Yellow Pages of Pakistan

Non Stop Infotainment By Cyber City Online!

Blog Home | About us | Yellow Pages of Pakistan | CCOL Host | CCOL Net | hussn e-Mag | Realestate Marketing | MBBS in China | Feedback us

ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ قذافی ،حسنی مبارک، بن علی اورصدام حسین کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر تھا ۔ یہ سب ’’گریٹ لیڈرز‘‘ تھے ۔ ان سے ملنا ،بات کرنا کسی اعزاز سے کم نہ تھا ۔جن سے یہ سیدھے منہ بات کر لیتے ،ان کے چال چلن ہی بدل جایا کرتے ۔ ہمارے ایک وزیراعظم قذافی سے ملنے لیبیا گئے ۔اڑھائی دن انتظار کے بعد 10منٹ کی ملاقات ہوپائی اور پھر 10منٹ کی اس ملاقات کے 10دن تک چرچے ہوتے رہے۔ہیلری کلنٹن وزیرخارجہ بنیں تو اس نے قذافی سے ملنا چاہا ۔ کرنل صاحب ان دنوں صحرا میں خیمہ لگائے فطر ت کی خوبصورتیوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ ہفتہ بھر کی خط وکتابت اور ٹیلی فونک رابطوں کے بعد کرنل قذافی نے اپنے چھوٹے بیٹے متصم قذافی کو اس پیغام کے ساتھ امریکہ بھجوادیا کہ اسے مل لیں یہ بھی مجھ جتنا ہی بااختیار قذافی ہے ۔اسی بااختیار متصم قذافی کو جب ہم وطنوں نے تشدد کے بعد گولی مار کر ہلاک کیا تو اس وقت ایک بنیان اور شلوار کے علاوہ اس کے جسم پر کچھ نہ تھا ۔مگر کیا وقت تھا ۔کیا شان تھی ۔ قذافی کے ولی عہد بیٹے سیف الاسلام قذافی نے 2010ء کی اپنی سالگرہ خوابوں کے جزیرے ’’مانٹیگرو‘‘ میں منائی ۔ یہ وہ جزیرہ ہے کہ جہاں صرف ارب پتی جایا کرتے ہیں اور جہاں 12مہینے بادل زمین پر بچھے رہتے ہیں ۔سیف الاسلام کیلئے پورا جزیرہ بک تھا ۔دنیا بھر سے اس کے خرچے پر دوہزار مہمان وہاں پہنچے ۔صف اول کے فنکار،ہیرے ا ورسونے کے تاجر ،ولی عہد اور شہزادے ،کون تھا جو سیف الاسلام کو ’’ہیپی برتھ ڈے ‘‘کہنے نہیں آیا ۔یہ وہی سیف الاسلام تھا جسے ٹونی بلیئر ’’مائی فرینڈ ‘‘ کہہ کر پکارتا تھا ۔جو ملکہ برطانیہ کا مہمان بن کر کئی مرتبہ شاہی محل میں رہا ۔ جو دنیا بھر سے کوئی چیز خریدتے ہوئے کبھی قیمت نہیں پوچھتا تھا ۔ جس کیلئے خاص طور پر پرفیوم بنائے جاتے اور جو کہیں بھی ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اختیار رکھتا تھا ۔آج وہی سیف الاسلام طرابلس کے 12فٹ چوڑے اور 16فٹ لمبے کمرے میں قید ہے اور ایک بیڈ اور دو جوڑے کپڑوں کے علاوہ اس کے پا س کچھ نہیں ۔بادشاہوں کا بادشاہ کہلانے والا کرنل قذافی اپنے جن لوگوں کو غلیظ کیڑے اور کاکروچ کہتا رہا۔اُنہی کاکروچوں اور غلیظ کیڑوں نے نہ صرف اس کی ننگی لاش سٹرکوں پر گھسیٹی بلکہ اسے صحرا میں کسی نامعلوم مقام پر اس وقت دفنا یا جب اس کا مردہ جسم پھول کر پھٹنے والا ہوچکا تھا اور بدبو برداشت سے باہر تھی۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ ایکدن حسنی مبارک کے بڑے بیٹے جمال مبارک کو نجانے کیا سوجھی ۔دوست کی سالگرہ تھی ۔ ایک خاص ذائقے والے کیک کا آرڈر ایک سوئس سیون سٹار ہوٹل کو دیا ۔ تما م دوستوں کو ایک جہاز میں بٹھایا اور اُدھر کیک تیار ہوا اور اِدھر یہ سب بھی سوئٹز ر لینڈ پہنچ گئے۔ سبزے سے ڈھکے پہاڑ ،پہاڑوں میں درختوں اور آبشاروں سے بھری وادی،وادی میں موجود سیون سٹار ہوٹل اورسیون سٹار ہوٹل کا مالک عملے سمیت اپنے ان مہمانوں کے استقبال کیلئے خود موجود ۔ سب کچھ تیار تھا ،کیک کٹا،کافی اور سوپ پیا گیا اور 3گھنٹوں کے بعد یہ قافلہ واپس قاہرہ روانہ ہوگیا ۔آج اُسی جمال مبارک کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہیں اور وہ کہیں اور نہیں قاہرہ میں ہی اپنے بھائی کے ساتھ ایک قید خانے میں بند ہے۔ 30سال تک مصر کے سیاہ وسفید کا مالک حسنی مبارک جس کیلئے کپڑے تیا ر کرنے والی اٹالین فیکٹری کو اجازت نہیں تھی کہ وہ کچھ اور بنا سکے ۔ جس کے پاس دنیا بھر کے رہنما اپنے مسائل کے حل کیلئے آیا کرتے تھے ۔ آج وہی حسنی مبارک کینسر کے مرض میں مبتلا ہسپتال میں ہے ۔ ہسپتال کے کمرے کو جیل قرار دیا جا چکا ہے اور پوری دنیا اسے لوہے کے پنجرے میں عدالتی پیشیاں بھگتتے دیکھ چکی ہے اور دیکھ رہی ہے ۔تیونس کا راجہ بن علی جو کبھی اتنا بااختیار تھا کہ اُس نے ایک بار اپنے نائی کو نائب وزیر بنا دیا ۔لیکن جب ایک سبزی فروش کی خود سوزی پر لوگ گھروں سے نکلے تو اسی بن علی کو سعودی عرب کے علاوہ کہیں اور جائے پناہ نہ ملی ، سونے کے برتنوں میں کھانے کے شوقین نئی گاڑیوں اور جدید اسلحے کے شیدائی اور اقتدار کی خاطر داماد تک کو مار دینے والے چراوہے کے بیٹے اور سوتیلے باپ کے ظلم وستم سے تنگ آکر بغداد آنے والے صدام حسین کے چوہے کے بل جیسی چند فٹ کی سرنگ سے پھانسی گھاٹ تک کے مناظر ۔ کہاں گئے یہ سب بادشاہ،کہاں گئیں ان کی بادشاہتیں،کیا ہوا ان کی دانائیوں اور حکمتوں کو اور کیسے مٹی میں مل گئے یہ سب ناز نخرے ۔کل جو سب کچھ تھے ۔ آج وہ دھونڈ نے سے بھی نہیں مل رہے ۔ فرمان الہی ہے کہ ’’سب نے فنا ہو جانا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی ذات باقی رہے گی ‘‘۔ حضرت علیؓ سے کسی نے کہا بہت پریشان ہوں ۔فرمایا کیوں ؟ وہ کہنے لگا سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس دنیا کیلئے کتنا کچھ کروں اور آخرت کیلئے کتنا کچھ کروں ۔فرمایا ’’اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ۔جتنا یہاں (دنیا میں) رہنا ہے اِتنا اس کیلئے کرو اور جتنا وہاں رہنا ہے اتنا اُس کیلئے کرو‘‘۔۔آج دل تو چاہ رہا ہے کہ اپنے قذافیوں،حسنی مبارکوں ،صداموں ان کے سب چہتوں کو بتاؤں کہ مٹھی خواہ ٹارزن کی بھی ہو ،وقت کو پھسلنے سے روک نہیں سکتی ،طاقت فرعون کی بھی ہواور دولت قارون سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو ،جب سورج ڈھلنے کا وقت آتا ہے تو اندھیرے خواہ رات کے ہوں یا قبرکے ، آکے ہی رہتے ہیں ۔آج دل تو چاہ رہا ہے کہ اپنے لوکل قذافیوں ،حسنی مبارکوں اور صداموں ،ان کے جما ل مبا رکوں اور سیف الاسلاموں سے کہوں کہ تم سے زیادہ طاقتور اور عقل والے ہو کر بھی جب وہ کچھ بچا نہ پائے تو دراز رسی کے کھیچنے پر تم کیا کرو گے ،ان کی دولتیں اور جاہ وجلال جب ان کے کسی کام نہ آئیں تو سوئس بینکوں میں پڑے ڈالرز اور دنیا بھر میں پھیلے تمہارے عیش کدے کیا تمہیں بچا لیں گے ۔اور ’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتا ‘‘ رسول خدا ؐ کا وہی عمر فاروق ؓ جب فرات کے کنارے بھوک سے مرنیواے کتے کی جوابدہی سے خوفزدہ ہے تو تم اپنی 67سالہ عوامی قتل وغارت اور لوٹ کھسوٹ کا کیا جواب دو گے ۔کاش ایوب ،ضیاء ،بھٹو یا بے نظیر، کوئی ایک ہی چند لمحوں کیلئے آکر ان کو بتا جائے کہ آگے کیا ہوا، ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے لیکن چونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تاریخ سے کسی نے سبق نہیں سیکھا ۔ اس لیئے مجھے تو یہی لگتا ہے کہ جب تک یہ گردنیں موجود ہیں ان گردنوں سے سرئیے نہیں نکلیں گے ۔ آخرمیں جاتے محرم اور آتے دسمبر کے ان لمحوں میں کربلا سے سقوطِ ڈھاکہ کی بڑھتے ہوئے عدیم ہاشمی مرحوم کا یہ شعر آپ کی نذر :۔

ہم ایک لاکھ تھے ، ہم نے تو سر جھکا دیئے حسین ؑ تیرے بہتر سروں پر لاکھ سلام

’’سب مایا ہے ‘‘

- Posted in Amaal Nama by with comments

قرآن پاک میں ہے کہ ’’جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے ‘‘۔ رسول ؐ خدا کا فرمان ہے کہ ’’مومن بزدل ہو سکتا ہے ،خائن ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا ‘‘۔امام غزالی کہتے ہیں کہ ’’سب انسان مردہ ہیں زندہ وہ ہیں جو علم والے ہیں۔سب علم والے سوئے ہوئے ہیں بیدار وہ ہیں جو عمل والے ہیں۔ تمام عمل والے گھاٹے میں ہیں نفع والے وہ ہیں جو اخلاص والے ہیں اور سب اخلاص والے خطرے میں ہیں،صرف وہ کامیاب ہیں جو تکبر سے پاک ہیں ‘‘۔دو ماہ پہلے پروفیسر احمد رفیق نے کہا کہ اگر ڈاکٹر قادری کی سب باتیں سچ مان لی جائیں تو پھر نعوذ بااللہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ امام مہدی ہیں ۔جھنگ کے ایک لوئر مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھنے اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی سے متاثر ہو کر ان کی کتاب ’’منہاج القرآن‘‘ کے نام پر اپنی جماعت بنانے والے ڈاکٹر قادری کے قول وفعل کے انہی تضادات پر شریف خاندان سے انہیں متعارف کروانے اور عبدالشکور سے طاہر القادری بنانے والے عراق بدر ان کے روحانی پیشوا علاؤالدین (ایوب ،بھٹو اور ضیاء بھی جن کے متعقدین میں شمار ہوتے تھے) نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’طاہر القادری ہر کام میں جلد بازی کر جاتے ہیں اور طاہر القادری کا سب سے بڑا حریف طاہر القادری ہی ہے ‘‘۔ یورپین فتوے،گرجا گھروں کی تعمیر یا ویٹی کن سے رابطے ،اُنہوں نے ہر وہ کام کیا جس سے ان کی ذات کو فائدہ ہو ایاہو سکتا تھا۔ یہ ڈاکٹر طاہر القادری ہی تھے کہ جنہوں نے توہین رسالت قانون کے حوالے سے کہا کہ ’’اس قانون کا اطلاق ہر شخص پر ہوتا ہے اور ضیاء الحق دور میں میری جدوجہد اور ایک موقع پر میرے 18گھنٹوں کے دلائل اس قانون کے بننے کی بنیاد بنے ‘‘پھر یہی ڈاکٹر صاحب تھے کہ جنہوں نے کینڈا پہنچ کر مغرب کو کچھ اس طرح خوش کیا ’’توہین رسالت کا قانون غیر مسلموں پر لاگو نہیں ہوتا اور اس کی تیاری میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے ‘‘۔ دو ماہ بعد ڈینش ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ دو قدم اور آگے بڑھ گئے ’’توہین رسالت کے قانون پر مجھے تحفظات ہیں‘‘۔ ایک بار فرمایا ’’رسول ؐ پاک میرے خواب میں آئے اور اُنہوں نے مجھے کہا کہ طاہر میں پاکستان میں تمہارا مہمان بننا چاہتا ہوں ،لہذا میرے تمام انتظامات تم کرو۔شدید ردِعمل ظاہر ہوا تو 6ہفتوں میں ہی مکر گئے ۔لندن میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں نے عالم روحیہ (نیند ،خواب میں) میں امام ابو حنیفہ سے 15سے20سال تک تعلیم حاصل کی ۔چند ماہ بعد حیدر آباد میں تقریرکرتے ہوئے یہ مدت 9سال کر دی ۔اور پھر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے ’’میں گذشتہ 35برسوں سے فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھ رہا ہوں ( اگر یہ مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ساری رات سونے کی بجائے عبادت کرتے رہتے تھے۔اب اگر وہ سو تے نہیں تھے تو پھر خواب میں امام ابو حنیفہ سے تعلیم کہاں اور کیسے حاصل کرلی ۔اور اگر سوتے تھے تو پھر فجر کی نماز عشاء کے وضو سے کیسے پڑھی کیونکہ سونے سے تو وضو ہی نہیں رہتا ) پھر دھرنے کی تقریروں میں آپ کا یہ کہنا کہ ’’یہ پارلیمنٹ جعلی ہے اور یہ نظام باطل ہے (لیکن پھر خود ہی اس انتخابی نظام کا حصہ بننے کا اعلان فرمادیا ) پھر فرمایا کہ ’’وزیراعظم سمیت سب کو جیلوں میں بھجوا کر واپس جائیں گے (مگر ایک ماہ بعد ہی اپنے مقدموں پر ڈیل کر کے چلتے بنے) ۔ہم کفن پہنیں گے یا یہ نظام اور’’ دھرنے والو اگر مقاصد کے حصول سے پہلے میں بھی واپس چلا جاؤں تو مجھے بھی شہید کر دینا‘‘۔یہ توصرف چند مثالیں ہیں آپ نے تو جوش خطابت اورذاتی شہرت کے لیئے اتنے یو ٹرن لیئے کہ خدا کی پناہ ۔ڈیڑھ ماہ پہلے میں نے ٹیلی فون پر حال احوال پوچھنے کے بعد کہا کہ ڈاکٹر صاحب امام خمینی بننے کا شوق ابھی بھی ہے یا اب کچھ اور بننے کا ارادہ ہے ۔قسطوں میں ہنسنے کے بعد کہنے لگے کہ’’ تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں‘‘ ۔یہ تب کی بات ہے کہ جب نواز شریف پہلی بار وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تھے ۔’’ایک دن میں منہاج القرآن کے اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ بتا یا گیا کہ نواز شریف ملنے آرہے ہیں ۔تقریباً آدھے گھنٹے بعداکیلے نواز شریف سیدھے میرے کمرے میں آئے ، دروازہ بند کر کے اندر سے کنڈی لگائی اور پھر میرے سامنے کھڑے ہو کر انتہائی سنجیدگی سے بولے ’’ڈاکٹر صاحب سچ سچ بتائیں کہ کہیں آپ اما م مہدی تو نہیں ہیں ‘‘۔نہیں بالکل نہیں۔میں شدیدحیرانی میں بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔تو پھر آپ کون ہیں ۔انتہائی سنجیدہ نواز شریف نے اگلا سوال کیا ۔میاں صاحب چھوڑیں آپ کن چکروں میں پڑ گئے ۔میں آگے بڑھ کر میاں صاحب کو گلے ملا اور اِنہیں بازو سے پکڑ کر کرسی پر بٹھادیا۔ڈاکٹر صاحب اب تو بتا دیں کہ آپ کون ہیں،جونہی ڈاکٹر قادری نے بات مکمل کی تو میں نے پوچھا ۔ میں اللہ کا بندہ اور عاشقِ رسول ؐ ہوں ۔طاہر القادری نے جھٹ سے جواب دیا۔ڈاکٹر صاحب سنا ہے کہ آپ دھرنا ختم کر کے جارہے ہیں ۔میں اپنے اصل موضوع کی طرف آیا ۔آ پکو کیا لگتا ہے کہ میں چلا جاؤں گا۔جواب دینے کی بجائے ڈاکٹر قادری نے الٹا سوال کر دیا ۔ عمران خان کو یہ پیغام پہنچانا کہ اب مزید میں دن بھر آپ کے دھرنے کی چوکیداری نہیں کر سکتا ، حکومت سے ون ٹو ون بات چیت شروع کر دینی اور پھر آپ کا بدلا بدلا لہجہ،یہ سب دیکھ کر تو یہی لگتا ہے ہے کہ آپ جا رہے ہیں ۔میں نے تفصیل سے سب کچھ بتایا ۔ہم بالکل بھی نہیں جارہے ۔انقلابی مقاصد کے حصول تک دھرنا جاری رہے گا اور ان افواہوں پر کان نہ دھریں یہ شکست خوردہ حکومت کی شرارتیں ہیں ۔ڈاکٹر قادری نے انتہائی اعتماد بھرے لہجے میں اپنی بات مکمل کی۔لیکن اس گفتگو کے ٹھیک 25دن بعد جب وہ اچانک دھرنا ختم کر کے چلے گئے تو مجھے بالکل بھی حیرانی نہیں ہوئی ۔ہاں البتہ چند دن قبل کینیڈا کے خوشگوار موسم اور پرسکون ماحول میں کمال اطمینان سے برگر کھاتے طاہر القادری کو دیکھا تو مجھے 10سالہ شازیہ ضرور یاد آئی جس کی ماں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس گردی کا شکار ہوئی اور جو سب سے ایک سوال ہی پوچھتی ہے کہ میری ماں کا کیا قصور تھا ۔وہ بوڑھی اماں بار بار نظروں میں ضرور پھرنے لگی جو اپنے بیٹے کے قاتلوں کو پکڑوانے کیلئے دھرنے میں پہنچ گئی تھی ۔ مظفر گڑھ کاوہ خاندان ذہن میں ضرور آگیا جن کی خواتین وڈیروں کے ہاتھوں عزتیں لٹوانے کے بعد ڈاکٹر صاحب کو مسیحا سمجھ بیٹھی تھیں اور پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14مقتولین اور ان کے لواحقین ،31اگست کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے مرنے والے 3افراد اور ان کے عزیزواقارب،جیلوں،حوالاتوں اور ہسپتالوں میں رسوا ہوتے سینکڑوں بے کس و بے بس اور لاچار انقلابی دھرنے والے اور مہینوں بھوک،پیاس برداشت کرکے بے یارومددگار گھروں سے دور برستی بارشوں اور چلچلاتی دھوپوں میں بیٹھے رہے وہ ہزاروں لوگ جو ڈاکٹر طاہر القادری کے خود ساختہ انقلاب کی بھینٹ چڑھ گئے ،ان کی لچھے دار تقریروں ،مذہبی دلفریبیوں اور چرب زبانی کی نذر ہوگئے ۔طاہر القادری آئے یا لائے گئے،خود گئے یا بھجوائے گئے ،کوئی ملکی ایجنڈا تھا یایہ بین الاقوامی سازش تھی ،اس کہانی سے پردہ بھی ضروراٹھے گا ،مگر یہ طے ہے کہ ہمارے ہاں ،جہاں آدھا ملک گنوا کر بھی ابھی تک لڑائیاں لڑی جارہی ہوں ،شازشیں ہو رہی ہوں،مذہب کے نام پر منافقت نہ تھمی ہو ، اقتدار کی ہوس نہ مِٹی ہو اور جہاں مفادات کی گاڑی رکنے کا نام ہی نہ لے رہی ہو، وہاں ڈاکٹر قادری جیسے لوگ جہالت اور عقیدت سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور لوگوں کو بے وقوف بناتے رہیں گے ۔جہاں 67سالوں بعد بھی معذور جمہوریت بیساکھیو ں پر ہو اور جہاں 6سالہ بچی کی عزت اور 70سالہ ایدھی کا گھرتک محفوظ نہ ہو وہاں کرتب باز، مداری اور سرکسی جوکر کبھی بے روز گار نہیں ہوں گے،جہاں گھر کے نلکے سے پانی نہ آئے تو امریکی سازش ،چلتا چولہا بند ہو جائے تو یہودیوں کی کارستانی اور جہاں صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہو کہ اگر ’’امریکہ مردہ باد‘‘ ریلی میں امریکی ویزا کاوٗنٹر کھل جائے تو پل بھر میں جلسہ گاہ ء کیا اسٹیج تک خالی ہو جائے وہاں گلو بٹ کے ڈنڈے سے طاہر القادری کے ایجنڈے تک ’’سب مایا ہے ‘‘ ۔

’’سب مایا ہے ‘‘

- Posted in Amaal Nama by with comments

قرآن پاک میں ہے کہ ’’جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے ‘‘۔ رسول ؐ خدا کا فرمان ہے کہ ’’مومن بزدل ہو سکتا ہے ،خائن ہو سکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہو سکتا ‘‘۔امام غزالی کہتے ہیں کہ ’’سب انسان مردہ ہیں زندہ وہ ہیں جو علم والے ہیں۔سب علم والے سوئے ہوئے ہیں بیدار وہ ہیں جو عمل والے ہیں۔ تمام عمل والے گھاٹے میں ہیں نفع والے وہ ہیں جو اخلاص والے ہیں اور سب اخلاص والے خطرے میں ہیں،صرف وہ کامیاب ہیں جو تکبر سے پاک ہیں ‘‘۔دو ماہ پہلے پروفیسر احمد رفیق نے کہا کہ اگر ڈاکٹر قادری کی سب باتیں سچ مان لی جائیں تو پھر نعوذ بااللہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ امام مہدی ہیں ۔جھنگ کے ایک لوئر مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھنے اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی سے متاثر ہو کر ان کی کتاب ’’منہاج القرآن‘‘ کے نام پر اپنی جماعت بنانے والے ڈاکٹر قادری کے قول وفعل کے انہی تضادات پر شریف خاندان سے انہیں متعارف کروانے اور عبدالشکور سے طاہر القادری بنانے والے عراق بدر ان کے روحانی پیشوا علاؤالدین (ایوب ،بھٹو اور ضیاء بھی جن کے متعقدین میں شمار ہوتے تھے) نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’طاہر القادری ہر کام میں جلد بازی کر جاتے ہیں اور طاہر القادری کا سب سے بڑا حریف طاہر القادری ہی ہے ‘‘۔ یورپین فتوے،گرجا گھروں کی تعمیر یا ویٹی کن سے رابطے ،اُنہوں نے ہر وہ کام کیا جس سے ان کی ذات کو فائدہ ہو ایاہو سکتا تھا۔ یہ ڈاکٹر طاہر القادری ہی تھے کہ جنہوں نے توہین رسالت قانون کے حوالے سے کہا کہ ’’اس قانون کا اطلاق ہر شخص پر ہوتا ہے اور ضیاء الحق دور میں میری جدوجہد اور ایک موقع پر میرے 18گھنٹوں کے دلائل اس قانون کے بننے کی بنیاد بنے ‘‘پھر یہی ڈاکٹر صاحب تھے کہ جنہوں نے کینڈا پہنچ کر مغرب کو کچھ اس طرح خوش کیا ’’توہین رسالت کا قانون غیر مسلموں پر لاگو نہیں ہوتا اور اس کی تیاری میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے ‘‘۔ دو ماہ بعد ڈینش ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ دو قدم اور آگے بڑھ گئے ’’توہین رسالت کے قانون پر مجھے تحفظات ہیں‘‘۔ ایک بار فرمایا ’’رسول ؐ پاک میرے خواب میں آئے اور اُنہوں نے مجھے کہا کہ طاہر میں پاکستان میں تمہارا مہمان بننا چاہتا ہوں ،لہذا میرے تمام انتظامات تم کرو۔شدید ردِعمل ظاہر ہوا تو 6ہفتوں میں ہی مکر گئے ۔لندن میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میں نے عالم روحیہ (نیند ،خواب میں) میں امام ابو حنیفہ سے 15سے20سال تک تعلیم حاصل کی ۔چند ماہ بعد حیدر آباد میں تقریرکرتے ہوئے یہ مدت 9سال کر دی ۔اور پھر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے ’’میں گذشتہ 35برسوں سے فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھ رہا ہوں ( اگر یہ مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ساری رات سونے کی بجائے عبادت کرتے رہتے تھے۔اب اگر وہ سو تے نہیں تھے تو پھر خواب میں امام ابو حنیفہ سے تعلیم کہاں اور کیسے حاصل کرلی ۔اور اگر سوتے تھے تو پھر فجر کی نماز عشاء کے وضو سے کیسے پڑھی کیونکہ سونے سے تو وضو ہی نہیں رہتا ) پھر دھرنے کی تقریروں میں آپ کا یہ کہنا کہ ’’یہ پارلیمنٹ جعلی ہے اور یہ نظام باطل ہے (لیکن پھر خود ہی اس انتخابی نظام کا حصہ بننے کا اعلان فرمادیا ) پھر فرمایا کہ ’’وزیراعظم سمیت سب کو جیلوں میں بھجوا کر واپس جائیں گے (مگر ایک ماہ بعد ہی اپنے مقدموں پر ڈیل کر کے چلتے بنے) ۔ہم کفن پہنیں گے یا یہ نظام اور’’ دھرنے والو اگر مقاصد کے حصول سے پہلے میں بھی واپس چلا جاؤں تو مجھے بھی شہید کر دینا‘‘۔یہ توصرف چند مثالیں ہیں آپ نے تو جوش خطابت اورذاتی شہرت کے لیئے اتنے یو ٹرن لیئے کہ خدا کی پناہ ۔ڈیڑھ ماہ پہلے میں نے ٹیلی فون پر حال احوال پوچھنے کے بعد کہا کہ ڈاکٹر صاحب امام خمینی بننے کا شوق ابھی بھی ہے یا اب کچھ اور بننے کا ارادہ ہے ۔قسطوں میں ہنسنے کے بعد کہنے لگے کہ’’ تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں‘‘ ۔یہ تب کی بات ہے کہ جب نواز شریف پہلی بار وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تھے ۔’’ایک دن میں منہاج القرآن کے اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ بتا یا گیا کہ نواز شریف ملنے آرہے ہیں ۔تقریباً آدھے گھنٹے بعداکیلے نواز شریف سیدھے میرے کمرے میں آئے ، دروازہ بند کر کے اندر سے کنڈی لگائی اور پھر میرے سامنے کھڑے ہو کر انتہائی سنجیدگی سے بولے ’’ڈاکٹر صاحب سچ سچ بتائیں کہ کہیں آپ اما م مہدی تو نہیں ہیں ‘‘۔نہیں بالکل نہیں۔میں شدیدحیرانی میں بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔تو پھر آپ کون ہیں ۔انتہائی سنجیدہ نواز شریف نے اگلا سوال کیا ۔میاں صاحب چھوڑیں آپ کن چکروں میں پڑ گئے ۔میں آگے بڑھ کر میاں صاحب کو گلے ملا اور اِنہیں بازو سے پکڑ کر کرسی پر بٹھادیا۔ڈاکٹر صاحب اب تو بتا دیں کہ آپ کون ہیں،جونہی ڈاکٹر قادری نے بات مکمل کی تو میں نے پوچھا ۔ میں اللہ کا بندہ اور عاشقِ رسول ؐ ہوں ۔طاہر القادری نے جھٹ سے جواب دیا۔ڈاکٹر صاحب سنا ہے کہ آپ دھرنا ختم کر کے جارہے ہیں ۔میں اپنے اصل موضوع کی طرف آیا ۔آ پکو کیا لگتا ہے کہ میں چلا جاؤں گا۔جواب دینے کی بجائے ڈاکٹر قادری نے الٹا سوال کر دیا ۔ عمران خان کو یہ پیغام پہنچانا کہ اب مزید میں دن بھر آپ کے دھرنے کی چوکیداری نہیں کر سکتا ، حکومت سے ون ٹو ون بات چیت شروع کر دینی اور پھر آپ کا بدلا بدلا لہجہ،یہ سب دیکھ کر تو یہی لگتا ہے ہے کہ آپ جا رہے ہیں ۔میں نے تفصیل سے سب کچھ بتایا ۔ہم بالکل بھی نہیں جارہے ۔انقلابی مقاصد کے حصول تک دھرنا جاری رہے گا اور ان افواہوں پر کان نہ دھریں یہ شکست خوردہ حکومت کی شرارتیں ہیں ۔ڈاکٹر قادری نے انتہائی اعتماد بھرے لہجے میں اپنی بات مکمل کی۔لیکن اس گفتگو کے ٹھیک 25دن بعد جب وہ اچانک دھرنا ختم کر کے چلے گئے تو مجھے بالکل بھی حیرانی نہیں ہوئی ۔ہاں البتہ چند دن قبل کینیڈا کے خوشگوار موسم اور پرسکون ماحول میں کمال اطمینان سے برگر کھاتے طاہر القادری کو دیکھا تو مجھے 10سالہ شازیہ ضرور یاد آئی جس کی ماں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس گردی کا شکار ہوئی اور جو سب سے ایک سوال ہی پوچھتی ہے کہ میری ماں کا کیا قصور تھا ۔وہ بوڑھی اماں بار بار نظروں میں ضرور پھرنے لگی جو اپنے بیٹے کے قاتلوں کو پکڑوانے کیلئے دھرنے میں پہنچ گئی تھی ۔ مظفر گڑھ کاوہ خاندان ذہن میں ضرور آگیا جن کی خواتین وڈیروں کے ہاتھوں عزتیں لٹوانے کے بعد ڈاکٹر صاحب کو مسیحا سمجھ بیٹھی تھیں اور پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14مقتولین اور ان کے لواحقین ،31اگست کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے مرنے والے 3افراد اور ان کے عزیزواقارب،جیلوں،حوالاتوں اور ہسپتالوں میں رسوا ہوتے سینکڑوں بے کس و بے بس اور لاچار انقلابی دھرنے والے اور مہینوں بھوک،پیاس برداشت کرکے بے یارومددگار گھروں سے دور برستی بارشوں اور چلچلاتی دھوپوں میں بیٹھے رہے وہ ہزاروں لوگ جو ڈاکٹر طاہر القادری کے خود ساختہ انقلاب کی بھینٹ چڑھ گئے ،ان کی لچھے دار تقریروں ،مذہبی دلفریبیوں اور چرب زبانی کی نذر ہوگئے ۔طاہر القادری آئے یا لائے گئے،خود گئے یا بھجوائے گئے ،کوئی ملکی ایجنڈا تھا یایہ بین الاقوامی سازش تھی ،اس کہانی سے پردہ بھی ضروراٹھے گا ،مگر یہ طے ہے کہ ہمارے ہاں ،جہاں آدھا ملک گنوا کر بھی ابھی تک لڑائیاں لڑی جارہی ہوں ،شازشیں ہو رہی ہوں،مذہب کے نام پر منافقت نہ تھمی ہو ، اقتدار کی ہوس نہ مِٹی ہو اور جہاں مفادات کی گاڑی رکنے کا نام ہی نہ لے رہی ہو، وہاں ڈاکٹر قادری جیسے لوگ جہالت اور عقیدت سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور لوگوں کو بے وقوف بناتے رہیں گے ۔جہاں 67سالوں بعد بھی معذور جمہوریت بیساکھیو ں پر ہو اور جہاں 6سالہ بچی کی عزت اور 70سالہ ایدھی کا گھرتک محفوظ نہ ہو وہاں کرتب باز، مداری اور سرکسی جوکر کبھی بے روز گار نہیں ہوں گے،جہاں گھر کے نلکے سے پانی نہ آئے تو امریکی سازش ،چلتا چولہا بند ہو جائے تو یہودیوں کی کارستانی اور جہاں صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہو کہ اگر ’’امریکہ مردہ باد‘‘ ریلی میں امریکی ویزا کاوٗنٹر کھل جائے تو پل بھر میں جلسہ گاہ ء کیا اسٹیج تک خالی ہو جائے وہاں گلو بٹ کے ڈنڈے سے طاہر القادری کے ایجنڈے تک ’’سب مایا ہے ‘‘ ۔

!کپتان کے ناراض دوست

- Posted in Amaal Nama by with comments

گزشتہ ہفتہ کی صبح بہت عرصے کے بعد جب میں آج کے صوفی ،درویش اور استادوں کے استاد پروفیسر احمد رفیق اختر سے ملنے کیلئے گھر سے نکلا تو ملاقات کے علاوہ مقصد ایک ہی تھا کہ معلوم کروں کہ 7سالوں سے عمران خان کی سیاسی ،اخلاقی اور روحانی تربیت کرنے والے پروفیسر صاحب اپنے لاڈلے کپتان سے اچانک ناراض کیوں ہوگئے ہیں ۔دوماہ پہلے تک تو سب کچھ ٹھیک تھا کیونکہ 13اور 14اگست کی درمیانی رات کو جب آزادی مارچ کے زمان پارک سے نکلنے سے چند گھنٹے پہلے یہ اطلاعات آنے لگیں کہ پنجاب حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ، کچھ گڑ بڑ ہو سکتی ہے یا کوئی بڑی شرارت ہو سکتی ہے ۔تو یہ پروفیسر احمد رفیق اختر اور ان کے ایک سنیئر صحافی دوست ہی تھے کہ جنہوں نے سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو مدد کیلئے کہا۔جنرل کیانی نے شہباز شریف سے بات کی اور یوں 14اگست کو آزادی مارچ پر امن طریقے سے لاہور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ۔پھر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب چند ہفتے قبل آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء آبپارہ کے اردگرد دھرنا دیئے بیٹھے تھے ۔عمران خان روزانہ نواز شریف سے استعفٰے کا مطالبہ کیئے جار ہے تھے اور حکومت پر دن بدن بڑھتے دباؤ کی وجہ سے بہت سوں کا خیال تھا کہ شاید وزیراعظم مستعفی ہو ہی جائیں۔انہی دنوں کی ایک دوپہر کو میں نے پروفیسر احمد رفیق اختر سے ٹیلی فون پر پوچھا کہ کیا میاں نواز شریف استعفٰی دیدیں گے ؟ تب پہلی بار مجھے معلوم پڑا کہ پروفیسر صاحب اور کپتان میں سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔کیونکہ اُس دن کپتان کے اس مطالبے کو احمقانہ اور بچگانہ قراد دے کر پروفیسر صاحب نے یہ قصہ سنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’گرمیوں کی ایک شام خلیل ملک مرحوم اٹک جیل میں قید میاں نواز شریف کا پیغام لے کر میرے پاس آئے ۔میاں صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ مجھے کھانے میں زہر دے کر مار دیا جائے گا ۔لہذا میرے لیئے دعا کریں اور مجھے پڑھنے کیلئے کچھ دیں ۔میں نے میاں صاحب کوپڑھنے کیلئے کچھ تسبیحات بجھوا دیں ۔کچھ عرصہ بعد جلا وطن ہوجانے والے میاں نواز شریف کا جدہ سے فون آیا کہنے لگے ’’پروفیسر صاحب اللہ کے فضل وکرم کے بعد میں آپ کے دیئے ہوئے ذکر کی وجہ سے بچ گیا ‘‘۔ یہ واقعہ سنا کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اور نواز شریف سے متعلق جتنا میر اعلم ہے بلاشبہ میاں صاحب کی ٹیم ہمیشہ نالائق ترین لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔و ہ ہر فیصلہ کرنے میں دیر لگا دیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں وہ واقعی کمزور ہیں مگر استعفٰی نہ دینے کے حوالے سے وہ بہت دلیر ہیں ۔وہ کبھی استعفٰی نہیں دیں گے۔ پھر ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے پروفیسر صاحب کے یہ خیالات بھی میرے لیئے کسی انکشاف سے کم نہ تھے کہ ’’ہر اگلے لمحے اپنی پچھلی بات سے مکرنے ،ہر اندازے سے زیادہ چالاک اور خود کو پاکستان کے امام خمینی سمجھنے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے سب لوگ ایک سحر میں جکڑے ہوئے برین واشڈ ہیں اور ان کی ایک عرصے سے برین واشنگ ہو رہی تھی ۔ان کے مارچ اور دھرنے کا مقصد پاکستانی اداروں کو آپس میں لڑا کر یہاں عراق،شام اور لیبیا جیسی صورتحال پیدا کرنا تھی ۔ مگر یہ ناکام ہوئے کیونکہ ہماری فوج مضبوط ہے اور جہاں فوج مضبو ط ہوتی ہے وہاں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔مگر بقول پروفیسر صاحب اس سازش میں یہود ،ہنود ،ایک مذہبی جماعت سمیت عالمی ایجنسیاں براہ راست ملوث تھیں ۔‘‘ میرا دماغ نجانے ابھی اور کہاں کہاں بھٹکتا اگر گھنٹہ بھر کی ڈرائیوکے بعد میں پروفیسر صاحب کی رہائش گاہ پر نہ پہنچ چکا ہوتا ۔سامان اور انسان کے بغیر خالی پڑے گراؤنڈ فلور کی سیڑھیاں چڑھ کر جب میں پروفیسر صاحب کے بیڈ روم ،ڈرائنگ روم اور سٹڈی روم (تھری ان ون) کمرے میں پہنچا تو باہر دن کے 11بجے جس زدہ صبح ایک گرم دوپہر میں ڈھل رہی تھی جبکہ کمرے کے اندر ٹھنڈک ایسی تھی کہ سردیوں کا گمان ہو رہا تھا ۔تازہ تازہ ائیر کنڈیشنر بند کر کے آدھے لحاف کے اندر اور آدھے باہر پروفیسر صاحب لیٹے لیٹے مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میں ان کے سامنے پڑی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گیا ۔کپتان سے کیا غلطی ہوگئی کہ آپ نہ صرف ناراض ہیں بلکہ اب آپ اُنہیں مِل ہی نہیں رہے؟علیک سلیک ،حال احوال اور چند رسمی جملوں کے بعد میں نے اپنا اصل موضوع چھیڑا ۔پروفیسر صاحب پہلے مسکرائے ،سگریٹ سلگایا اور پھر بولے:ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک انسان جلد باز ہے ‘‘امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’آخری چیز جو انسان سے نکلتی ہے وہ حبّ جاہ ہے‘‘عمران بھولا ہے ۔اتنا بھولا کہ اپنے بیٹوں کو ملتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ اگلی مرتبہ تم اپنے والد وزیراعظم عمران خان سے مِلو گے۔آزادی مارچ سے چند گھنٹے پہلے تک مجھ سے پوچھتا رہاکہ کیا 40ہزار لوگ لاہور سے نکل آئیں گے ۔میں ہر بار کہتا پورا لاہور نکلے گا وہ راتوں کو اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔کہتا ہے 63سال کا ہوگیا ہوں کہیں کچھ کرنے سے پہلے مر ہی نہ جاؤں ۔مگر وہ جتنا سیدھا ہے اُس سے زیادہ جلد باز ہے اور حبّ جاہ میں جکڑا ہوا۔اپنی جلد بازی کی وجہ سے وہ آج بندگلی میں ہے ۔7سال پہلے جب وہ پہلی بار میرے پاس آیا تو رات 8بجے سے صبح 4بجے تک بیٹھا سوال کرتا رہا ،جواب سنتا رہا۔میں خوش تھا کہ اچھا شاگرد مل گیا اسے تیار کروں گا تو ملک کا بھلا ہوگا ۔مگر میں غلطی پر تھا،لگتا ہے کہ میری محنت رائیگاں چلی گئی ہے ۔ کپتان اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ چائے کے ساتھ سگریٹ پیتے پروفیسر صاحب سے میں نے اگلا سوال کیا تو نیا سگریٹ سلگا کر بولے! عمران خان بہت خود پسند ہے اور خود پسندی وہاں ہوتی ہے جہاں عقل کم ہو ۔اس نے اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھا ۔وہ اپنی باتوں سے مگر گیا ہے اور وہ اپنے مشن سے پھر گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج اُس کے دوست ،خیرخواہ اور ضمانتی سب شرمندہ ہیں ۔ ہاں اگر آج بھی اسے عقل آجائے اور وہ دل بڑا کرکے اپنی غلطیاں تسلیم کر لے تو اُس کا مستقبل ہے ۔یہ تو الیکڑانک میڈیا کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے دھرنے اتنے عرصے تک چل گئے ورنہ تو بہت پہلے کے ختم ہو چکے ہوتے ۔اور پھر مجھے کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ عمران کیسا لیڈر ہے جو کہتا ہے کہ عوامی پریشر کی وجہ سے میں یہ سب کچھ کر بیٹھاہوں ،فلاں پریشر کی وجہ سے وہ کر رہا ہوں یا فلاں پریشر کی وجہ سے مجھے وہ کرنا پڑا۔بھائی لیڈر شپ کے فیصلے ہر پریشر سے بالاہوتے ہیں ۔بہت پہلے میں نے عمران خان کو قائداعظم ؒ کا یہ واقعہ سنایا تھا۔ آج تمہیں سنا رہاہوں ،خود فیصلہ کرو کہ لیڈر شپ کو کیسا ہونا چاہیے ۔’’تقسیم ہندوستان سے پہلے کی بات ہے ۔ جلسہ ہو رہا ہوتا ہے ۔قائداعظم محمد علی جناح مہمان خصوصی ہیں ۔ قائد اعظم تقریرکرنے آتے ہیں ۔ایک بہت بڑا ہجوم نعرہ زن۔قائداعظم زندہ بار کے نعرے۔ قائداعظم کہتے ہیں خاموش ہو جائیے مگر لوگ مسلسل نعرہ زن ہیں ۔چند لمحوں بعد قائد دوبارہ کہتے ہیں خاموش ہو جائیے ،لیکن پھر بھی جب نعرے نہیں رکتے تو قائداعظم اسٹیج سے اتر کر گاڑی میں بیٹھ کر واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں‘‘ ۔نواز حکومت کے مستقبل کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے ؟جونہی پروفیسر صاحب خاموش ہوئے تومیں نے اگلا سوال کر دیا ۔یکم مئی 2013کو موجودہ انتخابات سے 10دن پہلے ایوان اقبال لاہور والا میرا لیکچر سن لیں ۔(پروفیسر صاحب نے بولنا شروع کیا ) یہ لیکچر شائع بھی ہوا اور یوٹیو ب پر موجود بھی ہے ۔میں نے انتخابات سے پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’موجودہ انتخابات میں عمران خان نہیں مسلم لیگ (ن) جیت کر حکومت بنائے گی۔حکومت کو پہلے دن سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور کچھ عرصہ کے بعد اسے سخت مظاہروں اور احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔مگر حکومت ان تمام مشکل مراحل سے تو نکل جائے گی ۔لیکن اگر حکمرانوں نے ڈلیور نہ کیا تو پھر دو اڑھائی سال کے بعد سب کو گھر جانا پڑے گا اور (عمران خان نہیں ) نئے لوگ آئیں گے جو حقیقی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ نظام بھی بدل دیں گے ۔ دوستو ! یہ پانچ فیصدہے اُس سب کا جو پروفیسر صاحب نے بتایا اور جو کچھ انہوں نے سنایا ۔خواہش تھی کہ سب کچھ لکھ پاتا مگر مجبوری یہ ہے کہ پروفیسر صاحب پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کے قصے تو سناتے رہے ،وہ ہو چکی اور ہونے والی سازشوں سے پردے تو اٹھاتے رہے اور وہ دوست نما دشمنوں کا پتا تو بتاتے رہے مگر ساتھ ساتھ ہی اپنی گفتگو کو آف دی ریکارڈ کے تڑکے بھی لگاتے رہے ۔باقی پروفیسر صاحب سے اس بار ملنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ جہالت غربت کا دوسرا نام ہے اور بے خبری میں جہالت ہوتی ہے مگر اس ملاقات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہو ں کہ بعض اوقات لاعلمی بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔کاش پروفیسر صاحب یہ سب کچھ نہ بتاتے اور کاش میںیہ سب کچھ نہ سنتا۔کیونکہ اپنے بڑوں کو کپڑوں کے بنا دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔

!کپتان کے ناراض دوست

- Posted in Amaal Nama by with comments

گزشتہ ہفتہ کی صبح بہت عرصے کے بعد جب میں آج کے صوفی ،درویش اور استادوں کے استاد پروفیسر احمد رفیق اختر سے ملنے کیلئے گھر سے نکلا تو ملاقات کے علاوہ مقصد ایک ہی تھا کہ معلوم کروں کہ 7سالوں سے عمران خان کی سیاسی ،اخلاقی اور روحانی تربیت کرنے والے پروفیسر صاحب اپنے لاڈلے کپتان سے اچانک ناراض کیوں ہوگئے ہیں ۔دوماہ پہلے تک تو سب کچھ ٹھیک تھا کیونکہ 13اور 14اگست کی درمیانی رات کو جب آزادی مارچ کے زمان پارک سے نکلنے سے چند گھنٹے پہلے یہ اطلاعات آنے لگیں کہ پنجاب حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ، کچھ گڑ بڑ ہو سکتی ہے یا کوئی بڑی شرارت ہو سکتی ہے ۔تو یہ پروفیسر احمد رفیق اختر اور ان کے ایک سنیئر صحافی دوست ہی تھے کہ جنہوں نے سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو مدد کیلئے کہا۔جنرل کیانی نے شہباز شریف سے بات کی اور یوں 14اگست کو آزادی مارچ پر امن طریقے سے لاہور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ۔پھر مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب چند ہفتے قبل آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء آبپارہ کے اردگرد دھرنا دیئے بیٹھے تھے ۔عمران خان روزانہ نواز شریف سے استعفٰے کا مطالبہ کیئے جار ہے تھے اور حکومت پر دن بدن بڑھتے دباؤ کی وجہ سے بہت سوں کا خیال تھا کہ شاید وزیراعظم مستعفی ہو ہی جائیں۔انہی دنوں کی ایک دوپہر کو میں نے پروفیسر احمد رفیق اختر سے ٹیلی فون پر پوچھا کہ کیا میاں نواز شریف استعفٰی دیدیں گے ؟ تب پہلی بار مجھے معلوم پڑا کہ پروفیسر صاحب اور کپتان میں سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا۔کیونکہ اُس دن کپتان کے اس مطالبے کو احمقانہ اور بچگانہ قراد دے کر پروفیسر صاحب نے یہ قصہ سنایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’گرمیوں کی ایک شام خلیل ملک مرحوم اٹک جیل میں قید میاں نواز شریف کا پیغام لے کر میرے پاس آئے ۔میاں صاحب کا کہنا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ مجھے کھانے میں زہر دے کر مار دیا جائے گا ۔لہذا میرے لیئے دعا کریں اور مجھے پڑھنے کیلئے کچھ دیں ۔میں نے میاں صاحب کوپڑھنے کیلئے کچھ تسبیحات بجھوا دیں ۔کچھ عرصہ بعد جلا وطن ہوجانے والے میاں نواز شریف کا جدہ سے فون آیا کہنے لگے ’’پروفیسر صاحب اللہ کے فضل وکرم کے بعد میں آپ کے دیئے ہوئے ذکر کی وجہ سے بچ گیا ‘‘۔ یہ واقعہ سنا کر پروفیسر صاحب نے کہا کہ جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اور نواز شریف سے متعلق جتنا میر اعلم ہے بلاشبہ میاں صاحب کی ٹیم ہمیشہ نالائق ترین لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔و ہ ہر فیصلہ کرنے میں دیر لگا دیتے ہیں اور بہت سارے معاملات میں وہ واقعی کمزور ہیں مگر استعفٰی نہ دینے کے حوالے سے وہ بہت دلیر ہیں ۔وہ کبھی استعفٰی نہیں دیں گے۔ پھر ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے پروفیسر صاحب کے یہ خیالات بھی میرے لیئے کسی انکشاف سے کم نہ تھے کہ ’’ہر اگلے لمحے اپنی پچھلی بات سے مکرنے ،ہر اندازے سے زیادہ چالاک اور خود کو پاکستان کے امام خمینی سمجھنے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے سب لوگ ایک سحر میں جکڑے ہوئے برین واشڈ ہیں اور ان کی ایک عرصے سے برین واشنگ ہو رہی تھی ۔ان کے مارچ اور دھرنے کا مقصد پاکستانی اداروں کو آپس میں لڑا کر یہاں عراق،شام اور لیبیا جیسی صورتحال پیدا کرنا تھی ۔ مگر یہ ناکام ہوئے کیونکہ ہماری فوج مضبوط ہے اور جہاں فوج مضبو ط ہوتی ہے وہاں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔مگر بقول پروفیسر صاحب اس سازش میں یہود ،ہنود ،ایک مذہبی جماعت سمیت عالمی ایجنسیاں براہ راست ملوث تھیں ۔‘‘ میرا دماغ نجانے ابھی اور کہاں کہاں بھٹکتا اگر گھنٹہ بھر کی ڈرائیوکے بعد میں پروفیسر صاحب کی رہائش گاہ پر نہ پہنچ چکا ہوتا ۔سامان اور انسان کے بغیر خالی پڑے گراؤنڈ فلور کی سیڑھیاں چڑھ کر جب میں پروفیسر صاحب کے بیڈ روم ،ڈرائنگ روم اور سٹڈی روم (تھری ان ون) کمرے میں پہنچا تو باہر دن کے 11بجے جس زدہ صبح ایک گرم دوپہر میں ڈھل رہی تھی جبکہ کمرے کے اندر ٹھنڈک ایسی تھی کہ سردیوں کا گمان ہو رہا تھا ۔تازہ تازہ ائیر کنڈیشنر بند کر کے آدھے لحاف کے اندر اور آدھے باہر پروفیسر صاحب لیٹے لیٹے مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میں ان کے سامنے پڑی پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ گیا ۔کپتان سے کیا غلطی ہوگئی کہ آپ نہ صرف ناراض ہیں بلکہ اب آپ اُنہیں مِل ہی نہیں رہے؟علیک سلیک ،حال احوال اور چند رسمی جملوں کے بعد میں نے اپنا اصل موضوع چھیڑا ۔پروفیسر صاحب پہلے مسکرائے ،سگریٹ سلگایا اور پھر بولے:ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک انسان جلد باز ہے ‘‘امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’آخری چیز جو انسان سے نکلتی ہے وہ حبّ جاہ ہے‘‘عمران بھولا ہے ۔اتنا بھولا کہ اپنے بیٹوں کو ملتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ اگلی مرتبہ تم اپنے والد وزیراعظم عمران خان سے مِلو گے۔آزادی مارچ سے چند گھنٹے پہلے تک مجھ سے پوچھتا رہاکہ کیا 40ہزار لوگ لاہور سے نکل آئیں گے ۔میں ہر بار کہتا پورا لاہور نکلے گا وہ راتوں کو اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے ۔کہتا ہے 63سال کا ہوگیا ہوں کہیں کچھ کرنے سے پہلے مر ہی نہ جاؤں ۔مگر وہ جتنا سیدھا ہے اُس سے زیادہ جلد باز ہے اور حبّ جاہ میں جکڑا ہوا۔اپنی جلد بازی کی وجہ سے وہ آج بندگلی میں ہے ۔7سال پہلے جب وہ پہلی بار میرے پاس آیا تو رات 8بجے سے صبح 4بجے تک بیٹھا سوال کرتا رہا ،جواب سنتا رہا۔میں خوش تھا کہ اچھا شاگرد مل گیا اسے تیار کروں گا تو ملک کا بھلا ہوگا ۔مگر میں غلطی پر تھا،لگتا ہے کہ میری محنت رائیگاں چلی گئی ہے ۔ کپتان اور تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ چائے کے ساتھ سگریٹ پیتے پروفیسر صاحب سے میں نے اگلا سوال کیا تو نیا سگریٹ سلگا کر بولے! عمران خان بہت خود پسند ہے اور خود پسندی وہاں ہوتی ہے جہاں عقل کم ہو ۔اس نے اپنے وعدوں کا پاس نہیں رکھا ۔وہ اپنی باتوں سے مگر گیا ہے اور وہ اپنے مشن سے پھر گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج اُس کے دوست ،خیرخواہ اور ضمانتی سب شرمندہ ہیں ۔ ہاں اگر آج بھی اسے عقل آجائے اور وہ دل بڑا کرکے اپنی غلطیاں تسلیم کر لے تو اُس کا مستقبل ہے ۔یہ تو الیکڑانک میڈیا کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے دھرنے اتنے عرصے تک چل گئے ورنہ تو بہت پہلے کے ختم ہو چکے ہوتے ۔اور پھر مجھے کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ عمران کیسا لیڈر ہے جو کہتا ہے کہ عوامی پریشر کی وجہ سے میں یہ سب کچھ کر بیٹھاہوں ،فلاں پریشر کی وجہ سے وہ کر رہا ہوں یا فلاں پریشر کی وجہ سے مجھے وہ کرنا پڑا۔بھائی لیڈر شپ کے فیصلے ہر پریشر سے بالاہوتے ہیں ۔بہت پہلے میں نے عمران خان کو قائداعظم ؒ کا یہ واقعہ سنایا تھا۔ آج تمہیں سنا رہاہوں ،خود فیصلہ کرو کہ لیڈر شپ کو کیسا ہونا چاہیے ۔’’تقسیم ہندوستان سے پہلے کی بات ہے ۔ جلسہ ہو رہا ہوتا ہے ۔قائداعظم محمد علی جناح مہمان خصوصی ہیں ۔ قائد اعظم تقریرکرنے آتے ہیں ۔ایک بہت بڑا ہجوم نعرہ زن۔قائداعظم زندہ بار کے نعرے۔ قائداعظم کہتے ہیں خاموش ہو جائیے مگر لوگ مسلسل نعرہ زن ہیں ۔چند لمحوں بعد قائد دوبارہ کہتے ہیں خاموش ہو جائیے ،لیکن پھر بھی جب نعرے نہیں رکتے تو قائداعظم اسٹیج سے اتر کر گاڑی میں بیٹھ کر واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں‘‘ ۔نواز حکومت کے مستقبل کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے ؟جونہی پروفیسر صاحب خاموش ہوئے تومیں نے اگلا سوال کر دیا ۔یکم مئی 2013کو موجودہ انتخابات سے 10دن پہلے ایوان اقبال لاہور والا میرا لیکچر سن لیں ۔(پروفیسر صاحب نے بولنا شروع کیا ) یہ لیکچر شائع بھی ہوا اور یوٹیو ب پر موجود بھی ہے ۔میں نے انتخابات سے پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’موجودہ انتخابات میں عمران خان نہیں مسلم لیگ (ن) جیت کر حکومت بنائے گی۔حکومت کو پہلے دن سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور کچھ عرصہ کے بعد اسے سخت مظاہروں اور احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔مگر حکومت ان تمام مشکل مراحل سے تو نکل جائے گی ۔لیکن اگر حکمرانوں نے ڈلیور نہ کیا تو پھر دو اڑھائی سال کے بعد سب کو گھر جانا پڑے گا اور (عمران خان نہیں ) نئے لوگ آئیں گے جو حقیقی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ نظام بھی بدل دیں گے ۔ دوستو ! یہ پانچ فیصدہے اُس سب کا جو پروفیسر صاحب نے بتایا اور جو کچھ انہوں نے سنایا ۔خواہش تھی کہ سب کچھ لکھ پاتا مگر مجبوری یہ ہے کہ پروفیسر صاحب پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کے قصے تو سناتے رہے ،وہ ہو چکی اور ہونے والی سازشوں سے پردے تو اٹھاتے رہے اور وہ دوست نما دشمنوں کا پتا تو بتاتے رہے مگر ساتھ ساتھ ہی اپنی گفتگو کو آف دی ریکارڈ کے تڑکے بھی لگاتے رہے ۔باقی پروفیسر صاحب سے اس بار ملنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ جہالت غربت کا دوسرا نام ہے اور بے خبری میں جہالت ہوتی ہے مگر اس ملاقات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہو ں کہ بعض اوقات لاعلمی بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔کاش پروفیسر صاحب یہ سب کچھ نہ بتاتے اور کاش میںیہ سب کچھ نہ سنتا۔کیونکہ اپنے بڑوں کو کپڑوں کے بنا دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔