی سازشوں سے پردے تو اٹھاتے رہے اور وہ دوست نما دشمنوں کا پتا تو بتاتے رہے مگر ساتھ ساتھ ہی اپنی گفتگو کو آف دی ریکارڈ کے تڑکے بھی لگاتے رہے ۔باقی پروفیسر صاحب سے اس بار ملنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ جہالت غربت کا دوسرا نام ہے اور بے خبری میں جہالت ہوتی ہے مگر اس ملاقات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہو ں کہ بعض اوقات لاعلمی بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔کاش پروفیسر صاحب یہ سب کچھ نہ بتاتے اور کاش میںیہ سب کچھ نہ سنتا۔کیونکہ اپنے بڑوں کو کپڑوں کے بنا دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔

!کپتان کے ناراض دوست

- Posted in Amaal Nama by with comments

گزشتہ ہفتہ کی صبح بہت عرصے کے بعد جب میں آج کے صوفی ،درویش اور استادوں کے استاد پروفیسر احمد رفیق اختر سے ملنے کیلئے گھر سے نکلا تو ملاقات کے علاوہ مقصد ایک ہی تھا کہ معلوم کروں کہ 7سالوں سے عمران خان کی سیاسی ،اخلاقی اور روحانی تربیت کرنے والے پروفیسر صاحب اپنے لاڈلے کپتان سے اچانک ناراض کیوں ہوگئے ہیں ۔دوماہ پہلے تک تو سب کچھ ٹھیک تھا کیونکہ 13اور 14اگست کی درمیانی رات کو جب آزادی مارچ کے زمان پارک سے نکلنے سے چند گھنٹے پہلے یہ اطلاعات آنے لگیں کہ پنجاب حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ، کچھ گڑ بڑ ہو سکتی ہے یا کوئی بڑی شرارت ہو سکتی ہے ۔تو یہ پروفیسر احمد رفیق اختر اور ان کے ایک سنیئر صحافی دوست ہی تھے کہ جنہوں نے سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو مدد کیلئے کہا۔جنرل کیانی نے شہباز شریف سے بات کی اور یوں 14اگست کو آزادی مارچ پر امن طریقے سے لاہور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ۔پھر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب چند ہفتے قبل آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء آبپارہ کے اردگرد دھرنا دیئے بیٹھے تھے ۔عمران خان روزانہ نواز شریف سے استعفٰے کا مطالبہ کیئے جار ہے تھے اور حکومت پر دن بدن بڑھتے دباؤ کی وجہ سے بہت سوں کا خیال تھا کہ شاید وزیراعظم مستعفی ہو ہی جائیں۔انہی دنوں کی ایک دوپہر کو میں نے پروفیسر احمد رفیق اختر سے ٹیلی فون پر پوچھا کہ کیا میاں نواز شریف استعفٰی دیدیں گے ؟ تب پہلی بار مجھے معلوم پڑا کہ پروفیسر صاحب اور کپتان میں سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔کیونکہ اُس دن کپتان کے اس مطالبے کو احمقانہ اور بچگانہ قراد دے کر پروفیسر صاحب نے یہ قصہ سنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’گرمیوں کی ایک شام خلیل ملک مرحوم اٹک جیل میں قید میاں نواز شریف کا پیغام لے کر میرے پاس آئے ۔میاں صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ مجھے کھانے میں زہر دے کر مار دیا جائے گا ۔لہذا میرے لیئے دعا کریں اور مجھے پڑھنے کیلئے کچھ دیں ۔میں نے میاں صاحب کوپڑھنے کیلئے کچھ تسبیحات بجھوا دیں ۔کچھ عرصہ بعد جلا وطن ہوجانے والے میاں نواز شریف کا جدہ سے فون آیا کہنے لگے ’’پروفیسر صاحب اللہ کے فضل وکرم کے بعد میں آپ کے دیئے ہوئے ذکر کی وجہ سے بچ گیا ‘‘۔ یہ واقعہ سنا کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اور نواز شریف سے متعلق جتنا میر اعلم ہے بلاشبہ میاں صاحب کی ٹیم ہمیشہ نالائق ترین لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔و ہ ہر فیصلہ کرنے میں دیر لگا دیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں وہ واقعی کمزور ہیں مگر استعفٰی نہ دینے کے حوالے سے وہ بہت دلیر ہیں ۔وہ کبھی استعفٰی نہیں دیں گے۔ پھر ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے پروفیسر صاحب کے یہ خیالات بھی میرے لیئے کسی انکشاف سے کم نہ تھے کہ ’’ہر اگلے لمحے اپنی پچھلی بات سے مکرنے ،ہر اندازے سے زیادہ چالاک اور خود کو پاکستان کے امام خمینی سمجھنے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے سب لوگ ایک سحر میں جکڑے ہوئے برین واشڈ ہیں اور ان کی ایک عرصے سے برین واشنگ ہو رہی تھی ۔ان کے مارچ اور دھرنے کا مقصد پاکستانی اداروں کو آپس میں لڑا کر یہاں عراق،شام اور لیبیا جیسی صورتحال پیدا کرنا تھی ۔ مگر یہ ناکام ہوئے کیونکہ ہماری فوج مضبوط ہے اور جہاں فوج مضبو ط ہوتی ہے وہاں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔مگر بقول پروفیسر صاحب اس سازش میں یہود ،ہنود ،ایک مذہبی جماعت سمیت عالمی ایجنسیاں براہ راست ملوث تھیں ۔‘‘ میرا دماغ نجانے ابھی اور کہاں کہاں بھٹکتا اگر گھنٹہ بھر کی ڈرائیوکے بعد میں پروفیسر صاحب کی رہائش گاہ پر نہ پہنچ چکا ہوتا ۔سامان اور انسان کے بغیر خالی پڑے گراؤنڈ فلور کی سیڑھیاں چڑھ کر جب میں پروفیسر صاحب کے بیڈ روم ،ڈرائنگ روم اور سٹڈی روم (تھری ان ون) کمرے میں پہنچا تو باہر دن کے 11بجے جس زدہ صبح ایک گرم دوپہر میں ڈھل رہی تھی جبکہ کمرے کے اندر ٹھنڈک ایسی تھی کہ سردیوں کا گمان ہو رہا تھا ۔تازہ تازہ ائیر کنڈیشنر بند کر کے آدھے لحاف کے اندر اور آدھے باہر پروفیسر صاحب لیٹے لیٹے مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میں ان کے سامنے پڑی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گیا ۔کپتان سے کیا غلطی ہوگئی کہ آپ نہ صرف ناراض ہیں بلکہ اب آپ اُنہیں مِل ہی نہیں رہے؟علیک سلیک ،حال احوال اور چند رسمی جملوں کے بعد میں نے اپنا اصل موضوع چھیڑا ۔پروفیسر صاحب پہلے مسکرائے ،سگریٹ سلگایا اور پھر بولے:ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک انسان جلد باز ہے ‘‘امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’آخری چیز جو انسان سے نکلتی ہے وہ حبّ جاہ ہے‘‘عمران بھولا ہے ۔اتنا بھولا کہ اپنے بیٹوں کو ملتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ اگلی مرتبہ تم اپنے والد وزیراعظم عمران خان سے مِلو گے۔آزادی مارچ سے چند گھنٹے پہلے تک مجھ سے پوچھتا رہاکہ کیا 40ہزار لوگ لاہور سے نکل آئیں گے ۔میں ہر بار کہتا پورا لاہور نکلے گا وہ راتوں کو اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔کہتا ہے 63سال کا ہوگیا ہوں کہیں کچھ کرنے سے پہلے مر ہی نہ جاؤں ۔مگر وہ جتنا سیدھا ہے اُس سے زیادہ جلد باز ہے اور حبّ جاہ میں جکڑا ہوا۔اپنی جلد بازی کی وجہ سے وہ آج بندگلی میں ہے ۔7سال پہلے جب وہ پہلی بار میرے پاس آیا تو رات 8بجے سے صبح 4بجے تک بیٹھا سوال کرتا رہا ،جواب سنتا رہا۔میں خوش تھا کہ اچھا شاگرد مل گیا اسے تیار کروں گا تو ملک کا بھلا ہوگا ۔مگر میں غلطی پر تھا،لگتا ہے کہ میری محنت رائیگاں چلی گئی ہے ۔ کپتان اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ چائے کے ساتھ سگریٹ پیتے پروفیسر صاحب سے میں نے اگلا سوال کیا تو نیا سگریٹ سلگا کر بولے! عمران خان بہت خود پسند ہے اور خود پسندی وہاں ہوتی ہے جہاں عقل کم ہو ۔اس نے اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھا ۔وہ اپنی باتوں سے مگر گیا ہے اور وہ اپنے مشن سے پھر گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج اُس کے دوست ،خیرخواہ اور ضمانتی سب شرمندہ ہیں ۔ ہاں اگر آج بھی اسے عقل آجائے اور وہ دل بڑا کرکے اپنی غلطیاں تسلیم کر لے تو اُس کا مستقبل ہے ۔یہ تو الیکڑانک میڈیا کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے دھرنے اتنے عرصے تک چل گئے ورنہ تو بہت پہلے کے ختم ہو چکے ہوتے ۔اور پھر مجھے کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ عمران کیسا لیڈر ہے جو کہتا ہے کہ عوامی پریشر کی وجہ سے میں یہ سب کچھ کر بیٹھاہوں ،فلاں پریشر کی وجہ سے وہ کر رہا ہوں یا فلاں پریشر کی وجہ سے مجھے وہ کرنا پڑا۔بھائی لیڈر شپ کے فیصلے ہر پریشر سے بالاہوتے ہیں ۔بہت پہلے میں نے عمران خان کو قائداعظم ؒ کا یہ واقعہ سنایا تھا۔ آج تمہیں سنا رہاہوں ،خود فیصلہ کرو کہ لیڈر شپ کو کیسا ہونا چاہیے ۔’’تقسیم ہندوستان سے پہلے کی بات ہے ۔ جلسہ ہو رہا ہوتا ہے ۔قائداعظم محمد علی جناح مہمان خصوصی ہیں ۔ قائد اعظم تقریرکرنے آتے ہیں ۔ایک بہت بڑا ہجوم نعرہ زن۔قائداعظم زندہ بار کے نعرے۔ قائداعظم کہتے ہیں خاموش ہو جائیے مگر لوگ مسلسل نعرہ زن ہیں ۔چند لمحوں بعد قائد دوبارہ کہتے ہیں خاموش ہو جائیے ،لیکن پھر بھی جب نعرے نہیں رکتے تو قائداعظم اسٹیج سے اتر کر گاڑی میں بیٹھ کر واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں‘‘ ۔نواز حکومت کے مستقبل کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے ؟جونہی پروفیسر صاحب خاموش ہوئے تومیں نے اگلا سوال کر دیا ۔یکم مئی 2013کو موجودہ انتخابات سے 10دن پہلے ایوان اقبال لاہور والا میرا لیکچر سن لیں ۔(پروفیسر صاحب نے بولنا شروع کیا ) یہ لیکچر شائع بھی ہوا اور یوٹیو ب پر موجود بھی ہے ۔میں نے انتخابات سے پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’موجودہ انتخابات میں عمران خان نہیں مسلم لیگ (ن) جیت کر حکومت بنائے گی۔حکومت کو پہلے دن سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور کچھ عرصہ کے بعد اسے سخت مظاہروں اور احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔مگر حکومت ان تمام مشکل مراحل سے تو نکل جائے گی ۔لیکن اگر حکمرانوں نے ڈلیور نہ کیا تو پھر دو اڑھائی سال کے بعد سب کو گھر جانا پڑے گا اور (عمران خان نہیں ) نئے لوگ آئیں گے جو حقیقی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ نظام بھی بدل دیں گے ۔ دوستو ! یہ پانچ فیصدہے اُس سب کا جو پروفیسر صاحب نے بتایا اور جو کچھ انہوں نے سنایا ۔خواہش تھی کہ سب کچھ لکھ پاتا مگر مجبوری یہ ہے کہ پروفیسر صاحب پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کے قصے تو سناتے رہے ،وہ ہو چکی اور ہونے والی سازشوں سے پردے تو اٹھاتے رہے اور وہ دوست نما دشمنوں کا پتا تو بتاتے رہے مگر ساتھ ساتھ ہی اپنی گفتگو کو آف دی ریکارڈ کے تڑکے بھی لگاتے رہے ۔باقی پروفیسر صاحب سے اس بار ملنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ جہالت غربت کا دوسرا نام ہے اور بے خبری میں جہالت ہوتی ہے مگر اس ملاقات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہو ں کہ بعض اوقات لاعلمی بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔کاش پروفیسر صاحب یہ سب کچھ نہ بتاتے اور کاش میںیہ سب کچھ نہ سنتا۔کیونکہ اپنے بڑوں کو کپڑوں کے بنا دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔

!فیصلہ آپ نے کرنا ہے

- Posted in Amaal Nama by with comments

ہزاروں میل دور نریندرمودی کو آم اور ان کی والدہ کو ساڑھی اور شالیں بجھوانے والے نواز شریف گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے وزیراعظم ہاؤس سے ایک فرلانگ پر جھلساتی دھوپوں اور برستی بارشوں میں کھلے آسمان تلے بیٹھی سینکڑوں ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کیلئے ابھی تک دو لفظ ہمدردی یا تسلی کے بھی ادا نہیں کر پائے ۔نواز شریف نے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری تو پوری کی پوری دیکھی اور سنی مگر اپنے ملک کی اپنی پارلیمنٹ میں اپنے سیاسی حریف شاہ محمود قریشی کی ایک تقریر بھی سننا گوارا نہ کی ،ہمار اکروڑوں خرچ کر کے اقوام متحدہ میں فلسطینی اور کشمیری عوام پر ہوتے ظلم وستم پر کڑھتے وزیراعظم چند ہفتے قبل وزیراعظم ہاؤس کے سامنے 3پاکستانیوں کو جان سے مار دینے ،درجنوں کو گھائل اور بیسوؤں کو قید ی بنالینے والی پولیس کی کارکردگی کو سراہ رہے تھے ۔دن رات عوام عوام کرتے اور اسی عوام کے کندھوں پر اعلیٰ منصبوں تک پہنچے ہوئے ہمارے معزز پارلیمنٹرین اپنی پارلیمنٹ لاجز والی سرکاری رہائش گاہوں سے عارضی طور پر صرف اس لیئے شفٹ ہوئے کہ دھرنے والوں کی بدبواب ناقابل برداشت ہو چکی تھی اورڈر تھا کہ ان کی وبائی امراض کہیں انہیں نہ لگ جائیں ،زہریلی گیس کی برستی بارش کے دوران اندھوں کی طرح بھاگتے ’’دھرنا بازوں ‘‘ سے مقدس پارلیمنٹ کا جنگلا ٹوٹا تو کوئی رعائیت نہیں،مقدمے پہ مقدمہ ۔مگر ابھی تک اس ملک کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والے سب معزز ،قومی پرچم جلانے والے سب محترم ،دشمنوں کی گودوں میں پلے بڑھے سب واجب احترام ،ریمنڈ ڈیوس کے ساتھی محب وطن اور عافیہ صدیقی کے ڈیڑھ سالہ بچے تک کو آقا کے حوالے کر دینے والے ہر رعائیت کے مستحق اور کل تک انجلینا جولی کیلئے میوزیکل ڈنر کرتے ،بندوق ،خنجر اور تلواریں پیش کرتے ہوئے بچھ بچھ جانے والے شیر پاؤ کو آج تحریک انصاف کا دھرنا ’’شام کی محفلیں ‘‘ لگتا ہے ۔یہ ہے ہمارا وہ آج کہ جس کے رحم وکرم پر 18کروڑ عوام ہیں اور جسے ہم بھگت رہے ہیں ۔ پہلے ہیلی کاپٹر ،پھر 35گاڑیوں کا کارواں اور آخر میں وہ بلٹ پروف گاڑی جس کے سیلابی دلدل میں پھنسنے کے بعد دو فرلانگ پیدل چل کر بلاول بھٹو زرداری جب اپنے درجن بھر سیاسی ہدایتکار وں کے ساتھ سیلاب میں ڈوبی خلق خدا کو حوصلہ دینے کیلئے چنیوٹ کے ایک نواحی قصبے میں پہنچے تو اس پورے قافلے میں کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ کیمرے آن ہیں اور سب کچھ ریکارڈ ہور رہا ہے ۔ایک ہدایتکار بولا ! یہاں پانی کم گہرا ہے ،چیئرمین کو یہاں سے پانی میں اتارو ،جونہی بلاول پانی میں اترے تو دوسری آواز آئی ،ذرا سامنے سے شارٹ لیں ،بہت اچھا شارٹ آئے گا اور یوں سامنے سے عکسبندی ہونے لگی ۔منظر بدلتا ہے ۔ بلاول بھٹو کو دو سیلاب زدہ بوڑھی عورتوں کے پاس لے جایا جاتا ہے ۔ایک آواز گونجتی ہے ’’اماں جی ،بینظیر شہید دا پتر آیا جے ‘‘ ننگے سر ،خالی آنکھوں اور محرمیوں زدہ جھریوں سے بھرے چہرے والی اماں جی جونہی اٹھ کر بلاول بھٹو زرداری کو پیار کرنا شروع کرتی ہے تو ایک ہدایتکار بولا ’’اس طرف سے شوٹ کرو ،اس طرف سے اماں مکمل طورپر کیمرے میں آرہی ہے اور پھریوں چند ہی لمحوں میں اماں جی مکمل طور پر اپنے سب غموں سمیت فلم اور کیمرے کامستقل حصہ بن گئی ۔ یہ ہے ہمارا وہ کل کہ جسے ہمارے بچے بھگتیں گے۔ گذشتہ ایک ماہ سے خاکی یونیفارم اور لانگ شوز پہنے سیلابی دکھ درد میں دن رات ایک کردینے والے شہباز شریف کو دیکھ کر جب ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ 3حکومتیں کرنے اور 2سیلاب بھگتانے والے خادم اعلیٰ کا عملی طور پر کیا گیا کوئی ایک بھی ایسا اقدام کہ جس کے بعداگلے آنے والے سیلاب کی شدت اور تباہی میں 5فیصد ہی کمی ہوئی ہو ،جب کوئی جواب نہیں ملتا تو پتا چلتا ہے کہ یہ ہے ہماری اس گڈ گورننس کی حقیقت جس کے چرچے ترکی سے چین تک پہنچے ہوئے ہیں ! مجھ جیسے آئے روز چمکتے چہروں ،سنورے بالوں ،بناشکن کے کپڑوں اور لش لش کرتی گاڑیوں میں اپنے بااثرملزمان کو پیشیوں پر آتے جاتے وکٹری نشان بناتے تو دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔مگر دو ہفتے قبل جب ایک رات وفاقی دارالحکومت کے شکرپڑیاں چوک پر اڑھائی سو کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے شیر دل جوانوں کے ہاتھوں ’’دھرنا بازوں ‘‘ کی سرعام خاطر تواضع ہوتے اور رسیوں سے باندھ باندھ کر انہیں جانوروں کی طرح گاڑیوں میں پھینکنے کا نظارہ دیکھا تو اپنے اس قانون کاوہ اصل چہرہ بھی سامنے آگیا جو کل کی طرح آج بھی بااختیاروں کیلئے ڈھال اور ریلیف بنا ہوا ہے جبکہ بے اختیاروں کیلئے وہ کل کی طرح آج بھی گلو بٹ ہی ہے ! مختلف مقدمات میں نامزد امین فہیم کو جب وزیراعظم نواز شریف ،صوبائی حکومتوں کے چیفس ،وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بڑے ٹھاٹھ سے ملکی سلامتی کے ایک اجلاس میں بیٹھے دیکھا تو اپنی سیاست کا اصل چہرہ بھی دیکھنے کو مل گیا ،پھر کل تک 28گاڑیوں کے حصار میں محو سفر وزیر اعظم جمالی کو آج اپنی گاڑی خود چلاتے دیکھ کر اور کل تک اسلام آباد کی مارکیٹوں میں عام لوگوں کی طرح شاپنگ کرنے والے ممنون حسین کو آج جب پورا مری سیل کرکے سیر کروائی جاتی ہے تو اپنے اس آئین کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے ۔جو پل بھر میں ایک سطحی سے انسان کو وہاں پہنچا دیتا ہے کہ جہاں بعد میں وہ ایمبولینس کے سائرن پر بھی ہڑبڑا کر اٹھ جاتا ہے کہ میرا پروٹوکول آگیا ۔ مگر دوستو ! گو کہ اسی کل ،اسی آج ،اسی آئین ،اسی قانون ،اسی سیاست اور اسی گڈگورننس کے ہوتے ہوئے گذشتہ چند ہفتوں میں پچھلی 6دہائیوں سے عوام کو لڈو کی سانپوں والی گیم کھلاتے حکمرانوں کے اب رنگ میں بھنگ پڑچکی ۔ ڈی چوک سے شروع ہوئے ’’گو نواز گو‘‘کے نعرے براستہ سرگودھا نیویارک تک جا پہنچے ۔ ایک ریڑھی والا سکھر میں قائم علی شاہ کی 28گاڑیاں روک چکا ،رمیش اور رحمان جہاز سے اتارے جا چکے ،حمزہ کو لاہور میں اپنی تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی ،لندن سازش والی فلم پہلے شو میں ہی پٹ گئی ۔بچپن سے منبر پر بیٹھے مسلسل عالم غیب میں جھانکتے کپتان کے ناراض قلم کارسمیت تمام دانشوروں کی دھرنوں کو عالمی سازشیں قرار دینے کی سب کہانیاں دم توڑ چکیں ۔کراچی ،لاہور،میانوالی اور ملتان اپنا فیصلہ سنا چکے۔دھرنے عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ، اپنے ہونے اور اپنے حقوق کا شعور گھر گھر تک پہنچ گیا اور تبدیلی محسوس ہونے لگی ۔ مگر چونکہ یہ پاکستان ہے وہ پاکستان کہ جہاں ہماری یاداشت نہ ہونے کی حد تک کمزور ہے ،جہاں پہلے بھی آزادی ،تبدیلی اور انقلاب ہائی جیک ہو چکے ۔جہاں پہلے بھی کئی عمران اپنے خوابوں سمیت ہماری بے حسی کی منوں مٹی تلے دفن ہیں ۔جہاں اپنے شہید اور مخالف غدار کہلاتے ہیں۔ جہاں بصیرت پرستی کی بجائے عقیدت پرستی چلتی ہے ۔جہاں قرآن فہمی کی بجائے فوکس قرآن خوانی پر ہوتا ہے ۔جہاں ایشوز ڈسکس ہونے کی بجائے ہر کہانی شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔جہاں ہر ڈکٹیٹر جمہوریت کیلئے اور ہر جمہوری حکمران ڈکٹیٹر شپ کیلئے کوشاں رہتا ہے ۔جہاں ہر وقت دین ودنیا میں شارٹ کٹ کی تلاش جاری رہتی ہے اور یہ وہ پاکستان ہے کہ جہاں اگر 4افراد باہمی اتفاق سے ایک سمت میں جارہے ہوں گے تو پانچواں ان کے کندھوں پر ہوگااور وہ پاکستان جہاں ہر کوئی آزادی ،تبدیلی اور انقلاب کا خواہاں تو ہے مگر اس خواہش کے ساتھ کہ یہ سب کچھ اس کے گھراور زندگی سے دور رہے اور قربانی کوئی اور دے۔لہذا اس پاکستان میں نظام کی تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں ۔سو منزل دور ہے اور راستہ کٹھن ۔مگر وقت کی عدالت لگ چکی ۔اصل اور اصلیت ظاہر ہو رہی ہے ،نقل اور نقلی پن چھپائے چھپ نہیں رہا ،بچائے بچ نہیں رہا اور انسان کیا ہمارا تو گذشتہ کل ہمارا آج اور بلکہ آنے والا کل بھی کسی مجذوب کی طرح چوراہوں پر ننگا ناچ رہا ہے ۔فیصلوں کی ان گھڑیوں میں اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ یا تو اپنے ڈرائنگ روموں ،دفتروں ، محفلوں اور کھانے کی میزوں پر بیٹھ کراپنی جمہوریت اور اپنے مخدوم جاوید ہاشمی کی قابل رشک صحت پر خوش ہوتے رہیں،بحثیں کرتے رہیں یا پھرخوف کے سارے بت توڑ کر اپنے ملک ،اپنی زمین اور اپنے بچوں کیلئے عملی طور پر کچھ کر لیں ۔ کیونکہ بقول احمد فراز:۔ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے