Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

!فیصلہ آپ نے کرنا ہے

- Posted in Amaal Nama by with comments

ہزاروں میل دور نریندرمودی کو آم اور ان کی والدہ کو ساڑھی اور شالیں بجھوانے والے نواز شریف گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے وزیراعظم ہاؤس سے ایک فرلانگ پر جھلساتی دھوپوں اور برستی بارشوں میں کھلے آسمان تلے بیٹھی سینکڑوں ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کیلئے ابھی تک دو لفظ ہمدردی یا تسلی کے بھی ادا نہیں کر پائے ۔نواز شریف نے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری تو پوری کی پوری دیکھی اور سنی مگر اپنے ملک کی اپنی پارلیمنٹ میں اپنے سیاسی حریف شاہ محمود قریشی کی ایک تقریر بھی سننا گوارا نہ کی ،ہمار اکروڑوں خرچ کر کے اقوام متحدہ میں فلسطینی اور کشمیری عوام پر ہوتے ظلم وستم پر کڑھتے وزیراعظم چند ہفتے قبل وزیراعظم ہاؤس کے سامنے 3پاکستانیوں کو جان سے مار دینے ،درجنوں کو گھائل اور بیسوؤں کو قید ی بنالینے والی پولیس کی کارکردگی کو سراہ رہے تھے ۔دن رات عوام عوام کرتے اور اسی عوام کے کندھوں پر اعلیٰ منصبوں تک پہنچے ہوئے ہمارے معزز پارلیمنٹرین اپنی پارلیمنٹ لاجز والی سرکاری رہائش گاہوں سے عارضی طور پر صرف اس لیئے شفٹ ہوئے کہ دھرنے والوں کی بدبواب ناقابل برداشت ہو چکی تھی اورڈر تھا کہ ان کی وبائی امراض کہیں انہیں نہ لگ جائیں ،زہریلی گیس کی برستی بارش کے دوران اندھوں کی طرح بھاگتے ’’دھرنا بازوں ‘‘ سے مقدس پارلیمنٹ کا جنگلا ٹوٹا تو کوئی رعائیت نہیں،مقدمے پہ مقدمہ ۔مگر ابھی تک اس ملک کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والے سب معزز ،قومی پرچم جلانے والے سب محترم ،دشمنوں کی گودوں میں پلے بڑھے سب واجب احترام ،ریمنڈ ڈیوس کے ساتھی محب وطن اور عافیہ صدیقی کے ڈیڑھ سالہ بچے تک کو آقا کے حوالے کر دینے والے ہر رعائیت کے مستحق اور کل تک انجلینا جولی کیلئے میوزیکل ڈنر کرتے ،بندوق ،خنجر اور تلواریں پیش کرتے ہوئے بچھ بچھ جانے والے شیر پاؤ کو آج تحریک انصاف کا دھرنا ’’شام کی محفلیں ‘‘ لگتا ہے ۔یہ ہے ہمارا وہ آج کہ جس کے رحم وکرم پر 18کروڑ عوام ہیں اور جسے ہم بھگت رہے ہیں ۔ پہلے ہیلی کاپٹر ،پھر 35گاڑیوں کا کارواں اور آخر میں وہ بلٹ پروف گاڑی جس کے سیلابی دلدل میں پھنسنے کے بعد دو فرلانگ پیدل چل کر بلاول بھٹو زرداری جب اپنے درجن بھر سیاسی ہدایتکار وں کے ساتھ سیلاب میں ڈوبی خلق خدا کو حوصلہ دینے کیلئے چنیوٹ کے ایک نواحی قصبے میں پہنچے تو اس پورے قافلے میں کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ کیمرے آن ہیں اور سب کچھ ریکارڈ ہور رہا ہے ۔ایک ہدایتکار بولا ! یہاں پانی کم گہرا ہے ،چیئرمین کو یہاں سے پانی میں اتارو ،جونہی بلاول پانی میں اترے تو دوسری آواز آئی ،ذرا سامنے سے شارٹ لیں ،بہت اچھا شارٹ آئے گا اور یوں سامنے سے عکسبندی ہونے لگی ۔منظر بدلتا ہے ۔ بلاول بھٹو کو دو سیلاب زدہ بوڑھی عورتوں کے پاس لے جایا جاتا ہے ۔ایک آواز گونجتی ہے ’’اماں جی ،بینظیر شہید دا پتر آیا جے ‘‘ ننگے سر ،خالی آنکھوں اور محرمیوں زدہ جھریوں سے بھرے چہرے والی اماں جی جونہی اٹھ کر بلاول بھٹو زرداری کو پیار کرنا شروع کرتی ہے تو ایک ہدایتکار بولا ’’اس طرف سے شوٹ کرو ،اس طرف سے اماں مکمل طورپر کیمرے میں آرہی ہے اور پھریوں چند ہی لمحوں میں اماں جی مکمل طور پر اپنے سب غموں سمیت فلم اور کیمرے کامستقل حصہ بن گئی ۔ یہ ہے ہمارا وہ کل کہ جسے ہمارے بچے بھگتیں گے۔ گذشتہ ایک ماہ سے خاکی یونیفارم اور لانگ شوز پہنے سیلابی دکھ درد میں دن رات ایک کردینے والے شہباز شریف کو دیکھ کر جب ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ 3حکومتیں کرنے اور 2سیلاب بھگتانے والے خادم اعلیٰ کا عملی طور پر کیا گیا کوئی ایک بھی ایسا اقدام کہ جس کے بعداگلے آنے والے سیلاب کی شدت اور تباہی میں 5فیصد ہی کمی ہوئی ہو ،جب کوئی جواب نہیں ملتا تو پتا چلتا ہے کہ یہ ہے ہماری اس گڈ گورننس کی حقیقت جس کے چرچے ترکی سے چین تک پہنچے ہوئے ہیں ! مجھ جیسے آئے روز چمکتے چہروں ،سنورے بالوں ،بناشکن کے کپڑوں اور لش لش کرتی گاڑیوں میں اپنے بااثرملزمان کو پیشیوں پر آتے جاتے وکٹری نشان بناتے تو دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔مگر دو ہفتے قبل جب ایک رات وفاقی دارالحکومت کے شکرپڑیاں چوک پر اڑھائی سو کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے شیر دل جوانوں کے ہاتھوں ’’دھرنا بازوں ‘‘ کی سرعام خاطر تواضع ہوتے اور رسیوں سے باندھ باندھ کر انہیں جانوروں کی طرح گاڑیوں میں پھینکنے کا نظارہ دیکھا تو اپنے اس قانون کاوہ اصل چہرہ بھی سامنے آگیا جو کل کی طرح آج بھی بااختیاروں کیلئے ڈھال اور ریلیف بنا ہوا ہے جبکہ بے اختیاروں کیلئے وہ کل کی طرح آج بھی گلو بٹ ہی ہے ! مختلف مقدمات میں نامزد امین فہیم کو جب وزیراعظم نواز شریف ،صوبائی حکومتوں کے چیفس ،وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بڑے ٹھاٹھ سے ملکی سلامتی کے ایک اجلاس میں بیٹھے دیکھا تو اپنی سیاست کا اصل چہرہ بھی دیکھنے کو مل گیا ،پھر کل تک 28گاڑیوں کے حصار میں محو سفر وزیر اعظم جمالی کو آج اپنی گاڑی خود چلاتے دیکھ کر اور کل تک اسلام آباد کی مارکیٹوں میں عام لوگوں کی طرح شاپنگ کرنے والے ممنون حسین کو آج جب پورا مری سیل کرکے سیر کروائی جاتی ہے تو اپنے اس آئین کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے ۔جو پل بھر میں ایک سطحی سے انسان کو وہاں پہنچا دیتا ہے کہ جہاں بعد میں وہ ایمبولینس کے سائرن پر بھی ہڑبڑا کر اٹھ جاتا ہے کہ میرا پروٹوکول آگیا ۔ مگر دوستو ! گو کہ اسی کل ،اسی آج ،اسی آئین ،اسی قانون ،اسی سیاست اور اسی گڈگورننس کے ہوتے ہوئے گذشتہ چند ہفتوں میں پچھلی 6دہائیوں سے عوام کو لڈو کی سانپوں والی گیم کھلاتے حکمرانوں کے اب رنگ میں بھنگ پڑچکی ۔ ڈی چوک سے شروع ہوئے ’’گو نواز گو‘‘کے نعرے براستہ سرگودھا نیویارک تک جا پہنچے ۔ ایک ریڑھی والا سکھر میں قائم علی شاہ کی 28گاڑیاں روک چکا ،رمیش اور رحمان جہاز سے اتارے جا چکے ،حمزہ کو لاہور میں اپنی تقریر ادھوری چھوڑنا پڑی ،لندن سازش والی فلم پہلے شو میں ہی پٹ گئی ۔بچپن سے منبر پر بیٹھے مسلسل عالم غیب میں جھانکتے کپتان کے ناراض قلم کارسمیت تمام دانشوروں کی دھرنوں کو عالمی سازشیں قرار دینے کی سب کہانیاں دم توڑ چکیں ۔کراچی ،لاہور،میانوالی اور ملتان اپنا فیصلہ سنا چکے۔دھرنے عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ، اپنے ہونے اور اپنے حقوق کا شعور گھر گھر تک پہنچ گیا اور تبدیلی محسوس ہونے لگی ۔ مگر چونکہ یہ پاکستان ہے وہ پاکستان کہ جہاں ہماری یاداشت نہ ہونے کی حد تک کمزور ہے ،جہاں پہلے بھی آزادی ،تبدیلی اور انقلاب ہائی جیک ہو چکے ۔جہاں پہلے بھی کئی عمران اپنے خوابوں سمیت ہماری بے حسی کی منوں مٹی تلے دفن ہیں ۔جہاں اپنے شہید اور مخالف غدار کہلاتے ہیں۔ جہاں بصیرت پرستی کی بجائے عقیدت پرستی چلتی ہے ۔جہاں قرآن فہمی کی بجائے فوکس قرآن خوانی پر ہوتا ہے ۔جہاں ایشوز ڈسکس ہونے کی بجائے ہر کہانی شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔جہاں ہر ڈکٹیٹر جمہوریت کیلئے اور ہر جمہوری حکمران ڈکٹیٹر شپ کیلئے کوشاں رہتا ہے ۔جہاں ہر وقت دین ودنیا میں شارٹ کٹ کی تلاش جاری رہتی ہے اور یہ وہ پاکستان ہے کہ جہاں اگر 4افراد باہمی اتفاق سے ایک سمت میں جارہے ہوں گے تو پانچواں ان کے کندھوں پر ہوگااور وہ پاکستان جہاں ہر کوئی آزادی ،تبدیلی اور انقلاب کا خواہاں تو ہے مگر اس خواہش کے ساتھ کہ یہ سب کچھ اس کے گھراور زندگی سے دور رہے اور قربانی کوئی اور دے۔لہذا اس پاکستان میں نظام کی تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں ۔سو منزل دور ہے اور راستہ کٹھن ۔مگر وقت کی عدالت لگ چکی ۔اصل اور اصلیت ظاہر ہو رہی ہے ،نقل اور نقلی پن چھپائے چھپ نہیں رہا ،بچائے بچ نہیں رہا اور انسان کیا ہمارا تو گذشتہ کل ہمارا آج اور بلکہ آنے والا کل بھی کسی مجذوب کی طرح چوراہوں پر ننگا ناچ رہا ہے ۔فیصلوں کی ان گھڑیوں میں اب یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ یا تو اپنے ڈرائنگ روموں ،دفتروں ، محفلوں اور کھانے کی میزوں پر بیٹھ کراپنی جمہوریت اور اپنے مخدوم جاوید ہاشمی کی قابل رشک صحت پر خوش ہوتے رہیں،بحثیں کرتے رہیں یا پھرخوف کے سارے بت توڑ کر اپنے ملک ،اپنی زمین اور اپنے بچوں کیلئے عملی طور پر کچھ کر لیں ۔ کیونکہ بقول احمد فراز:۔ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی شمع جلاتے جاتے

!جسٹس چوہدری

- Posted in Amaal Nama by with comments

چیف جسٹس ہاؤس سے نئے نئے کرائے کے گھر میں شفٹ ہونے والے جسٹس افتخار چوہدری سے ملکر نکلا تو گھڑی رات کا ایک بجا رہی تھی۔تین گھنٹے ایسے گزرے کہ پتا ہی نہ چلا ۔جسٹس چوہدری سے ان گنت ملاقاتیں اور ہر موضوع پر باتیں ہوچکیں ۔مگر آج کی نشست نہ صرف مکمل آف دی ریکارڈ نکلی بلکہ بہت ہی اداس کر دینے والی ثابت بھی ہوئی ۔شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ آج میرے ایک پسندیدہ افتخار چوہدری میری دوسری پسندیدہ شخصیت عمران خان کے بارے میں کھل کر بولے اور دلائل کے ساتھ بولے ۔میٹرو پروجیکٹ کے زخموں سے چور چور اسلام آباد کی سنسان سٹرک پر گاڑی چلاتے ہوئے مجھے بار بار ارشادِ باری تعالیٰ یاد آرہا تھا کہ ’’یہ دنیا دھوکے کا گھر ہے اور’’ ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں ‘‘۔پھر سوچ کا رخ اُس عمران خان کی طرف مڑا جو اپنی تمام تر بشری کمزوریوں کے باوجود مجھے اس لیئے پسند ہے کہ وہ بہادر ہے ،فائٹر ہے ۔ محب وطن ہے اور وہ اس ملک اور قوم کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہے ۔مگر آج افتخار چوہدری پر تنقید کرتے ہوئے نجانے عمران کیوں بھول رہا ہے کہ وہ تبدیلی جو آرہی ہے یا آچکی ہے اس کی بنیاد جسٹس چوہدری کی ایک ’’ناں ‘‘ نے رکھی تھی۔آج جس شعور کو عمران خان نے گھر گھر پہنچا دیا ہے اس کاآغاز جسٹس چوہدری کا وہ کارواں بنا کہ جس میں ’’ریاست ہوگی ماں جیسی ‘‘ ترانے گونجا کرتے تھے۔اور اگر افتخار چوہدری پر لگنے والے سارے الزامات کو سچ مان بھی لیا جائے ،تب بھی ان کے بہت سارے فیصلے اور ڈھیر سارا کام پھر بھی ایسا باقی بچ جا تاہے کہ جو نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ قابلِ تقلید بھی ،مگر ان باتوں سے ہمیں کیا واسطہ ،ہم ایسی باتوں پر بھلا کب توجہ دیتے ہیں ۔ہم نے گزشتہ 67برسوں میں کس کو تعظیم کے قابل چھوڑا۔کون ہے کہ جس کی پگڑی نہیں اچھالی اور کس کو اس طرح رہنے دیا کہ وہ سر اٹھا کر چل سکے ۔ہم مزاجاً سورج مکھی ہوچکے ،ہمارے دل حسین ؑ کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہماری تلواریں یزید کی حمایت میں نکلتی ہیں ۔ہمارے ہاں عزت کروانے کیلئے مرنا ضروری ہے ۔جیتے جی جن کو ہم نے ہمیشہ ٹھوکروں کی زدمیں رکھا ،مرنے کے بعد انہی کی قبریں مزار بنادیں ۔زندگی میں جن کو کبھی ہم منہ لگانا پسند نہیں کرتے ،مرنے کے بعد ان کی طرف پیٹھ کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ایک ہندو سکالر (نام ذہن میں نہیں آرہا )نے کیا خوب کہا کہ ’’اب ہندؤں اور مسلمانوں میں بس اتنا سافرق رہ گیا ہے کہ ہندو کھڑے اور بیٹھے بھگوانوں کو پوجتے ہیں جبکہ مسلمان لیٹے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہیں‘‘ ۔ جسٹس افتخار سے میری ملاقاتوں کا نوے فیصد آف دی ریکارڈ ہے ۔وہ ابھی ان باتوں کو عیاں نہیں کرنا چاہتے ۔اُنہوں نے کتاب لکھنا شروع کر دی ہے ۔وہ تھنک ٹینک بنانے اور اپنی لیگل فرم قائم کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔وہ برملا کہتے ہیں کہ عدلیہ کو پبلک انٹرسٹ میں مزید ایکٹو ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے فیصلوں پر آج بھی خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں ۔ اُنہیں اپنے ناقدین سے کوئی گلہ نہیں ، وہ اپنے بیٹے ارسلان کو بے گناہ سمجھتے ہیں ۔مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں ،وکلاء اور سول سوسائٹی کے ساتھ پر آج بھی وہ ان سب کے شکر گزار ہیں ۔انہیں مکمل یقین ہے کہ اسلام آباد کی ایف ایٹ کچری میں ہونے والا خود کش دھماکہ انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے کیا گیا تھا ۔جس میں وہ نماز مغرب گھر میں پڑھنے کی وجہ سے بچ گئے ۔وہ نظر بندی کے دوران اپنے بیمار چھوٹے بیٹے کو دوائیاں نہ پہنچا سکنے کا سوچ کر آج بھی غمزدہ ہو جاتے ہیں اور وہ آج بھی مشکل لمحوں میں اپنی اہلیہ کے حوصلے کی داد دیتے نہیں تھکتے ۔ مجھے یاد ہے کہ ہفتہ بھر پہلے ایک شام جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے تقریباً چھپ چکا ہے میں نے موڈ اچھا دیکھ کر جسٹس چوہدری کو ان کی صدر مشرف سے اُس آخری مشہور ومعروف ملاقات کے حوالے سے کریدا ’’سپریم کورٹ سے آرمی ہاؤس جاتے ہوئے آپ کو معلوم تھا کہ آج کی میٹنگ میں کچھ خاص ہونے والا ہے یا کچھ مختلف ہو سکتا ہے ،نہیں بالکل نہیں ۔خلاف توقع اس موضوع پر جس جسٹس چوہدری نے بولنا شروع کر دیا۔مجھے بالکل علم نہیں تھا میں بحیثیت ِ چیف جسٹس چند سرکاری معاملات کیلئے صدر مملکت کے پاس جار ہا تھا ۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے یا کیا ہونے والا ہے پھر آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آج کچھ گڑ بڑ ہے ۔میں نے دوسرا سوال کیا ۔میں جب بھی صدر مشرف سے ملنے جاتا میری ٹائمنگ ایسی ہوتی تھی کہ جو نہی میں وہاں پہنچتا ،مجھے صدر صاحب کا سٹاف ریسو کرتا اور پھر سیدھا ان کے دفتر لے جایا جاتا جہاں وہ پہلے سے ہی میرا انتظار کر رہے ہوتے ۔مگر اس روز مجھے پہلی حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے ریسو کر کے مہمان خانہ میں لے جا کر کہا گیا آپ تشریف رکھیں۔صدر صاحب ابھی مصروف ہیں ۔فارغ ہو کر ملیں گے ۔ اور پھر تقریباً 10منٹ بعد میں دوسری مرتبہ اس وقت حیران رہ گیا جب صدر مشرف پاؤں کی ٹھوکر سے مہمان خانہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے ۔سنا ہے کہ وہاں پر موجود جنر ل کیانی کے اشارے کے بعد آپ نے مستعفی ہونے سے انکار کیا اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میجر جنرل ندیم اعجاز نے آپ سے بدتمیزی یا بدکلامی بھی کی تھی ۔میرے اس سوال پر ایک کڑکدار قہقہہ مار کر افتخار چوہدری بولے ،جنرل کیانی پوری میٹنگ میں خاموش رہے ،اُنہوں نے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا ۔اور نہ ہی ندیم اعجاز نے مجھ سے کوئی بدتمیزی یا بدکلامی کی ۔بلکہ یہ ندیم اعجاز ہی تھے جو مجھے الوادع کہنے کارپورچ تک آئے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ’’ سوری سر مجھے علم ہے کہ یہ کوئی اچھا وقت نہیں ہے ‘‘۔جسٹس چوہدری اور صدر مشرف کی میٹنگ میں کیا کچھ ہوا ،صدر مشرف نے کیا کہا ۔میٹنگ کے بعد کئی گھنٹوں سے اکیلے مہمان خانے میں بیٹھے افتخار چوہدری جب بھی وہاں سے جا نے کی کوشش کرتے تو کیا ہو تا تھا، ا ن کی گا ڑ ی کا جھنڈا کب ا تارا گیا ، ا ن کے سٹا ف آفیسر سے موبائل کس نے لے لیا ۔ ا ن کے ڈ ر ا ئیو ر کی آنکھو ں میں آ نسو کیو ں آ ئے اُ نہیں کس طر ح ز بر د ستی سپریم کو ر ٹ کی بجا ئے گھر بھجو ا د یا گیا ا ور پھر اس کے بعد کیا کیا ہو تا ر ہا ۔ یہ کہا نی جلد ہی آنے وا لی ہے ۔ مگر آج میں گھر و ا پس آتے ہو ئے سو چ ر ہا تھا کہ کل تک وہی ا فتخا ر چو ہد ر ی جن پر ا یک خلقت و ا ر ی و ا ر ی جا ر ہی تھی، د نیا کو جن کی ا یک ’’نا ں‘‘ سے جمہو ر یت کے چشمے پھو ٹتے نظر آ تے تھے ، و ہی ا فتخا ر چو ہد ر ی کہ جن کیلئے ایک جہان نعر ہ زن تھا کہ ’’ چیف تیر ے جا نثا ر۔ بے شما ربے شما ر ‘‘ جن کی آ وا ز غر یب ا ور محر و م طبقے کی طا قت بن چکی تھی، جن کے فیصلے بو لا کر تے تھے ، جن کے سو مو ٹوعو ا می ا منگو ں کا ر و پ دھا رچکے تھے ، ا و ر جو اُ س طبقے کے لیے خو ف کی علا مت بنے کہ جو ہر قا نو ن سے با لا ترتھا ۔ آج اُسی ا فتخا ر چوہدر ی پر امین فہیم ا و ر چوہدری شجا عت جیسے بھی تنقید کر ر ہے ہیں۔ وقت و قت کی با ت ہے ۔ میر ے ذہن میں ا ر شا دِ با ر ی تعا لیٰ پھر سے گو نج ا ٹھا ’’ یہ دنیا دھوکے کا گھر ہے ‘‘اور’’ ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘ ۔

!جسٹس چوہدری

- Posted in Amaal Nama by with comments

چیف جسٹس ہاؤس سے نئے نئے کرائے کے گھر میں شفٹ ہونے والے جسٹس افتخار چوہدری سے ملکر نکلا تو گھڑی رات کا ایک بجا رہی تھی۔تین گھنٹے ایسے گزرے کہ پتا ہی نہ چلا ۔جسٹس چوہدری سے ان گنت ملاقاتیں اور ہر موضوع پر باتیں ہوچکیں ۔مگر آج کی نشست نہ صرف مکمل آف دی ریکارڈ نکلی بلکہ بہت ہی اداس کر دینے والی ثابت بھی ہوئی ۔شائد اس کی وجہ یہ تھی کہ آج میرے ایک پسندیدہ افتخار چوہدری میری دوسری پسندیدہ شخصیت عمران خان کے بارے میں کھل کر بولے اور دلائل کے ساتھ بولے ۔میٹرو پروجیکٹ کے زخموں سے چور چور اسلام آباد کی سنسان سٹرک پر گاڑی چلاتے ہوئے مجھے بار بار ارشادِ باری تعالیٰ یاد آرہا تھا کہ ’’یہ دنیا دھوکے کا گھر ہے اور’’ ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں ‘‘۔پھر سوچ کا رخ اُس عمران خان کی طرف مڑا جو اپنی تمام تر بشری کمزوریوں کے باوجود مجھے اس لیئے پسند ہے کہ وہ بہادر ہے ،فائٹر ہے ۔ محب وطن ہے اور وہ اس ملک اور قوم کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہے ۔مگر آج افتخار چوہدری پر تنقید کرتے ہوئے نجانے عمران کیوں بھول رہا ہے کہ وہ تبدیلی جو آرہی ہے یا آچکی ہے اس کی بنیاد جسٹس چوہدری کی ایک ’’ناں ‘‘ نے رکھی تھی۔آج جس شعور کو عمران خان نے گھر گھر پہنچا دیا ہے اس کاآغاز جسٹس چوہدری کا وہ کارواں بنا کہ جس میں ’’ریاست ہوگی ماں جیسی ‘‘ ترانے گونجا کرتے تھے۔اور اگر افتخار چوہدری پر لگنے والے سارے الزامات کو سچ مان بھی لیا جائے ،تب بھی ان کے بہت سارے فیصلے اور ڈھیر سارا کام پھر بھی ایسا باقی بچ جا تاہے کہ جو نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ قابلِ تقلید بھی ،مگر ان باتوں سے ہمیں کیا واسطہ ،ہم ایسی باتوں پر بھلا کب توجہ دیتے ہیں ۔ہم نے گزشتہ 67برسوں میں کس کو تعظیم کے قابل چھوڑا۔کون ہے کہ جس کی پگڑی نہیں اچھالی اور کس کو اس طرح رہنے دیا کہ وہ سر اٹھا کر چل سکے ۔ہم مزاجاً سورج مکھی ہوچکے ،ہمارے دل حسین ؑ کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہماری تلواریں یزید کی حمایت میں نکلتی ہیں ۔ہمارے ہاں عزت کروانے کیلئے مرنا ضروری ہے ۔جیتے جی جن کو ہم نے ہمیشہ ٹھوکروں کی زدمیں رکھا ،مرنے کے بعد انہی کی قبریں مزار بنادیں ۔زندگی میں جن کو کبھی ہم منہ لگانا پسند نہیں کرتے ،مرنے کے بعد ان کی طرف پیٹھ کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ایک ہندو سکالر (نام ذہن میں نہیں آرہا )نے کیا خوب کہا کہ ’’اب ہندؤں اور مسلمانوں میں بس اتنا سافرق رہ گیا ہے کہ ہندو کھڑے اور بیٹھے بھگوانوں کو پوجتے ہیں جبکہ مسلمان لیٹے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہیں‘‘ ۔ جسٹس افتخار سے میری ملاقاتوں کا نوے فیصد آف دی ریکارڈ ہے ۔وہ ابھی ان باتوں کو عیاں نہیں کرنا چاہتے ۔اُنہوں نے کتاب لکھنا شروع کر دی ہے ۔وہ تھنک ٹینک بنانے اور اپنی لیگل فرم قائم کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔وہ برملا کہتے ہیں کہ عدلیہ کو پبلک انٹرسٹ میں مزید ایکٹو ہونے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے فیصلوں پر آج بھی خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں ۔ اُنہیں اپنے ناقدین سے کوئی گلہ نہیں ، وہ اپنے بیٹے ارسلان کو بے گناہ سمجھتے ہیں ۔مشکل وقت میں اپنے ساتھیوں ،وکلاء اور سول سوسائٹی کے ساتھ پر آج بھی وہ ان سب کے شکر گزار ہیں ۔انہیں مکمل یقین ہے کہ اسلام آباد کی ایف ایٹ کچری میں ہونے والا خود کش دھماکہ انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے کیا گیا تھا ۔جس میں وہ نماز مغرب گھر میں پڑھنے کی وجہ سے بچ گئے ۔وہ نظر بندی کے دوران اپنے بیمار چھوٹے بیٹے کو دوائیاں نہ پہنچا سکنے کا سوچ کر آج بھی غمزدہ ہو جاتے ہیں اور وہ آج بھی مشکل لمحوں میں اپنی اہلیہ کے حوصلے کی داد دیتے نہیں تھکتے ۔ مجھے یاد ہے کہ ہفتہ بھر پہلے ایک شام جب سورج مارگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے تقریباً چھپ چکا ہے میں نے موڈ اچھا دیکھ کر جسٹس چوہدری کو ان کی صدر مشرف سے اُس آخری مشہور ومعروف ملاقات کے حوالے سے کریدا ’’سپریم کورٹ سے آرمی ہاؤس جاتے ہوئے آپ کو معلوم تھا کہ آج کی میٹنگ میں کچھ خاص ہونے والا ہے یا کچھ مختلف ہو سکتا ہے ،نہیں بالکل نہیں ۔خلاف توقع اس موضوع پر جس جسٹس چوہدری نے بولنا شروع کر دیا۔مجھے بالکل علم نہیں تھا میں بحیثیت ِ چیف جسٹس چند سرکاری معاملات کیلئے صدر مملکت کے پاس جار ہا تھا ۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے یا کیا ہونے والا ہے پھر آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آج کچھ گڑ بڑ ہے ۔میں نے دوسرا سوال کیا ۔میں جب بھی صدر مشرف سے ملنے جاتا میری ٹائمنگ ایسی ہوتی تھی کہ جو نہی میں وہاں پہنچتا ،مجھے صدر صاحب کا سٹاف ریسو کرتا اور پھر سیدھا ان کے دفتر لے جایا جاتا جہاں وہ پہلے سے ہی میرا انتظار کر رہے ہوتے ۔مگر اس روز مجھے پہلی حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے ریسو کر کے مہمان خانہ میں لے جا کر کہا گیا آپ تشریف رکھیں۔صدر صاحب ابھی مصروف ہیں ۔فارغ ہو کر ملیں گے ۔ اور پھر تقریباً 10منٹ بعد میں دوسری مرتبہ اس وقت حیران رہ گیا جب صدر مشرف پاؤں کی ٹھوکر سے مہمان خانہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے ۔سنا ہے کہ وہاں پر موجود جنر ل کیانی کے اشارے کے بعد آپ نے مستعفی ہونے سے انکار کیا اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میجر جنرل ندیم اعجاز نے آپ سے بدتمیزی یا بدکلامی بھی کی تھی ۔میرے اس سوال پر ایک کڑکدار قہقہہ مار کر افتخار چوہدری بولے ،جنرل کیانی پوری میٹنگ میں خاموش رہے ،اُنہوں نے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا ۔اور نہ ہی ندیم اعجاز نے مجھ سے کوئی بدتمیزی یا بدکلامی کی ۔بلکہ یہ ندیم اعجاز ہی تھے جو مجھے الوادع کہنے کارپورچ تک آئے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ’’ سوری سر مجھے علم ہے کہ یہ کوئی اچھا وقت نہیں ہے ‘‘۔جسٹس چوہدری اور صدر مشرف کی میٹنگ میں کیا کچھ ہوا ،صدر مشرف نے کیا کہا ۔میٹنگ کے بعد کئی گھنٹوں سے اکیلے مہمان خانے میں بیٹھے افتخار چوہدری جب بھی وہاں سے جا نے کی کوشش کرتے تو کیا ہو تا تھا، ا ن کی گا ڑ ی کا جھنڈا کب ا تارا گیا ، ا ن کے سٹا ف آفیسر سے موبائل کس نے لے لیا ۔ ا ن کے ڈ ر ا ئیو ر کی آنکھو ں میں آ نسو کیو ں آ ئے اُ نہیں کس طر ح ز بر د ستی سپریم کو ر ٹ کی بجا ئے گھر بھجو ا د یا گیا ا ور پھر اس کے بعد کیا کیا ہو تا ر ہا ۔ یہ کہا نی جلد ہی آنے وا لی ہے ۔ مگر آج میں گھر و ا پس آتے ہو ئے سو چ ر ہا تھا کہ کل تک وہی ا فتخا ر چو ہد ر ی جن پر ا یک خلقت و ا ر ی و ا ر ی جا ر ہی تھی، د نیا کو جن کی ا یک ’’نا ں‘‘ سے جمہو ر یت کے چشمے پھو ٹتے نظر آ تے تھے ، و ہی ا فتخا ر چو ہد ر ی کہ جن کیلئے ایک جہان نعر ہ زن تھا کہ ’’ چیف تیر ے جا نثا ر۔ بے شما ربے شما ر ‘‘ جن کی آ وا ز غر یب ا ور محر و م طبقے کی طا قت بن چکی تھی، جن کے فیصلے بو لا کر تے تھے ، جن کے سو مو ٹوعو ا می ا منگو ں کا ر و پ دھا رچکے تھے ، ا و ر جو اُ س طبقے کے لیے خو ف کی علا مت بنے کہ جو ہر قا نو ن سے با لا ترتھا ۔ آج اُسی ا فتخا ر چوہدر ی پر امین فہیم ا و ر چوہدری شجا عت جیسے بھی تنقید کر ر ہے ہیں۔ وقت و قت کی با ت ہے ۔ میر ے ذہن میں ا ر شا دِ با ر ی تعا لیٰ پھر سے گو نج ا ٹھا ’’ یہ دنیا دھوکے کا گھر ہے ‘‘اور’’ ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘ ۔